دریافتیں: پوشیدہ رازوں کا ظہور

الاكتشافات بوصفها ميلاد أسرار الغيب

شعراوی غیب کو دو قسموں میں بانٹتے ہیں: ایک وہ جس کے لیے اللہ نے کائنات میں مقدمات رکھے ہیں جن تک تحقیق پہنچ سکتی ہے، اور دوسرا وہ جس کے مقدمات نہیں اور جو اللہ جس کو چاہے عطا کرتا ہے۔ ان کے نزدیک علمی دریافتیں ان رازوں کا ظہور ہیں جن کے ظاہر ہونے کی اللہ نے اجازت دی، اور اللہ کے علم کا احاطہ اسی قدر ممکن ہے جتنا وہ چاہے 1 2 3۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

development-of-law-theology-institutions

خلاصہ

شعراوی کے نزدیک جسے لوگ دریافت کہتے ہیں وہ پہلے سے موجود ایک راز کا ظہور ہے جس کی اللہ نے اجازت دی۔ ایمان کہتا ہے کہ اللہ نے راز کو ظاہر ہونے کی اجازت دی 2 4۔

غیب کی دو قسمیں

جس غیب کے لیے اللہ کی کائنات میں مقدمات ہیں، وہ تحقیق اور تجربے سے پہنچا جا سکتا ہے۔ جس کے مقدمات نہیں، وہ اللہ اپنے چنیدہ بندوں کو عطا کرتا ہے، اور تحقیق سے اس کا کچھ معلوم نہیں ہوتا 3۔

اتفاق اور تحقیق

وہ کہتے ہیں کہ بہت سی دریافتیں دوسری تحقیق کے دوران اتفاق سے سامنے آئیں، اور ان کے نزدیک یہ محنت کا نہیں بلکہ فیض کا نتیجہ ہے 4۔

ابھی تک جانچ نہیں ہوئی

کشش اور اضافیت کی مثالیں شعراوی کی تمثیلیں ہیں، حقائق کے ماخذ نہیں۔ سائنس کی تاریخ، علمی رائے اور غیر سنی رائے کا موازنہ نہیں ہوا۔

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

کاٹنا (عض)· عدل· عدوی· عفو· عہد· أجل· أجير· أجنبي

ماخذ

  1. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1098
  2. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1100
  3. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1102
  4. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1101
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “دریافتیں: پوشیدہ رازوں کا ظہور”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/discoveries-as-hidden-secrets/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

کاٹنا (عض)

In the lexicon, add is gripping a thing with the teeth and holding it. If a person bites another without right and a wound results, the biter must pay the damages for the wound, assessed as a just award by experts. If one man bites another's hand and the bitten man pulls it free so that the biter's front teeth fall out, most jurists hold that there is no liability, relying on a prophetic judgement in such a case; the Shafi'is limit this to a bitten man who chose the easiest means of release, and the preferred Maliki view requires compensation.