جہاد کے لیے بادشاہ کا مطالبہ

طلب الملك للجهاد

شعراوی بنی اسرائیل کے سرداروں کا قصہ بیان کرتے ہیں جنہوں نے اپنے نبی سے بادشاہ مانگا تاکہ وہ اللہ کی راہ میں لڑیں۔ ان کے نزدیک نبی رہنمائی کرتا ہے، میدان کا حکم نہیں دیتا، اور یہ مطالبہ ان کے اپنے فائدے میں تھا جسے بعد میں انہوں نے ٹالا 1 2۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
شبه الجزيرة العربية قبل الإسلام
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

worship-and-the-pillars

خلاصہ

شعراوی بنی اسرائیل کے سرداروں کا قصہ بیان کرتے ہیں جنہوں نے اپنے نبی سے بادشاہ مانگا تاکہ وہ اس کے جھنڈے تلے لڑیں 1۔

نبی اور بادشاہ کا مقام

ان کے نزدیک نبوت امور کی نگرانی کرتی ہے مگر خود انہیں انجام نہیں دیتی، اور بادشاہ عمل کرتا ہے۔ اس لیے انہوں نے ایک بادشاہ مانگا جو انتظام کا بوجھ اٹھائے، اور نبوت حق کا مرجع رہے 3۔

مطالبے سے پیچھے ہٹنا

وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی نے خبردار کیا تھا کہ اگر جنگ فرض ہوئی تو وہ پیچھے ہٹ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گھروں اور بچوں سے نکالے گئے ہیں۔ جب جنگ فرض ہوئی تو تھوڑوں کے سوا سب پھر گئے، اور شعراوی اسے خود اپنے اور اپنے مقصد پر ظلم کہتے ہیں 4 5۔

ابھی تک جانچ نہیں ہوئی

یہ صرف شعراوی کی قراءت ہے۔ اس واقعے پر تاریخی اور تفسیری ماخذ، علمی رائے اور غیر سنی رائے کا موازنہ نہیں ہوا۔

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

حكم تارك الصلاة· أداء· اذان (نماز کی اطلاع: حکم، الفاظ، شرائط، سنتیں اور مؤذن کی صفات)· ہڈی (عظم)· خواہشات کی زینت اور دنیا کا متاع· اہل صفہ· الأرض مسجداً وطهوراً· الإنفاق في سبيل الله

ماخذ

  1. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1041
  2. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1044
  3. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1042
  4. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1043
  5. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1045
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “جہاد کے لیے بادشاہ کا مطالبہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/asking-for-a-king-for-jihad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

حكم تارك الصلاة

Al-Sallabi quotes Ali: whoever does not pray is an unbeliever. He then reports from al-Nawawi the dispute over one who neglects prayer while believing it obligatory: the majority (Malik, al-Shafi'i) hold him a sinner to be asked to repent, others hold him an unbeliever, a view ascribed to Ali; Abu Hanifa and the Kufans hold him not an unbeliever but to be disciplined.