کلالہ

الكلالة

شعراوی کے نزدیک کلالہ وہ وارث ہیں جن کا میت کے ساتھ نہ کوئی اصل ہو نہ فرع، اور یہاں حکم بہن بھائیوں سے متعلق ہے۔ وہ ماں شریک بہن بھائیوں (ایک چھٹا، زیادہ ہوں تو ایک تہائی) کو سگے یا باپ شریک بہن بھائیوں (دو بہنوں کے لیے دو تہائی) سے الگ کرتے ہیں 123۔

گہرائی

ایک نظر میں

جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

family-marriage-kinship

خلاصہ

شعراوی کے نزدیک کلالہ وہ وارث ہیں جن کا میت کے ساتھ نہ کوئی اصل ہو نہ فرع، اور یہاں حکم بہن بھائیوں سے متعلق ہے۔ وہ ماں شریک بہن بھائیوں کو سگے یا باپ شریک بہن بھائیوں سے الگ کرتے ہیں۔ 1

کلالہ کا مفہوم

وہ اس لفظ کو «اکلیل» سے ماخوذ بتاتے ہیں، یعنی وہ جو سر کو گھیرے ہوئے ہو: کلالہ وہ رشتہ دار ہیں جو انسان کو گھیرے ہوتے ہیں مگر نہ اس کی جڑ ہوتے ہیں نہ شاخ۔ 14

ماں شریک اور سگے یا باپ شریک بہن بھائی

ان کے مطابق چھٹے کا حکم اور جماعت کے لیے تہائی میں شرکت ماں شریک بہن بھائیوں سے متعلق ہے، اور دو بہنوں کے دو تہائی والی آیت سگے یا باپ شریک سے متعلق ہے۔ 23

تضاد کے اعتراض کا جواب

ان کا کہنا ہے کہ جو شخص کلالہ کے احکام میں ان جہتوں کو الگ کیے بغیر پڑھتا ہے اسے قرآن میں تضاد نظر آ سکتا ہے، اور یہ تفریق اس اشکال کو رفع کرتی ہے۔ 35

یہاں جانچا نہیں گیا

ان صفحات میں اس تفریق پر کوئی علمی رائے پیش نہیں کی گئی؛ اسے کسی متعین ماخذ کی ضرورت ہے (needs_source)۔

سوال پر آراء

سوال: کلالہ کون ہیں، اور کیا بہن بھائیوں کا حصہ ان کی جہت کے لحاظ سے بدلتا ہے؟

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunniبنیادی حوالہ

کلالہ کا حصہ بہن بھائیوں کی جہت کے مطابق مختلف ہے: ماں شریک، سگے یا باپ شریک

شعراوی کے مطابق چھٹے اور تہائی والی آیت ماں شریک بہن بھائیوں سے متعلق ہے، اور دو بہنوں کے دو تہائی والی آیت سگے یا باپ شریک بہن بھائیوں سے، ہر حکم اپنی جگہ پر ہے {cite:tafsir-sharawi-khawatir-scan-vol-2 p. 2031}{cite:tafsir-sharawi-khawatir-scan-vol-2 p. 2032}۔

قائل: محمد متولی الشعراوی

مزید آراء (1)

academic نقطۂ نظرثانوی رائے

کلالہ کی تفریق پر کوئی علمی مطالعہ ابھی شامل نہیں کیا گیا

اس حصے میں کوئی علمی رائے پیش نہیں کی گئی؛ اسے کسی متعین ماخذ کی ضرورت ہے (needs_source)۔ ان صفحات میں کوئی دوسری رائے نہیں جانچی گئی۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Part of
علم الفرائض

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

ملکیت کا بتدریجی انتقال· وصیت· خواتین کی وراثت· الأربعون 43 — ألحقوا الفرائض بأهلها· علم الفرائض· تاج محل· الأبوان· بیویوں کے درمیان عدل

ماخذ

  1. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p. 2028
  2. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p. 2031
  3. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p. 2032
  4. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p. 2030
  5. خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p. 2033
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “کلالہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/al-kalala/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

ملکیت کا بتدریجی انتقال

شعراوی کے مطابق میراث کی تقسیم دولت کو اولاد میں «بہاؤ» کی صورت میں تقسیم کرتی ہے تاکہ وہ معاشرے میں گردش کرے، جبکہ «جبری» تقسیم اولاد کو اچانک محرومی سے دوچار کر سکتی ہے۔ وہ معاشرے میں کینہ پیدا ہونے سے خبردار کرتے ہیں ۔