مشرقِ قریب کے اسلامی ظروف کی رہنما کتاب (ہوبسن)

تخلیقات نوادرات

دليل الخزف الإسلامي في الشرق الأدنى (هوبسون)

برٹش میوزیم کی 1932ء میں شائع کردہ آر ایل ہوبسن کی رہنما کتاب جو اس کے اسلامی ظروف کے ذخیرے کو تین ادوار میں ترتیب دیتی ہے اور «رودسی» اور «دمشقی» کہلانے والے عثمانی ظروف کو ازنیق سے منسوب کرنے کے حق میں دلیل دیتی ہے 1 2 3۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global

arts-of-the-bookengineering-and-technology

خلاصہ

«مشرقِ قریب کے اسلامی ظروف کی رہنما کتاب» برٹش میوزیم نے 1932ء میں ٹرسٹیوں کے حکم سے شائع کی، اسے شعبۂ ظروف و نسلیات کے نگران آر ایل ہوبسن نے لکھا، اور اس میں 40 تختیاں اور 73 تصاویر ہیں۔ 1 4

ذخیرہ

ہوبسن لکھتے ہیں کہ مشرقِ قریب کا ذخیرہ سر وولاسٹن فرینکس نے شروع کیا، 1878ء کی ہینڈرسن وصیت سے بہت سا بعد کا فارسی اور ترکی مواد آیا، ترکی ظروف میں ذخیرہ غیر معمولی معیار کو پہنچتا ہے، اور اس کی سب سے اہم دستاویز یروشلم کی مسجدِ عمر (قبۃ الصخرہ) کا 956ھ کا چراغ ہے۔ 5 وہ کہتے ہیں کہ مواد کو ابھی کارخانوں کے لحاظ سے نہیں بانٹا جا سکتا، اس لیے انہوں نے اسے تین تقریبی ادوار میں رکھا، اور ابتدائی ظروف کا بیشتر حصہ کھنڈر شہروں سے ٹکڑوں کی صورت میں ملا ہے، اس لیے مستند دریافتوں کے ٹکڑے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ 5

ساخت

دورِ اول (622–1200ء): سامرا، برہمن آباد، مصر، رے، رقہ، سمرقند، کھرچے ہوئے ظروف، بے لعاب ظروف؛ دورِ دوم (1200–1400ء): رے، ورامین، سلطان آباد، مصر؛ دورِ سوم (1400ء سے): بعد کے فارسی ظروف، «گمبرون» ظروف، کوباچی، ترکی ظروف، کوتاہیہ، ٹائلیں، اور نشانات۔ 2

عثمانی ظروف

ہوبسن کا استدلال ہے کہ «رودسی» نام روڈس کے لنڈوس میں ملے ٹکڑوں سے پڑا اور «دمشقی ظروف» کا نام 1909ء تک بلا اعتراض رہا جب ایف مارٹن نے اس پر سوال اٹھایا؛ وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ترکی ظروف کے تینوں گروہ غالباً ازنیق میں بنے اور سب کو «ترکی» کہنا زیادہ محفوظ ہے۔ 6 7 3

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Authored by
آر ایل ہوبسن
About
ازنیق کے ظروف
Mentions
قبۃ الصخرہ کا 956ھ کا چراغ

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

ازنیق کے ظروف· قبۃ الصخرہ کا 956ھ کا چراغ· آر ایل ہوبسن· قبة الصخرة· سليمان القانوني· عباسی قلعی دار لعاب والے ظروف· فرٹ ویئر (سنگی خمیر)· مرصع دھات کاری

ماخذ

  1. ر. ل. هوبسون، «دليل الخزف الإسلامي في الشرق الأدنى»، لندن: المتحف البريطاني، 1932 , p. 6
  2. ر. ل. هوبسون، «دليل الخزف الإسلامي في الشرق الأدنى»، لندن: المتحف البريطاني، 1932 , p. 10
  3. ر. ل. هوبسون، «دليل الخزف الإسلامي في الشرق الأدنى»، لندن: المتحف البريطاني، 1932 , p. 135
  4. ر. ل. هوبسون، «دليل الخزف الإسلامي في الشرق الأدنى»، لندن: المتحف البريطاني، 1932 , p. 9
  5. ر. ل. هوبسون، «دليل الخزف الإسلامي في الشرق الأدنى»، لندن: المتحف البريطاني، 1932 , p. 8
  6. ر. ل. هوبسون، «دليل الخزف الإسلامي في الشرق الأدنى»، لندن: المتحف البريطاني، 1932 , p. 131
  7. ر. ل. هوبسون، «دليل الخزف الإسلامي في الشرق الأدنى»، لندن: المتحف البريطاني، 1932 , p. 133
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “مشرقِ قریب کے اسلامی ظروف کی رہنما کتاب (ہوبسن)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/hobson-guide-islamic-pottery-near-east/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

تخلیقات

مسلمان آج جو بناتے اور جن کے مالک ہیں: کتب فروشی، ناشر، ایپس، اسٹوڈیو، برانڈز اور خیراتی ادارے۔
متعلقہ

ازنیق کے ظروف

سولھویں صدی کے عثمانی ظروف اور ٹائلیں جن پر قدرتی پھول اور ٹماٹری سرخ رنگ ہے، جنہیں کبھی «رودسی» اور «دمشقی» کہا جاتا تھا، اور ہوبسن وغیرہ نے انہیں ازنیق (نیقیہ) سے منسوب کیا ۔