ایک نظر میں
- دور
- الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك
- خطہ
- egypt-nile · levant-iraq
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں
پردے پر
- صلاح الدين: فاتح القدس· سیریز · تعارف · تاریخی ڈرامہ
موجز
مقریزی کے ہاں
مقریزی بیان کرتے ہیں کہ فاطمی ریاست کے خاتمے کے بعد صلاح الدین یوسف بن ایوب نے مصر کی سلطنت پر قبضہ کیا۔ 1
وہ بیان کرتے ہیں کہ قاہرہ قلعہ ہونے کے بعد رہائشی شہر بنا، صلاح الدین کے بعد کے بادشاہ وہیں رہے، اور ملک الکامل قاہرہ سے قلعۂ جبل منتقل ہوئے۔ 3
وہ بیان کرتے ہیں کہ مصر میں بنی ایوب کی حکومت سنہ 648ھ میں ختم ہوئی، جو اکاسی سال اور سترہ دن رہی، اور ان میں سے آٹھ بادشاہوں نے حکومت کی۔ 4
حسن ابراہیم حسن ایوبی دور کو 567 سے 648ھ تک بتاتے ہیں۔ 5
یہ سجل صرف مصر سے متعلق ہے، اس لیے ویکی ڈیٹا کی سنہ 1341ء کی تاریخ یہاں استعمال نہیں کی گئی، کیونکہ اس کی مقامی تصدیق نہیں ہوئی۔
انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں خاندان
ایوبی اپنا نام ایوب بن شاذی سے لیتے ہیں، جو کرد الاصل تھے، آرمینیا میں دوین کے قریب پیدا ہوئے اور ہذبانی قبیلے کی روادی شاخ سے تھے۔ چھٹی صدی ہجری/بارہویں صدی عیسوی کے آغاز میں شاذی اور ایوب شداد خاندان کی خدمت میں تھے، جسے سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے اس خطے میں مقرر کیا تھا؛ جب 524ھ/1130ء میں دوین گرا تو شاذی تکریت کے حاکم بہروز کی خدمت میں آ گئے، جس نے انہیں تکریت کا گورنر بنایا۔ ایوب نے موصل اور حلب کے حاکم زنگی کا اعتماد حاصل کیا، جو ان کی مدد سے فرات عبور کر گئے۔ 532ھ/1138ء میں ایوب زنگی کی خدمت میں آئے اور ان کے بھائی شیرکوہ نور الدین کی خدمت میں، جنہوں نے انہیں حمص دیا۔ شیرکوہ کو وزیر شاور کی درخواست پر مصر بھیجا گیا، اور ان کی وفات (564ھ/1169ء) کے بعد ان کے بھتیجے صلاح الدین وزیر بنے اور دولت کے بانی ہوئے۔ 6
صلاح الدین اور دولت کی بنیاد
566ھ/1171ء میں صلاح الدین نے فاطمی خلافت ختم کی اور مصر کو بغداد کے عباسی خلیفہ کی طرف لوٹا دیا۔ مقالہ اس دولت کی تاریخ کو تین ادوار میں بانٹتا ہے: خود صلاح الدین کا دور، اس کے جانشینوں کے تحت تشکیل اور تنظیم کا دور، اور طویل زوال۔ ان کی طاقت اس کرد ترک فوج پر قائم تھی جو انہوں نے نور الدین سے وراثت میں پائی اور مصر کے وسائل سے بڑھائی؛ 577ھ/1181ء میں مصری فوج میں 111 امیر، 6,976 مکمل مسلح سوار اور 1,153 دوسرے درجے کے سوار تھے، علاوہ عرب سرحدی جنگجوؤں کے۔ 1174-1183ء کے معاہدے کے تحت شام و جزیرہ کے تقریباً 6,000 جوان طلب کیے جا سکتے تھے۔ تقریباً 12,000 سواروں کے ساتھ، جو ان کی تقریباً پوری قوت تھی، انہوں نے 583ھ/1187ء میں حطین کی فتح حاصل کی، اور اگلے مہینوں میں مسیحی علاقوں کا بیشتر حصہ گر گیا۔ انہوں نے فاطمی انداز پر بحیرۂ روم میں ایک بحری بیڑہ بنایا اور قریبی فرنگی بندرگاہوں پر حملے کیے۔ مالیات ان کی کمزوری تھی: وہ اور العزیز ایسے قرضوں پر چلتے رہے جو تاجروں اور امیروں سے لیے گئے اور کبھی واپس نہ ہوئے، اور سکّہ گرنے لگا۔ تیسری صلیبی جنگ نے فرنگیوں کو نکالنے کا منصوبہ ختم کر دیا، اور صلح کے چند ماہ بعد 589ھ/1193ء میں ان کی وفات ہوئی۔ 7
عادل اور کامل کا عہد
کامل کے آخری برسوں تک ایوبی سلطنت ایک نیم جاگیردارانہ خاندانی وفاق تھی: علاقے شاہی خون کے شہزادوں میں جاگیر کے طور پر بانٹے گئے، جو وزیر، اتابک اور استاد دار کی مدد سے اپنی ریاستیں چلاتے تھے۔ عادل، جو صلاح الدین کے دور میں سفارت کار اور منتظم رہے تھے، خاندان کے سب سے بڑے فرد تھے؛ انہوں نے 597ھ/1200ء میں قاہرہ میں خود کو سلطان کا لقب دیا، دمشق اور جزیرہ کی حکومتیں بیٹوں میں تقسیم کیں، اور باقی شہزادوں کو تابع بنا دیا۔ پانچویں صلیبی جنگ میں کامل نے فرنگیوں سے سفارت کاری کے ذریعے کام لیا: 1204ء میں عادل نے ساحلی مقامات انہیں واپس کر دیے، اور کامل نے بعد میں قدس فریڈرک دوم کو اس شرط پر حوالے کیا کہ اس کی فصیل نہ بنے اور عبادت کی آزادی قائم رہے۔ ایوبیوں نے دیار بکر (604ھ/1207ء)، آمد اور حصن کیفا (631ھ/1233ء) پر قبضہ کیا، جبکہ جلال الدین خوارزمشاہ نے بین النہرین میں ہلچل مچائی، 1229ء میں اخلاط لیا اور ارزنجان کے قریب شکست کھائی (628ھ/1230ء)۔ عرب میدانوں اور دیار بکر پر سلاجقہ روم سے ان کے تصادم نے 1233ء کے ناکام حملے اور 1241ء میں آمد کے نقصان کی صورت اختیار کی۔ 8
انتظام، فوج اور دین
مصر کا انتظام آسیائی علاقوں سے زیادہ مرکزی تھا، جہاں زنگیوں کے ادارے باقی رہے۔ بڑے دیوان تین تھے: دیوان الجیش (فوج اور اقطاع)، دیوان المال (مالیات اور خزانہ) اور دیوان الانشاء (دفتر خط و کتابت)، جس کے سربراہ الفاضل کا مرتبہ بہت بلند تھا۔ ہر دیوان کا ایک مشد ہوتا تھا، جو اپنی فوج کے ساتھ شہری انتظام کی نگرانی کرتا۔ فوجی اقطاع میں کسی زمین کی آمدنی صاحبِ اقطاع کو دی جاتی، جسے ایک مقررہ تعداد میں سپاہی رکھنے ہوتے تھے۔ فوج کے دستے ان کے بانیوں کے نام سے بٹے ہوئے تھے: اسدیہ، صلاحیہ، عادلیہ، کامیلیہ اور اشرفیہ، اور ان کی رقابتیں جانشینی کے جھگڑوں کا سبب بنیں۔ ایوبی سنی آرتھوڈوکس تھے؛ انہوں نے چاروں مذاہب کے مدارس اور صوفی سلسلوں کے لیے خانقاہیں بنوائیں اور خلیفہ کے ایلچیوں سے تعاون کیا۔ خراسانی نسل کے "ابناء الشیخ" انتظامیہ کی تینوں شاخوں میں عہدوں پر فائز رہے۔ یمن ایوبی شہزادوں کے تحت دوبارہ سنی اسلام پر آیا، یہاں تک کہ 629ھ/1232ء میں رسولی وہاں برسراقتدار آئے۔ مصر کی معیشت کان کنی، جنگلات اور دھاتوں میں جزوی طور پر ریاستی رہی، اور کامل کی آبپاشی، قصب السکر اور فیوم کی پیمائش پر توجہ ثابت ہے۔ 9
جانشینی اور کامل کے عہد کا خاتمہ
کامل 635ھ/1238ء میں فوت ہوئے۔ انہوں نے حصن کیفا اپنے بڑے بیٹے الصالح ایوب کو دیا تھا اور چھوٹے بیٹے العادل کو جانشین نامزد کیا تھا۔ الصالح ایوب نے تلوار کے زور پر تخت حاصل کیا اور اقتدار کی وحدت بحال کی، نہ صرف اپنے بھائی بلکہ شام کے بیشتر ایوبیوں کے خلاف۔ انہوں نے ترک غلام فوج پر اور خوارزمیوں پر انحصار کیا، جنہیں انہوں نے دیار مضر میں بسایا، اور ان کی تباہ کاری جزیرہ اور شام میں بہت بڑی تھی؛ جب ان کی ضرورت نہ رہی تو انہوں نے اپنے چچازاد بھائیوں کے ہاتھوں انہیں ختم کروا دیا۔ فرنگی بھی جھگڑوں میں کھنچ آئے، کیونکہ صالح اسماعیل اور کرک کے ناصر داؤد صالح ایوب اور خوارزمیوں کے خلاف لڑے، جس کا نتیجہ دونوں فریقوں کے لیے تباہی نکلا۔ مقالے کا تیسرا حصہ کامل کی وفات کے بعد کے دور کو لیتا ہے، جو یہاں پڑھے گئے حصے سے آگے ہے۔ 10
ایوبیوں کا خاتمہ (تیسرا حصہ)
الصالح ایوب آخری حقیقی ایوبی تھے۔ ان کا بیٹا توران شاہ تخت نشینی کے چند ماہ بعد اپنے ہی سپاہیوں کے ہاتھوں قتل ہوا، اور اگرچہ کچھ کم عمر کٹھ پتلیاں کچھ عرصے تک خاندان کا نام لیتی رہیں، عملاً مملوک نظام 647ھ/1249ء سے شمار ہوتا ہے۔ الصالح ہی اس نظام کے حقیقی بانی تھے: ان کی ترک غلام فوج، البحریہ، جس کا نام نیل کے ایک جزیرے کی چھاؤنی سے پڑا، اصل فیصلہ کن قوت تھی۔ توران شاہ کی وفات پر البحریہ نے ترکمان عز الدین ایبک کو اقتدار دیا، پہلے اتابک اور پھر سلطان کے طور پر؛ معاصرین کے الفاظ میں "کردی" خاندان کی جگہ "ترکی" نظام آ گیا۔ 11
شمالی ایوبی اور منگول
شمالی ایوبی کچھ دیر اور باقی رہے، مگر کامیابی کے بغیر۔ ان کے آخری سال منگولوں کے سائے میں گزرے، جہاں وہ اطاعت اور مسلح مزاحمت کے درمیان تذبذب میں تھے۔ حلب کے ناصر ایوبی مقصد کے علم بردار بن گئے؛ 1258ء میں بغداد گرا، اور 1260ء میں حلب، دمشق اور میافارقین فتح ہوئے یا خود سپرد ہو گئے۔ ناصر، جو دوسروں کے برعکس مصر میں پناہ لینے کی جرأت نہ کر سکے، پکڑے گئے، پہلے اچھا سلوک ہوا، پھر جب عین جالوت میں مملوکوں کے ہاتھوں منگول فوج کی شکست کی خبر آئی تو انہیں قتل کر دیا گیا۔ بیبرس کی شام کی فتح میں کرک کی ریاست زیر کی گئی، حلب اور حمص کی ریاستیں خود بخود ختم ہو گئیں، اور حماۃ، جو اپنے امیر اور مصنف ابوالفداء کی وجہ سے مشہور تھی، 1342ء تک باقی رہی۔ حصن کیفا کے قریب ایک شاخ منگولوں اور ان کے جانشینوں کے تحت دو صدیوں سے زیادہ باقی رہی، اور اس نے کرد قبائل سے طاقت حاصل کی، اور آخرکار آق قویونلو کے سامنے جھک گئی۔ 12
مصادر اور مطالعات
مقالے کی کتابیات میں دستاویزات (سینا، فلورنس اور وینس میں، اور قاہرہ کی گنیزہ کے کاغذات)، قاضی الفاضل کے خطوط، اور بیانیہ مصادر شامل ہیں: عماد الدین اصفہانی کی «البرق الشامی» جو ابو شامہ کی «الروضتین» کے ذریعے پہنچی، ابن الاثیر کی «الکامل»، ابن واصل کی «مفرج الکروب»، سبط ابن الجوزی کی «مرآۃ الزمان»، ابن الفرات، مقریزی، اور یمن کے مصادر خزرجی اور مجاور۔ عام جائزوں کے لیے کلود کاہن، ہملٹن گب اور جارج ویٹ کے کام اہم ہیں؛ صلاح الدین کی کوئی مکمل سوانح موجود نہ تھی۔ 13
تعلقات
- Subject of
- صلاح الدين: فاتح القدس
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك· صلاح الدین ایوبی· القاهرة· القدس· صلاح الدين: فاتح القدس
ماخذ
- المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , p.290
- تاريخ الإسلام السياسي والديني والثقافي والاجتماعي — حسن إبراهيم حسن , p.698
- المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , p.1001
- المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , p.1912
- تاريخ الإسلام السياسي والديني والثقافي والاجتماعي — حسن إبراهيم حسن , p.494
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 845-846
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 846-847، 849
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 849-850
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 850-852
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 852-853
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 853
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 853-854
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 854-855
- ويكيداتا
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “الدولة الأيوبية”. islam.museum، https://islam.museum/ur/polity/ayyubid-dynasty/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.