محمد یعقوب بیگ

محمد يعقوب بك

تقریباً 1820 عیسوی · تقریباً 1235 ھ† – †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

كاشغر

یتشار (کاشغریا) ریاست کے امیر (1865ء تا 1877ء) بعنوان اطالق غازی؛ کوکند کے سپہ سالار، تقریباً 1820ء میں پسکنت میں پیدا ہوئے اور مئی 1877ء کے اواخر میں کورلا میں متنازع حالات میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
emir
خطہ
china-east-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1780عیسوی1790عیسوی1800عیسوی1810عیسوی1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد الغني الميداني · عبد القادر الجزائري · أحمد الأكنصوسي · أحمد علي السهارنفوري · أحمد فارس الشدياق

مکان میں

كاشغر

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد یعقوب بیگ (تقریباً 1820ء – مئی 1877ء) کوکند کے ایک سپہ سالار تھے جنہوں نے سنکیانگ کے جنوب مغرب میں یتشہر — جسے کاشغریا بھی کہتے ہیں — کی ریاست قائم کی اور 1865ء سے 1877ء تک اطالق غازی کے لقب سے اس پر حکومت کی، جس کا مطلب ہے «مؤمنین کے باپِ غازی». وہ آج بھی متنازع شخصیت ہیں: بعض کے نزدیک ہیرو، بعض کے نزدیک حملہ آور۔ 1 2

    عربی مضمون موجود ہے؛ وہ ان کی پیدائش 1820ء یا 1825ء بتاتا ہے، اور دوسری روایت ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں درج ہے۔ 3

    ابتدا و عروج

    وہ خانیتِ کوکند میں تاشقند کے قریب پسکنت میں تقریباً 1820ء میں پیدا ہوئے — انگریزی مضمون کی سیرت، کِم کے حوالے سے، سال 1820ء صراحتاً دیتی ہے — ایک ایسے خاندان میں جس کی جڑیں تاجک تھیں؛ ان کے والد قاضی تھے، خوجند میں پڑھے اور تاشقند و پسکنت میں خدمات انجام دیں۔ کم عمری میں یتیم ہو کر رشتہ داروں کے پاس پلے، باری باری چائے خانے کے رقاص، لوہار کے شاگرد اور دکان دار رہے، پھر کوکند کی خدمت میں داخل ہو کر پچاس آدمیوں کی کمان سے ایک رجمنٹ کی کمان تک پہنچے۔ 1864ء تک انہوں نے اتنی دولت جمع کر لی تھی کہ شادی کر کے تاشقند میں زمین خرید سکیں۔ 1 3

    کاشغریا کی فتح

    جب 1864ء کی مسلم بغاوتوں نے التی شہر میں چنگ اقتدار ختم کیا تو خوجہ خاندان بزرگ خان کے ساتھ کاشغر لوٹا، اور یعقوب بیگ جنوری 1865ء میں تقریباً چھ ہزار کوکندی فوجیوں کے کمانڈر بن کر پہنچے۔ انہوں نے علاقے کی باقی چنگ چھاؤنیاں شکست دیں، پھر خوجاؤں ہی کی طرف رخ کیا: بزرگ خان 1867ء میں جلاوطنی پر مجبور ہوئے اور ان کے جانشین یکے بعد دیگرے معزول ہوئے۔ 1870ء سے انہوں نے تونگان باغیوں سے ترپان، ارومچی اور ماناس لے کر تیان شان کے جنوب کا علاقہ کاشغر کو مرکز بنا کر یتشہر، «سات شہروں»، کی ریاست میں متحد کر دیا۔ 1

    حکومت

    ان کی حکومت تقریباً ایک دہائی چلی۔ انگریزی مضمون ایک سخت اسلامی ریاست بیان کرتا ہے: شریعت نافذ کی گئی، غیر اسلامی ادارے جیسے چینی مندر ختم یا مسجدوں میں بدلے گئے، اور غیر مسلموں پر پابندیوں کے نتیجے میں جبری تبدیلیِ مذہب بھی ہوئی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے مدارس، کارواں سرائے اور مسجدیں بنوائیں، آبپاشی میں سرمایہ لگایا، اور تاشقند، فرغانہ، ہندوستان اور روس کے تاجر کھینچے۔ ان کی امارت کو بیرونِ ملک تسلیم بھی کیا گیا: سلطنتِ عثمانیہ اور روسی و برطانوی سلطنتوں نے ان سے تجارتی معاہدے کیے (1872ء اور 1874ء)، اور برطانوی ایلچی فورسائتھ اور روسی ایلچی پیتروفسکی کاشغر میں موصول ہوئے۔ مضمون زور دیتا ہے کہ یہ ان کی ریاست کے اعمال تھے؛ بذاتِ خود یہ ان کے ذاتی فقہی مذہب کے بارے میں کچھ نہیں کہتے۔ 1 2

    زوال و وفات

    زو زونگتانگ کی قیادت میں چنگ کی دوبارہ فتح 1876ء میں شروع ہوئی۔ بھرتی اور اناج کے اندھا دھند مطالبوں نے علاقے کی آبادی کو ان کے خلاف کر دیا، اور ترپان کے سقوط کے بعد ان کی ریاست اندر سے ڈھہ گئی۔ وہ کورلا ہٹے اور وہیں مئی 1877ء کے اواخر میں اچانک وفات پائی؛ ایک ماہ کے اندر کاشغر بھی گر گیا۔ انگریزی مضمون کا وفات والا حصہ بتاتا ہے کہ تفصیلات کس قدر غیر طے ہیں: سیرمی کی تاریخ 28 اپریل ناممکن ہے کیونکہ پرزیوالسکی نے 9 مئی کو انہیں زندہ پایا؛ چینی ذرائع عام طور پر 22 مئی دیتے ہیں، کوروپاتکن نے 29 مئی سمجھا، اور سیرمی کی اپنی روایت 30 مئی دیتی ہے — وہی دن جو مضمون کی تمہید اور چینی مضمون میں ہے — جبکہ موت کی وجہ مختلف طور پر زہر، خودکشی، جنگ میں موت، یا فالج سے طبعی موت بتائی جاتی ہے، جسے کِم کے پیچھے جدید مؤرخین سب سے زیادہ ممکن سمجھتے ہیں۔ ان کی وفات کے بعد کاشغریا چنگ حکومت میں لوٹ گیا۔ 1 4

    مذہب

    ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ انگریزی مضمون کے معلوماتی خانے میں مذہب کا خانہ «سنی اسلام» ہے، لیکن کسی بھی ایڈیشن کا کوئی متن ان کے لیے کوئی فقہی مذہب یا طریقت نہیں بتاتا، اور چینی مضمون و وکی ڈیٹا صرف عام «اسلام» دیتے ہیں۔ حکمران کا اپنی ریاست میں شرعی قانون نافذ کرنا اس ریاست کی پالیسی ہے، اس کے اپنے مذہب کی شہادت نہیں، اور اس کا شاہی لقب ایک خطاب ہے، شہادت نہیں؛ عجائب گھر کے دو ذرائع کے اصول پر ایک معلوماتی خانے کی یہ واحد روایت درجے کو طے نہیں کرتی، اور یہ ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں محفوظ ہے۔ 1 2 4

    مصادر

    • اوپر مذکور معرّف ماخذی اکائیاں، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مورخہ ہو، اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کا ماخذ نامزد کرے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    كاشغر

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ما فو شینگ· محمود محیتی· ثابت داملا عبد الباقی· شوقان ولی خانوف· كاشغر

    ماخذ

    1. Yakub Beg of Yettishar — English Wikipedia
    2. Agubai (Yakub Beg) — Chinese Wikipedia
    3. Muhammad Yakub Beg — Arabic Wikipedia
    4. Yakub Beg of Yettishar — Wikidata Q558247
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد یعقوب بیگ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/yakub-beg/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ما فو شینگ

    یوننان سے تعلق رکھنے والے ایک ہوئی مسلمان فوجی کمانڈر (1864ء–1924ء) جو جوانی میں «کانسو بہادر» فوج میں رہے، پھر یانگ زینگ شن نے انہیں سنکیانگ بھیجا اور وہ کاشغر کے تیتائی بنے (1916ء–1924ء)۔ وہاں ان کی حکمرانی اپنی سختی کے لیے بدنام تھی؛ جب یانگ کو ان کی خط کتابت پر شبہ ہوا تو اس نے ما شاوو کو بھیجا، جس نے 1924ء میں انہیں گولی مار دی اور ان کی لاش صلیب پر لٹکا دی۔