ایک نظر میں
- کردار
- فقیہ · عالم · writer
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- Wikidata
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں
عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات1994
اعزازات
- شاہ فیصل انعام · islamic-studies · جیتا · 1994 · topic: Islamic law; shared with Yusuf al-Qaradawi
ڈیجیٹل نقش
ویکیپیڈیا پر ان زبانوں میں:ararzckbur (2026-11-07 کو پڑھا گیا)
ویکی ڈیٹا:Q12188692
خلاصہ
فقہ السنہ
انھوں نے اخوان کے ہفت روزہ میں طہارت کے فقہ پر مختصر مضامین لکھنا شروع کیے، صنعانی کی «سبل السلام» اور شوکانی کی «نیل الاوطار» جیسی فقہِ حدیث کی کتب اور سبکی کی «الدین الخالص»، ابن قدامہ کی «المغنی» اور ابن القیم کی «زاد المعاد» سے استفادہ کرتے ہوئے؛ انھی سے «فقہ السنہ» بنی۔ مضمون کے مطابق کسی مذہب سے نہ بندھی یہ کتاب ان پڑھے لکھے قارئین کو پسند آئی جو کسی خاص مذہب پر نہیں پلے تھے، اور مصنف کی اجازت کے بغیر بار بار چھپی۔ 1
مضمون ان کے منہج کو یوں بیان کرتا ہے: مذاہب کے لیے تعصب ترک کرنا مگر ان کی تنقیص نہیں، قرآن، سنت اور اجماع پر اعتماد، آسان عبارت، آسانی کی طرف میلان، اور اختلاف کو ناگزیر حد تک رکھتے ہوئے اکثر راجح قول بتانا۔ ان کی دوسری کتب میں «مصادر القوۃ فی الاسلام»، «الربا و البدیل» اور «العقائد الاسلامیہ» ہیں۔ 1
مقدمہ اور اسیری
ان پر وزیرِ اعظم محمود فہمی النقراشی کے قتل کے مقدمے میں الزام لگا کہ انھوں نے قاتل کو اس کے جواز کا فتویٰ دیا، اور بعض اخباروں نے انھیں «مفتیِ خون» کہا؛ عدالت نے انھیں بری کر کے رہا کر دیا۔ پھر 1949ء میں وہ اخوان کے دوسرے ارکان کے ساتھ الطور کیمپ میں قید ہوئے، جہاں فجر کے بعد فقہ کے حلقے لگاتے۔ عجائب گھر الزام اور فیصلہ دونوں اسی طرح بیان کرتا ہے جیسے مضمون میں ہیں۔ 1
مناصب
وزیر احمد حسن الباقوری کے دور میں وہ وزارتِ اوقاف میں شعبۂ ثقافت کے ڈائریکٹر بنے، وزیر محمد البہی کے دور میں محمد الغزالی کے ساتھ ازہر منتقل کیے گئے، اور آخری برسوں میں مکہ کی جامعہ ام القریٰ چلے گئے۔ 1
اعزاز اور وفات
1994ء میں انھیں اسلامی علوم کا شاہ فیصل انعام یوسف القرضاوی کے ساتھ مشترکہ طور پر، اسلامی فقہ کے موضوع پر ملا۔ 3 وہ اتوار 23 ذوالقعدہ 1420ھ / 27 فروری 2000ء کو تقریباً پچاسی برس کی عمر میں فوت ہوئے اور اسطنہا میں خاندانی مقبرے میں دفن ہوئے۔ 1
ڈیجیٹل موجودگی
7 نومبر 2026ء کو ویکی ڈیٹا کے مطابق ان پر ویکیپیڈیا کے چار نسخوں میں مضامین تھے۔ 2
مراجع
تعلقات
- Awarded
- شاہ فیصل انعام
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
عبدالرحمٰن السمیط· عبد الرحمٰن سوار الذہب· عبدو ضیوف· عبداللہ احمد بداوی· عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود· عبد اللہ بن عمر نصیف· ابو الحسن علی حسنی ندوی· ابو بکر غومی
ماخذ
- السيد سابق — Arabic Wikipedia
- Sayyid Sabiq — Wikidata Q12188692
- King Faisal Prize — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “السید سابق”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/sayyid-sabiq/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON