نصرت عبداللہ ہارون

نصرت عبد الله هارون

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

نصرت عبداللہ ہارون (1886ء–1966ء)، اصل نام نصرت خانم، ایران میں پیدا ہونے والی سندھی سماجی و سیاسی کارکن جو کراچی میں آباد ہوئیں، جہاں 1914ء میں ان کی شادی عبد اللہ ہارون سے ہوئی۔ انھوں نے اپنے گھر میں مدرسہ قائم کیا اور سندھ کی خواتین کی تعلیم و فلاح کے لیے «انجمن خواتین» بنائی، تحریک خلافت کی حمایت کی، 1943ء میں آل انڈیا ویمن مسلم لیگ کی صدر منتخب ہوئیں، اور آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کی نائب صدر رہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحمید خان بھاشانی · علاؤالدین خان · علی المیرغنی · علی فواد جیبےسوئے · عطیہ فیضی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    لیڈی عبد اللہ ہارون (1886ء–1966ء)، اصل نام نصرت خانم، آزادی پاکستان سے قبل سندھ کی سماجی و سیاسی کارکن تھیں۔ وہ ایران میں پیدا ہوئیں اور کراچی میں آباد ہوئیں، جہاں 1914ء میں تاجر و سیاست دان عبد اللہ ہارون سے ان کی شادی ہوئی۔ انھوں نے سندھ کی خواتین کی تعلیم اور سماجی و معاشی بہتری کے لیے «انجمن خواتین» قائم کی، تحریک خلافت کی حمایت کی، 1943ء میں آل انڈیا ویمن مسلم لیگ کی صدر منتخب ہوئیں، اور آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کی نائب صدر رہیں۔ 1

    زندگی اور شادی

    نصرت خانم 1886ء میں ایران میں پیدا ہوئیں اور کراچی میں آباد ہوئیں، جہاں 1914ء میں عبد اللہ ہارون سے شادی ہوئی، جس کے بعد وہ «لیڈی عبد اللہ ہارون» کہلائیں۔ 1 ان کے شوہر کے انگریزی مقالے کے صندوق معلومات میں شریک حیات «لیڈی عبد اللہ ہارون» درج ہے، اور دونوں کے ویکی ڈیٹا اندراجات میں باہم زوجیت کی قدریں موجود ہیں۔ 2 3 4 ان کے بچوں میں یوسف ہارون، محمود ہارون اور زینت ہارون راشد شامل تھے۔ 2

    خواتین کی تعلیم کے لیے خدمات

    وہ سندھ کی خواتین کی تعلیم میں گہری دلچسپی رکھتی تھیں اور انھوں نے اپنے گھر میں ایک مدرسہ قائم کیا۔ 1 انھوں نے «انجمن خواتین» نامی تنظیم بنائی، جس کا مقصد سندھ کی خواتین کی سماجی و معاشی بہتری تھی۔ 1 اردو مقالے کے مطابق انھوں نے «مسلم گرلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن» اور «ویمن نیشنل گارڈ» بھی قائم کیے۔ 5

    سیاسی خدمات

    انھوں نے 1919ء میں تحریک خلافت کی سرگرم حامی کی حیثیت سے سندھ کی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ 1 مسلم لیگ کے پرچم تلے انھوں نے سندھی خواتین میں سیاسی شعور بیدار کیا اور 1946ء کے صوبائی انتخابات میں جماعت کے لیے حمایت جمع کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ 1 اردو مقالہ انھیں مسلم لیگ خواتین ونگ کی اولین صدر قرار دیتا ہے۔ 5 1943ء میں وہ آل انڈیا ویمن مسلم لیگ کی صدر منتخب ہوئیں اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کی قائم کردہ آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن کی نائب صدر رہیں۔ 1

    مذہب کے بارے میں ریکارڈ

    انگریزی مقالہ 2003ء کے ایک تعارفی خاکے کے حوالے سے لکھتا ہے کہ وہ «ایران کے ایک شیعہ خاندان میں پیدا ہوئیں»، اور انھیں «پاکستانی شیعہ مسلمات» کے زمرے میں رکھتا ہے؛ اردو مقالہ بھی انھیں «پاکستانی شیعہ» زمرے میں رکھتا ہے، اور ویکی ڈیٹا کی منظم مذہبی قدر «شیعہ اسلام» ہے۔ 1 5 3 میوزیم ان کا مذہب (مکتب) نامعلوم درج کرتا ہے، اور ان کے ریکارڈ میں اس کی وجہ بیان ہے: جس خاندان میں پیدائش ہوئی اس کے بارے میں بیان، زمرہ بندی، اور ایک بے حوالہ منظم قدر ان کے ذاتی انتماء کے دو آزاد مآخذ نہیں بنتے، اور کوئی متن ان کی اپنی عملی وابستگی یا مکتب کا نام نہیں لیتا۔ یہ مواد بانی کے فیصلے کے لیے ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔

    وفات

    ان کی وفات 1966ء میں ہوئی؛ کسی ماخذ میں نہ دقیق تاریخ ہے نہ مقام۔ 1 3

    مآخذ

    • اوپر جن مآخذ کا حوالہ دیا گیا ہے ان کی تعریف کردہ اکائیاں، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہونی چاہیے اور ہر واقعے کی تبدیلی کا ماخذ نامزد کرنا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Spouse of
    عبد اللہ ہارون

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عبد اللہ ہارون

    ماخذ

    1. Lady Abdullah Haroon — English Wikipedia
    2. Abdullah Haroon — English Wikipedia
    3. Lady Abdullah Haroon — Wikidata Q6469906
    4. Abdullah Haroon — Wikidata Q8704030
    5. Lady Abdullah Haroon — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نصرت عبداللہ ہارون”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nusrat-abdullah-haroon/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عبد اللہ ہارون

    سر عبد اللہ ہارون (1872ء–1942ء)، برطانوی ہند کے کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور تاجر، جو چینی کی تجارت میں کامیابی پر «شوگر کنگ» کہلائے۔ وہ سندھ خلافت کمیٹی اور صوبائی مسلم لیگ کے صدر رہے، 1938ء میں پہلی سندھ صوبائی مسلم لیگ کانفرنس منعقد کی اور 1940ء میں قرارداد لاہور کی تائید کی، اور مدارس، مساجد اور یتیم خانے بنانے والے صاحب خیر تھے۔