مراد الثاني

مراد الثاني

1451 عیسوی · 855 ھ

Murad II (r. 824–855/1421–1451 CE) — crushed his uncle Mustafa's Byzantine-backed revolt, stormed Thessaloniki in 833/1431, and fathered Mehmed the Conqueror 1. Al-Sallabi has him twice abdicating for a life of retreat at Magnesia: recalled first to smash the oath-breaking crusade at Varna in 848/1444 — the broken treaty raised on a spear-point, King Ladislas dead by his own lance — then again when the Janissaries rioted in Edirne, staying on the throne through the second Kosovo victory in 852/1448 2. A patron of poets who held a twice-weekly majlis for them, he sent 3,500 dinars yearly to the Haramayn and Jerusalem, died at Edirne palace aged about forty-seven, and was buried by his austere will beside the Muradiyya mosque at Bursa 3.

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · military
دور
العصر المغولي وما بعده
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1350عیسوی1375عیسوی1400عیسوی1425عیسوی1450عیسوی1475عیسوی1500عیسوی1525عیسوی1550عیسوی تقریباً تقریباً تقریباً
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · إمبراطوريات البارود · العصر المغولي وما بعده ہم عصر: عبد الباقي اليزدي · عبد الحق السنباطي · عبد الرحمن الثعالبي · تاج الدين عبد الوهاب بن عربشاه · أبو زيان محمد الخامس
پڑھنے کی سطحاسے بچوں کے حصے میں پڑھیں

سلطان مراد ثانی بن محمد اول، جو 824 ہجری میں اٹھارہ برس سے کم عمر میں حکمران بنا؛ اس نے 833 ہجری میں سالونیک داخل کیا اور وارنہ اور دوسری قوصوہ میں غلبہ پایا۔

سلطان مراد ثانی بن محمد اول، جو 824 ہجری (1421ء) میں اپنے باپ کی وفات کے بعد اٹھارہ برس سے کم عمر میں حکمران بنا؛ صلابی اسے جہاد کا دوست اور تقویٰ اور عدل میں معروف لکھتا ہے۔ اس نے اپنے چچا مصطفیٰ کی بغاوت ختم کی جسے بزنطینی شہنشاہ مانوئیل ثانی نے سہارا دیا؛ 833 ہجری (1431ء) میں سالونیک داخل کیا اور ولاشیا اور سرب کے بادشاہ کو تابع کیا۔ عثمانیوں نے 842 ہجری (1438ء) میں مجریوں کو ہرایا مگر بلغراد ناکام رہا۔ 848 ہجری (1444ء) میں دس سالہ معاہدہ سیزجادن ہوا تو اس نے بیٹے محمد کو تخت دیا اور کنارہ کش ہوا، اور جب عہد توڑا گیا تو لوٹ کر بادشاہ لادسلاس کو وارنہ میں گرایا۔ اس نے 852 ہجری (1448ء) میں دوسری قوصوہ میں غلبہ پایا اور ادرنہ کے قصر میں تقریباً سینتالیس برس کی عمر میں فوت ہوا۔

کہانی گو (10–12) مہم جوؤں کا متن پڑھتے ہیں، پھر طالبِ علم کے متن کی طرف بڑھتے ہیں۔

سلطان مراد ثانی بن محمد اول، جو 824 ہجری (1421ء) میں اپنے باپ محمد جلبی کی وفات کے بعد زیادہ سے زیادہ اٹھارہ برس کی عمر میں حکمران بنا؛ صلابی اسے جہاد کا دوست اور تقویٰ، عدل اور شفقت میں معروف لکھتا ہے۔ اس نے اپنے چچا مصطفیٰ کی بغاوت ختم کی جسے بزنطینی شہنشاہ مانوئیل ثانی نے سہارا دیا، پھر مارچ 833 ہجری (1431ء) میں سالونیک زور سے داخل ہوا جو ریاست کا حصہ بنا، اور ولاشیا کو سالانہ جزوہ پر اور سرب کے نئے بادشاہ کو اپنی ولایت پر تابع کیا۔ مجری محاذ پر عثمانیوں نے 842 ہجری (1438ء) میں مجریوں کو ہرایا اور ستر ہزار قیدی لیے، مگر بلغراد کی کوشش ناکام رہی۔ 846 ہجری (1442ء) میں ہنیادی کی دو شکستوں کے بعد عثمانیوں نے صلح چاہی تو جولائی 848 ہجری (1444ء) میں دس سالہ معاہدہ سیزجادن ہوا — مراد نے قرآن اور لادسلاس نے انجیل کی قسم کھائی؛ اس نے بیٹے محمد کو تخت دیا اور مغنیسہ میں کنارہ کش ہوا۔ جب کارڈینل سیزارینی اور پوپ نے عہد توڑنے پر ابھارا تو وہ فوج لے کر لوٹا — جینوا کے بیڑے نے چالیس ہزار فی سپاہی دینار پر پار کیے — توڑے ہوئے معاہدے کو نیزے پر اٹھایا اور بادشاہ لادسلاس کو نیزے سے گرایا: یہی وارنہ۔ وہ پھر دوسری بار تخت سے اترا، ادرنہ میں انکشاریوں کے بغاوت پر واپس بلایا گیا اور آخرِ عمر تخت پر رہا، اور 852 ہجری (1448ء) میں دوسری قوصوہ میں غلبہ پایا۔ وہ شاعروں کے لیے ہفتے میں دو دن مجلس رکھتا اور ہر سال حرمین اور بیت المقدس کو ساڑھے تین ہزار دینار بھیجتا۔ وہ ادرنہ کے قصر میں تقریباً سینتالیس برس کی عمر میں فوت ہوا اور وصیت پر بورصہ کی مرادیہ جامع کے پاس دفن ہوا۔

خلاصہ

سلطان مراد ثانی، محمد جلبی کا بیٹا، 824ھ/1421ء میں اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے تخت پر بیٹھا — کتاب کے مطابق جہاد سے محبت کرنے والا، متقی، عادل اور شفیق سلطان۔ 1

اس نے اپنے چچا مصطفیٰ کی بغاوت کچلی جسے کتاب کے مطابق شہنشاہ مانویل ثانی نے سہارا دیا، مارچ 833ھ/1431ء میں سلونیک فتح کیا، افلاق کو سالانہ جزیہ دیا اور صرب کے نئے بادشاہ نے وفاداری دہرائی۔ مجارستانی محاذ پر 842ھ/1438ء میں عثمانیوں نے ستر ہزار قیدی لیے، مگر بلغراد کی کوشش ناکام رہی۔ 4

846ھ/1442ء میں ہونیادی کی دو فتوحات کے بعد دس سالہ سیزگادن معاہدہ ہوا — مراد نے قرآن اور لادیسلاس نے انجیل کی قسم کھائی — جس کے بعد مراد نے بیٹے محمد کے لیے تخت چھوڑ کر مغنیسیا میں خلوت اختیار کی۔ جب کارڈینل سیزارینی اور پوپ نے معاہدہ توڑنے کی دعوت دی تو وہ واپس آیا: چالیس ہزار فوج جنوائی جہازوں پر ایک دینار فی سپاہی پار اترائی، ٹوٹا ہوا معاہدہ نیزے کی نوک پر اٹھایا اور بادشاہ لادیسلاس کو اپنی نیزے سے گرا دیا — یہی وارنا کی جنگ۔ 5

دوسری بار بھی تخت چھوڑا، مگر ینی چری کی ادرنہ میں بغاوت پر لوٹ آیا اور عمر بھر تخت پر رہا، جس کا عروج 852ھ/1448ء کی دوسری کوسووہ فتح تھا۔ شعراء کی دو روزہ مجلس رکھتا، حرمین اور بیت المقدس کو سالانہ 3500 دینار بھیجتا، اور ادرنہ کے محل میں تقریباً 47 سال کی عمر میں فوت ہوا — وصیت کے مطابق برصہ کی مسجد مرادیہ کے پاس دفن کیا گیا۔ 6

آپ کا انتخاب صرف اسی براؤزر میں محفوظ رہتا ہے۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Fought by
يوحنا هنيادي
Opposed by
الإمبراطور مانويل الثاني· الأمير مصطفى بن بايزيد
Parent of
السلطان محمد الفاتح
Child of
محمد الأول جلبي
Related to
الأمير مصطفى بن بايزيد
Participated in
وقعة وارنه ونقض المعاهدة· وقعة قوصوه الثانية· فتح سالونيك· معاهدة سيزجادن (٨٤٨هـ/١٤٤٤م)
Signed
معاهدة سيزجادن (٨٤٨هـ/١٤٤٤م)
Fought
يوحنا هنيادي

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

معاهدة سيزجادن (٨٤٨هـ/١٤٤٤م)· بايزيد الأول الصاعقة· وقعة وارنه ونقض المعاهدة· يوحنا هنيادي· الإمبراطور مانويل الثاني· الأمير مصطفى بن بايزيد· فتح القسطنطينية سنة 857هـ· فتح طرابزون

ماخذ

  1. الدولة العثمانية — علي محمد الصلابي (2001) , p. 77-79
  2. الدولة العثمانية — علي محمد الصلابي (2001) , p. 80-83
  3. الدولة العثمانية — علي محمد الصلابي (2001) , p. 83-85
  4. الدولة العثمانية — علي محمد الصلابي (2001) , p. 79-80
  5. الدولة العثمانية — علي محمد الصلابي (2001) , p. 80-82
  6. الدولة العثمانية — علي محمد الصلابي (2001) , p. 82-85
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “مراد الثاني”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/murad-ii-uthmani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

معاهدة سيزجادن (٨٤٨هـ/١٤٤٤م)

The ten-year peace sworn at Szeged in July 848/1444 after Hunyadi's double victory: Murad II ceded Serbia to George Branković and Wallachia to Hungary, ransomed his son-in-law Mahmud Çelebi for 60,000 ducats, and swore on the Qur'an as King Ladislas swore on the Gospel. The book narrates Cardinal Cesarini and Pope Eugene IV preaching its annulment as made without papal leave — the coalition broke it, and Varna followed.