ایک نظر میں
- کردار
- religious-leader · military-leader
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
sufi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد احمد بن عبد اللہ بن فحل (1844–1885) سوڈان کے مذہبی و سیاسی رہنما اور سلسلہ سمانیہ کے شیخ تھے۔ 1 2
29 جون 1881 کو انہوں نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا؛ ان کے پیروکار، جنہیں انہوں نے انصار کا نام دیا، اسے مان گئے، جبکہ ترک مصری حکومت سے وابستہ بہت سے علما نے یہ کہہ کر اسے رد کیا کہ ان کی صورت احادیث میں بیان کردہ علامات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ 1
ان کی قیادت میں بغاوت نے سوڈان سے ترک مصری حکومت ختم کی، جنوری 1885 میں خرطوم فتح ہوا، ام درمان کو دار الحکومت بنا کر مہدی ریاست قائم ہوئی، اور خرطوم کی فتح کے پانچ ماہ بعد وہ ٹائیفس سے وفات پا گئے۔ 1 2
زندگی اور صوفیانہ نسبت
وہ ڈونگولا کے جزیرہ لبب میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے؛ والد کشتیاں بناتے تھے۔ بچپن میں خاندان کرری اور پھر خرطوم منتقل ہوا۔ 2 1
انہوں نے کئی شیخوں سے تعلیم پائی، پھر سمانیہ کے شیخ محمد شریف نور الدائم کے مرید بنے؛ سات برس میں ان کی زہد و تقویٰ کی شہرت ہوئی اور وہ شیخ کا درجہ پا کر طریقت دینے کے مجاز ہوئے۔ 1878 میں شیخ سے اختلاف کے بعد وہ شیخ القرشی ود الزین سے وابستہ ہوئے اور ان کی وفات پر ان کے جانشین تسلیم کیے گئے۔ 1 2
1870 سے وہ جزیرہ آبا پر مقیم تھے، جہاں مسجد و مدرسہ قائم کر کے تدریس کرتے تھے۔ 1
بغاوت اور خرطوم کی فتح
حکومتی فوج کی گرفتاری کی کوشش (اگست 1881) ناکام ہوئی؛ وہ کردوفان گئے، قبائل ان سے ملتے گئے، 1883 میں الابیض اور دارفور ان کے قبضے میں آئے اور ہکس کی آٹھ ہزار فوج شیكان میں تباہ ہوئی۔ 1
جنرل گورڈن خرطوم میں محصور ہوا؛ 26 جنوری 1885 کو شہر فتح ہوا اور گورڈن مارا گیا۔ انگریزی مضمون کے مطابق مہدی نے دار الحکومت ام درمان میں اصلاحات نافذ کیں: شراب و نشہ ممنوع، شادیوں کے فضول اخراجات پر روک، اور ان کا سخت زاہدانہ ضابطہ نافذ ہوا۔ 1 2
وفات اور جانشینی
وہ پیر 9 رمضان 1302ھ مطابق 22 جون 1885 کو ام درمان میں ٹائیفس سے وفات پا گئے اور وہیں دفن ہوئے۔ ان کے خلیفہ عبد اللہ التعایشی نے 1898 تک ریاست چلائی؛ ریاست 1899 میں اینگلو مصری فتح سے ختم ہوئی۔ 2 1
جدید سوڈان میں انہیں قومیت کے پیش رو میں شمار کیا جاتا ہے؛ ان کے اولادی صادق المہدی بعد میں دو بار وزیرِ اعظم بنے۔ 1
عقیدہ و نسبت
اس ریکارڈ میں ان کی نسبت سلسلہ سمانیہ سے درج ہے، کیونکہ انگریزی اور عربی دونوں مضامین مستقل طور پر ان کی بیعت، اجازت اور جانشینی بیان کرتے ہیں۔ کسی ماخذ نے ان کے لیے کوئی فقہی مذہب نام لے کر بیان نہیں کیا، اس لیے کوئی مذہبی درجہ بندی اس سے آگے درج نہیں۔ مہدی ہونے کا دعویٰ اس مضمون میں ہر جگہ انہی کی طرف منسوب کر کے پیش کیا گیا ہے، یہ میوزیم کی تصدیق نہیں۔ 1 2
حوالہ جات
- انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 1381619064)؛ عربی ویکیپیڈیا «محمد أحمد المهدي» (نظرثانی 76435878)؛ اردو ویکیپیڈیا (نظرثانی 11397080)؛ ویکی ڈیٹا Q298678۔
- پیدائش کا سال ماخذوں میں مختلف ہے: ویکی ڈیٹا 1844 (یہی یہاں لیا گیا)، انگریزی و عربی مضامین 1843، اردو مضمون 1845۔ اردو مضمون کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے جامعہ ازہر میں تعلیم پائی، عربی و انگریزی مضامین سے ثابت نہیں، اس لیے استعمال نہیں کیا گیا۔
تعلقات
- Participated in
- حصار الخرطوم
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Muhammad Ahmad — English Wikipedia
- Muhammad Ahmad — Arabic Wikipedia
- Muhammad Ahmad — Urdu Wikipedia
- Muhammad Ahmad — Wikidata Q298678
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد احمد مہدی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-ahmad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.