ایک نظر میں
- کردار
- writer · activist
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
مرزا جہانگیر خان (تقریباً 1870 یا 1875 – 23 جون 1908)، جو جہانگیر خانِ صور اسرافیل کے نام سے معروف ہیں، شیراز کے ایرانی مصنف و صحافی تھے، ترقی پسند ہفت روزہ اخبار «صور اسرافیل» کے بانی و مدیر اور فارسی آئینی انقلاب کے اہم ستون۔ جون 1908 کی بغاوت کے بعد محمد علی شاہ نے انہیں تہران کے باغ شاہ میں قتل کرایا۔ 1
ان کی دونوں تواریخ اس واحد مضمون روایت کے اندر مختلف ہیں جو انہیں درج کرتی ہے: مضمون پیدائش «1870 یا 1875» دیتا ہے، اور پھانسی کو اپنے آغاز میں 23 جون 1908 اور سوانح میں 4 جون 1908 لکھتا ہے۔ یہ ریکارڈ ابتدائی تواریخ اختیار کرتا ہے اور متبادلات درج کرتا ہے۔ 1
شیراز اور تہران
وہ شیراز میں نسبتاً غریب گھرانے میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد رجب علی شیرازی تھے۔ نوجوانی میں انہوں نے اپنے وطن کے اساتذہ سے فارسی ادب، منطق، فلسفہ اور ریاضی پڑھی، پھر تہران جا کر دار الفنون و دیگر مراکز میں جدید علوم کا مطالعہ کیا۔ آئینی تحریک کے آغاز پر وہ زیر زمین انقلابی گروہوں میں شامل ہوئے اور حاج شیخ ہادی نجم آبادی کے مرید بنے۔ 1
انگریزی مضمون لکھتا ہے کہ «معلوم ہے کہ مرزا جہانگیر خان ازلی بابی تھے»، نکی کیڈی کی «جدید ایران» کے حوالے سے؛ اور منگول بایت استنتاج سے یہ بات بہت محتمل قرار دیتی ہیں کہ وہ نجم آبادی کے ذریعے تہران میں بابی ہوئے۔ یہ اثبات اسی واحد علمی روایت پر قائم ہے، اس لیے ان کا درج شدہ ایمان نامعلوم ہے اور الفاظ ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ 1
صور اسرافیل
قاسم صور اسرافیل کی مالی پشت پناہی سے انہوں نے 30 مئی 1907 سے ہفت روزہ «صور اسرافیل» نکالا؛ ان کی ادارت میں بتیس شمارے نکلے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی اشاعت تقریباً بیس سے چوبیس ہزار نسخوں تک پہنچی۔ علی اکبر دہخدا کے طنزیہ کالم «چرند و پرند» نے، جو عام لوگوں کی زبان میں لکھا جاتا تھا، اخبار کو مشہور کر دیا، اور جہانگیر خان کی موت کے بعد دہخدا اور حسن تقی زادہ نے سوئٹزرلینڈ سے مزید تین شمارے نکالے۔ 1
گرفتاری اور پھانسی
جب روسی قیادت والی قزاق بریگیڈ نے جون 1908 میں مجلس پر گولہ باری کی تو جہانگیر خان چند نمائندوں کے ساتھ محصور احاطے سے نکل کر مرزا محسن خان امین الدولہ کے گھر پناہ گزین ہوئے۔ امین الدولہ نے بہبہانی، طباطبائی اور دوسروں کو پناہ دی مگر جہانگیر خان اور ملک المتکلمین کو — جو بہت سے ہم عصروں کی نظر میں بابی تھے — پناہ دینے سے انکار کیا، اور روایت ہے کہ انہوں نے باغ شاہ کو ان کی خبر دے دی۔ وہاں شاہ کے سپاہیوں نے محمد علی شاہ کی موجودگی میں دونوں کو قتل کر دیا؛ جہانگیر خان کا گلا گھونٹا گیا اور دل میں خنجر مارا گیا، اور روایت ہے کہ انہوں نے زمین کی طرف اشارہ کر کے کہا: «اے زمین، ہم تیری حفاظت کی خاطر قتل کیے جا رہے ہیں»۔ ان کی لاشیں باغ کی دیواروں کے باہر کھائی میں پھینک دی گئیں اور دوستوں نے رات کو دفن کیں؛ شاہ کے زوال کے بعد قبروں پر ان کے نام کندہ پتھر لگائے گئے۔ 1
مصادر
- اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخ ہو اور ہر تبدیل شدہ امر کا ماخذ نامزد کرے۔
تعلقات
- Born in
- شيراز
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Mirza Jahangir Khan — English Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “مرزا جہانگیر خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mirza-jahangir-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.