محمد شوکت ایگی

محمد شوكت أيغي

–

استنبول

محمد شوکت ایگی ⁦(7 فروری 1933ء – 12 جولائی 2019ء)⁩ ترک صحافی، کالم نگار اور ناشر تھے؛ انھوں نے رسالہ «اسلام» ⁦(1957ء)⁩ اور پھر روزنامہ «بوگون» ⁦(1966ء)⁩ نکالا، جس میں ان کی فروری 1969ء کی تحریر «خونی اتوار» کے واقعے سے پہلے آئی؛ کچھ برس بیرونِ ملک گزارنے کے بعد وہ 1991ء سے وفات تک «مللی گازیتہ» میں کالم لکھتے رہے۔ علمی تحقیقات اور جرمن سرکاری رپورٹوں نے ان کی یہود مخالف سازشی نظریات کی اشاعت اور ہولوکاسٹ سے انکار کو دستاویزی شکل دی ہے؛ وہ اہلِ سنت والجماعت کے اپنے اعلانیہ دفاع کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · activist
خطہ
anatolia-balkans

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · شیخ احمد لیمو · علی حسن موینی · علي يافعي · باجی قائد السبسی

مکان میں

استنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    سنی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات2019

    تعلیم و تربیت

    محمد شوکت ایگی 7 فروری 1933ء کو بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع زونگولداق صوبے کے شہر ایریغلی میں پیدا ہوئے؛ وہ اپنے خاندان کے اکلوتے بچے تھے۔ انھوں نے استنبول کے گلاتا سرائے ہائی اسکول میں تعلیم پائی، جہاں فرانسیسی سیکھی، اور 1952ء میں انقرہ یونیورسٹی کی کلیۂ علومِ سیاسیہ میں داخلہ ملا، جہاں سے 1956ء میں فارغ التحصیل ہوئے۔ وہ انقرہ میں فرانسیسی ثقافتی مرکز میں مترجم رہے، دو برس دینی امور کی صدارت میں کام کیا، اور عالم عمر نصوحی بیلمان کے نجی سیکرٹری رہے۔ {cite:source/wikipedia-mehmed-sevket-eygi-en} {cite:source/wikipedia-mehmed-sevket-eygi-tr}

    «اسلام» اور «بوگون»

    سنہ 1957ء میں انھوں نے دس دوستوں کے ساتھ رسالہ «اسلام» نکالا، جو ان کا پہلا اشاعتی منصوبہ تھا۔ 1966ء سے وہ روزنامہ «بوگون» نکالنے لگے، جو اپنے دور کے اسلامی اخبارات میں سب سے معروف ہوا؛ قرآن کے استاد سلیمان حلمی توناخان اس کے سرپرستوں میں تھے۔ 16 فروری 1969ء کو «بوگون» میں ان کا مضمون «جہاد کے لیے تیار رہو» چھپا؛ اسی شام استنبول میں ایک بائیں بازو کے جلوس پر ہجوم نے حملہ کیا، جسے «خونی اتوار» کہا جاتا ہے؛ اس میں دو افراد مارے گئے اور تقریباً دو سو زخمی ہوئے۔ ایگی نے تشدد کی ذمہ داری سے انکار کیا، اور بعد میں صحافی سونر یالچن کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتا، جنھوں نے اپنی کتاب «بائے پیپو» میں اس دن کی منصوبہ بندی ان سے منسوب کی تھی۔ {cite:source/wikipedia-mehmed-sevket-eygi-en} {cite:source/zeytinburnu-mehmed-sevket-eygi}

    جلا وطنی، واپسی اور «مللی گازیتہ»

    مقدمات کے دباؤ پر وہ 1969ء میں حج کے لیے نکلے اور تقریباً چھ برس بیرونِ ملک — سعودی عرب، اردن، بیروت اور جرمنی میں — رہے، یہاں تک کہ ان کے خلاف مقدمات ختم ہو گئے؛ 1974ء میں وہ ترکی لوٹ آئے۔ اس کے بعد وہ «ینی استقلال»، «بویوک گازیتہ»، «سون حوادث» اور «سون چاغری» میں شائع یا لکھتے رہے، اور 1991ء سے وفات تک «مللی گازیتہ» میں کالم لکھا، جو ملی گوروش تحریک سے وابستہ اخبار ہے۔ عدالتوں نے انھیں ان کے مضامین پر کئی بار قید کیا، جن میں 2002ء اور 2006ء بھی شامل ہیں۔ {cite:source/wikipedia-mehmed-sevket-eygi-en} {cite:source/wikipedia-mehmed-sevket-eygi-tr}

    ان کے مواقف اور ان کا ریکارڈ

    ایگی اہلِ سنت والجماعت کے اعلانیہ مدافع کے طور پر لکھتے تھے: زیتون بورنو بلدیہ کے ایک یادگاری مجلد میں، جو ان کے جاننے والوں نے لکھا، درج ہے کہ وہ دین میں اصلاح اور «ہلکے» و «معتدل» اسلام کو رد کرتے تھے اور اہلِ سنت کو نجات یافتہ فرقہ سمجھ کر ان سے وابستہ تھے؛ ان کی ایک کتاب کا عنوانی ہی «میں اہلِ سنت کا دفاع کرتا ہوں» ہے۔ اسی تحریری مجموعے میں دہائیوں تک یہود مخالف سازشی نظریات بھی شامل رہے، جن میں دونمہ (سبتائی) موضوعات پر تحریریں اور ہولوکاسٹ سے انکار شامل ہے؛ جرمن وزارتِ داخلہ کی 2010ء اور 2011ء کی رپورٹوں اور محقق رفعت بالی نے یہ مواقف درج کیے ہیں، اور ترکی میں یہود دشمنی پر علمی تحقیق نے بھی۔ {cite:source/zeytinburnu-mehmed-sevket-eygi} {cite:source/wikipedia-mehmed-sevket-eygi-en}

    وفات

    ایگی نے شادی نہیں کی اور ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ 12 جولائی 2019ء کو استنبول کے ایک اسپتال میں دل کی بیماری سے انتقال کر گئے؛ 13 جولائی کو فاتح مسجد میں ان کی نمازِ جنازہ ہوئی، جس میں صدر رجب طیب اردوغان بھی شریک ہوئے، اور وہ مرکز افندی قبرستان میں دفن ہوئے۔ انھوں نے اپنی 45 ہزار سے زائد کتابوں کی لائبریری انقرہ کے صدارتی کمپلیکس کی قومی لائبریری کے لیے چھوڑی۔ {cite:source/wikipedia-mehmed-sevket-eygi-en} {cite:source/wikipedia-mehmed-sevket-eygi-tr}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    استنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    • Mehmed Şevket Eygi — English Wikipedia
    • Mehmed Şevket Eygi — Turkish Wikipedia
    • Müslüman Bir Münevverin Portresi: Mehmed Şevket Eygi — Zeytinburnu Belediyesi memorial volume
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد شوکت ایگی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mehmed-sevket-eygi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-06.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.