ابراہیم نجويا

إبراهيم نجويا

تقریباً 1860 عیسوی · 1276 ھ –

مغربی کیمرون میں باموم کے سترہویں سلطان (دَورِ حکومت 1886/87–1933)، باموم رسم الخط اور شُموم زبان کے موجد؛ انہوں نے فومبان محل تعمیر کرایا اور اپنے رسم الخط کی تعلیم کے لیے اسکول قائم کیے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan · writer
خطہ
west-africa-sahel
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرشید ابراہیم · اللہ دیا خان · بدرالدین الحسنی · جماعت علی شاہ · لیلیٰ ساز

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ابراہیم مبومبو نجويا (تقریباً 1860 – 1933) مغربی کیمرون کی باموم مملکت کے سترہویں حکمران تھے، جنہوں نے 1886 یا 1887 سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ سب سے زیادہ باموم رسم الخط کے موجد کے طور پر جانے جاتے ہیں؛ یہ نظامِ تحریر انہوں نے تقریباً پندرہ برس میں درجہ بدرجہ مکمل کیا اور اپنے قائم کردہ اسکولوں میں اس کی تعلیم دی، اور وہ فومبان کے عظیم محل کے بانی بھی تھے۔ ان کا طویل دورِ حکومت جرمن اور فرانسیسی نوآبادیاتی ادوار پر محیط رہا اور تین مذہبی موڑ دیکھے: عیسائیت قبول کرنا، پھر اپنی وضع کردہ قومی مذہبی ترکیب، اور آخر میں 1916 میں اسلام قبول کرنا، جب انہوں نے خلیفۂ سکوٹو کی بالادستی تسلیم کی۔12

    نجويا اپنے والد نسانگو کے جانشین ہوئے، جو نسو قوم کے خلاف جنگ میں مارے گئے تھے۔ ان کی نابالغی کے زمانے میں ان کی والدہ نجابدونکی نائب السلطنت رہیں۔ بالغ ہونے پر ان کے اور ان کے سابق مربی کے درمیان خانہ جنگی ہوئی (1892–1895)، جس میں انہوں نے بنیو کے فولانی لامیدو کی سوار فوج کی مدد سے کامیابی حاصل کی؛ یہی تعلق بعد میں ان کے اسلام قبول کرنے کی راہ ہموار کرنے والوں میں سے تھا۔ جرمنوں سے انہوں نے اچھے تعلقات رکھے اور قیصر ولیم دوم سے تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔32

    ان کا رسم الخط تقریباً سات سو علامتوں کے تصویری نظام سے شروع ہو کر کئی مراحل سے گزرا اور فروری 1910 میں تقریباً تراسی علامتوں کے ساتھ مکمل ہوا۔ انہوں نے اس میں اپنی قوم کی تاریخ و رسوم پر ایک کتاب بھی لکھوائی اور اسے انتظامی رجسٹروں اور اسکولوں میں رائج کیا۔ 1913 میں پرانا لکڑی کا محل جل جانے کے بعد انہوں نے 1917 میں فومبان میں اینٹوں کا نیا محل تعمیر کرایا، جو آج بھی باموم بادشاہوں کی نشست اور عجائب گھر ہے۔1

    ان کی مذہبی زندگی کے مراحل میں ماخذ پوری طرح متفق نہیں۔ انگریزی مقالہ کہتا ہے کہ وہ ایک جرمن مبلغ کے اثر سے عیسائی ہوئے، پھر عیسائیت اور روایتی عقائد کو ملا کر نیا مذہب وضع کیا، اور 1916 میں اپنے بیشتر دربار سمیت اسلام قبول کر لیا اور خلیفۂ سکوٹو سے امیر کا علم اور مسلمان اساتذہ بھیجنے کی درخواست کی۔ فرانسیسی مقالہ ان کا اسلام قبول کرنا خانہ جنگی کے زمانے (1890 کی دہائی) میں رکھتا ہے، قومی مذہب کی وضع تقریباً 1915 میں بتاتا ہے، اور کہتا ہے کہ 1920 سے وہ اسلام کی طرف لوٹ آئے۔ کسی ماخذ نے ان کے لیے ذاتی طور پر کوئی مکتب یا مسلک نہیں بتایا، اس لیے عجائب گھر کے ریکارڈ میں ان کا مذہبی انتماء نامعلوم درج ہے اور یہ پورا سفر وہاں محفوظ ہے۔13

    1916 میں فرانس نے کیمرون پر قبضہ کر لیا۔ نجويا فومبان میں رہے اور عملی طور پر بادشاہ کا کردار ادا کرتے رہے، اگرچہ فرانسیسیوں نے انہیں کبھی باقاعدہ تسلیم نہیں کیا۔ 1931 میں انہیں یاؤندے میں نظر بند کر دیا گیا، جہاں 1933 میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کے بعد ان کے بیٹے سیدو نجیمولو نجويا جانشین ہوئے۔14

    ماخذ

    1. Ibrahim Njoya — English Wikipedia
    2. Ibrahim Njoya — Arabic Wikipedia
    3. Ibrahim Njoya — French Wikipedia
    4. Ibrahim Njoya — Wikidata Q670091
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ابراہیم نجويا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ibrahim-njoya/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔