ایک نظر میں
- کردار
- activist · سیاست دان
- خطہ
- levant-iraq
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ابراہیم ہنانو (1869–1935) ایک سوری انقلابی اور سابق عثمانی بلدیاتی اہلکار تھا، جو کرد نژاد ایک زمیندار خاندان سے تھا اور اس نے 1920 کی دہائی کے اوائل میں شمالی شام میں فرانسیسی قبضے کے خلاف بغاوت کی قیادت کی۔ بعد میں وہ الکتلة الوطنیہ کے بانیوں میں شامل ہوا اور اس مجلسِ تأسیسی کا رکن بنا جس نے شام کا پہلا جمہوری آئین تیار کیا۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
ہنانو کفر تخاریم کے ایک مالدار کرد زمیندار خاندان میں پیدا ہوا اور حلب میں پروان چڑھا۔ اس کی پیدائش کے سال پر اختلاف ہے: انگریزی مضمون کے مطابق کیتھ ڈیوڈ واٹن پاؤ 1879 لکھتا ہے جبکہ سامی مبیّض 1869؛ عربی مضمون 1869 کو 1286ھ کے ساتھ جوڑتا ہے اور ویکیمیڈیا ڈیٹا بھی 1869 دیتا ہے۔ اس نے حلب کے سلطانی اسکول اور پھر استنبول کی ملکیہ حقوق اکیڈمی میں تعلیم پائی، جہاں طالب علمی میں جمعیتِ اتحاد و ترقی میں شامل ہوا۔ 1 3 4
وہ کچھ عرصہ عسکری اکیڈمی میں پڑھاتا رہا، پھر عثمانی انتظامیہ میں شامل ہوا اور اپنی جاگیر سنبھالنے کے لیے ریٹائر ہو گیا۔ ایک شامی ماخذ کے مطابق 1916 میں عرب بغاوت کے آغاز پر اس نے قوم پرستی اختیار کی، فیصل کی عرب فوج میں شامل ہوا اور 1918 میں اتحادیوں کے ساتھ حلب میں داخل ہوا۔ 1
ہنانو بغاوت
یہ بغاوت 1919 کے خزاں میں شروع ہوئی جب فرانسیسی فوج شامی ساحل پر اتری اور پورے ملک پر قبضے کی تیاری کر رہی تھی۔ ہنانو نے حلب، ادلب اور انطاکیہ کو ایک مربوط مہم میں جوڑا: فرانسیسی فوجیوں کو غیر مسلح کیا گیا، ریلوے اور تار لائنیں تباہ کی گئیں اور حلب پر حملے ناکام بنائے گئے۔ 23 جولائی 1920 کو فرانسیسیوں کے حلب پر قبضے کے بعد وہ کفر تخاریم واپس چلا گیا اور بغاوت کو ازسرِنو منظم کیا؛ باغیوں نے ارمناز میں ایک شہری حکومت بنائی اور اسے ترکی بھیجا تاکہ مصطفیٰ کمال کی تحریک سے مدد طلب کرے۔ اکتوبر 1921 کے فرینکلن-بویون معاہدے کے بعد ترک مدد ختم ہو گئی اور بغاوت دم توڑ گئی۔ 1
مقدمہ اور قومی سیاست
1922 میں ہنانو کو گرفتار کر کے فرانسیسی فوجی عدالت میں پیش کیا گیا؛ اس کے وکیل فتح اللہ سقال نے دلیل دی کہ وہ مجرم نہیں بلکہ سیاسی مخالف ہے۔ فرانسیسی پراسیکیوٹر نے سزائے موت مانگی، مگر جج نے 25 مارچ 1922 کو فرانسیسی حکومت سے ایک معاہدے کے تحت اسے رہا کر دیا۔ اسے گھر میں نظر بند رکھا گیا اور فرانسیسی خفیہ ادارے اس کی نگرانی کرتے رہے، پھر 1925 کی عظیم شامی بغاوت کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔ 1
وہ الکتلة الوطنیہ کے بانیوں میں سے تھا، اس کی دائمی مجلس کا رکن اور اس کے سیاسی دفتر کا سربراہ رہا، اور 1928 کی مجلسِ تأسیسی میں بیٹھا جس نے 1930 کا آئین بنایا۔ 1930 کی دہائی میں وہ سخت گیر کے طور پر مشہور تھا: فرانس سے اس وقت تک مذاکرات سے انکار کرتا رہا جب تک وہ شام کی مکمل غیر مشروط آزادی کا وعدہ نہ کرے۔ ستمبر 1933 میں نازی الکوسا نامی شخص نے کفر تخاریم میں اس کی ٹانگوں میں گولیاں ماریں؛ حملہ آور کو دس سال قید کی سزا ہوئی اور بعد میں فرانسیسی کمشنر نے اسے معاف کر دیا۔ 1 3
وفات
ہنانو 21 نومبر 1935 کو حلب میں وفات پا گیا؛ عربی مضمون اس تاریخ کو 24 شعبان 1354ھ کے ساتھ جوڑتا ہے، اور انگریزی مضمون اس کی موت کی وجہ تپ دق بتاتا ہے۔ اس کے بعد تین روزہ سوگ منایا گیا اور اخبارات سیاہ سرورق کے ساتھ شائع ہوئے؛ وہ فرانسیسی مینڈیٹ کے خلاف مزاحمت کی مشہور ترین شخصیات میں شمار ہوتا ہے۔ 1 3
اس کے مذہب پر ایک نوٹ
کوئی ماخذ ہنانو کے لیے ذاتی طور پر کوئی مذہب بیان نہیں کرتا: انگریزی مضمون کے متن میں اس کا ذکر نہیں، عربی مضمون کے معلوماتی خانے میں مذہب کا خانہ موجود مگر خالی ہے، اردو مضمون ایک چھوٹا سا خاکہ ہے، اور ویکیمیڈیا ڈیٹا میں اس کی کوئی مذہبی قدر درج نہیں۔ اس کا کرد اصل، جو مضامین درج کرتے ہیں، ایک نسلی شناخت ہے، مذہبی شہادت نہیں، اس لیے اس کے ریکارڈ میں اس کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ 1 3 4
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
نقل العادل إلى حلب والملك العزيز إلى مصر· الفارابي في بلاط سيف الدولة بحلب· نقل الملك الصالح إلى حلب وتسلط سعد الدين كمشتكين· مناقلة حلب من الموصل إلى سنجار· معركة أعزاز (١٠٣٠)· ملك الروم مدينة حلب· فتح حلب· وفاة الملك الظاهر غازي بن صلاح الدين
ماخذ
- Ibrahim Hananu — English Wikipedia
- Ibrahim Hanano — Urdu Wikipedia
- Ibrahim Hanano — Arabic Wikipedia
- Ibrahim Hanano — Wikidata Q1337578
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ابراہیم ہنانو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ibrahim-hanano/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.