ایک نظر میں
- کردار
- military · سیاست دان
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
حسین رؤف اوربے (27 جولائی 1881 – 16 جولائی 1964) ابخاز نژاد ترک بحری افسر، مدبر اور سفارت کار تھے۔ کروزر حمیدیہ کے کپتان کی حیثیت سے وہ بلقان جنگوں کے قومی ہیرو بنے؛ وزیرِ بحریہ کی حیثیت سے انہوں نے معاہدۂ مودروس پر دستخط کیے جس سے عثمانی ریاست کی پہلی جنگِ عظیم ختم ہوئی؛ اور 1922–1923 میں جنگِ آزادی کے دوران وہ انقرہ حکومت کے وزیرِ اعظم رہے۔ 1
ابتدائی زندگی اور حمیدیہ
وہ قسطنطنیہ کے جبالی محلے میں ایک ابخاز خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد محمد مظفر پاشا امیر البحر اور بعد میں عثمانی سینیٹ کے رکن تھے۔ انہوں نے طرابلس کے عسکری اسکول اور ہیبیلی آدا بحری اسکول میں تعلیم پائی، جہاں سے 1899 میں فارغ ہوئے، اور ایسی تعیناتیوں سے گزرے جو انہیں امریکہ، برطانیہ اور جرمنی لے گئیں۔ 1909 میں کروزر حمیدیہ کی کمان پا کر انہوں نے پہلی بلقان جنگ میں دردنيل کی یونانی ناکہ بندی توڑی اور تقریباً آٹھ ماہ بحیرۂ ابیض اور بحیرۂ احمر میں بلقان لیگ کی تجارتی کشتیوں پر چھاپے مارے — اپنی نوعیت کا پہلا چھاپا مار سفر — اور «حمیدیہ کے ہیرو» کہلائے۔ 1
مودروس اور جنگِ آزادی
پہلی جنگِ عظیم میں انہوں نے ایران و بلادِ رافدین میں تنظیمِ مخصوصہ کے ساتھ خدمات انجام دیں اور گیلی پولی مہم کے دوران بحری عملے کے سربراہ رہے۔ اکتوبر 1918 میں وزیرِ بحریہ بن کر انہوں نے اس وفد کی قیادت کی جس نے معاہدۂ مودروس پر دستخط کیے۔ پھر وہ اناطولیہ میں قومی تحریک سے شامل ہوئے، آماسیا سرکلر کے اجراء میں حصہ لیا، آخری عثمانی پارلیمان میں بیٹھے، اور انگریزوں نے انہیں گرفتار کر کے بیس ماہ مالٹا جلاوطن رکھا۔ قیدیوں کے تبادلے میں رہا ہو کر وہ نومبر 1921 میں انقرہ پہنچے، اور 12 جولائی 1922 کو فوزی چکمک کے جانشین کی حیثیت سے انقرہ حکومت کے وزیرِ اعظم بنے اور 4 اگست 1923 تک رہے؛ لوزان معاہدے پر دستخط کے لیے عصمت انونو کو اختیار دینے سے ان کے انکار نے وہ دراڑ کھولی جس پر ان کی وزارتِ عظمیٰ ختم ہوئی۔ 1
مقدمہ، جلاوطنی اور واپسی
1924 میں حزبِ اختلاف ترقی پسند جمہوری جماعت کے شریک بانی ہونے کے ناتے انہیں 1926 کے ازمیر قتل سازش مقدمے میں، جب وہ علاج کے لیے ویانا میں تھے، غیر حاضری میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ انہوں نے 1933 کی عام معافی کے تحت واپسی سے انکار کیا، یہ مؤقف لے کر کہ بے گناہ آدمی ڈاکوؤں کی طرح معافی قبول نہیں کر سکتا؛ وہ 1935 میں وطن لوٹے، 1941 میں عدالت سے اپنی سزا کالعدم کرائی، قسطمونو سے آزاد رکنِ پارلیمان بنے، اور 1942 سے 1944 تک لندن میں سفیر رہے۔ وہ 16 جولائی 1964 کو اسطنبول میں دل کے دورے سے انتقال کر گئے اور ایرنکوئے کے صحرائی جدید قبرستان میں دفن ہیں۔ 1 2
مآخذ میں دو تفصیلات قابلِ ذکر ہیں۔ جن علمی سوانحی کتب پر خود یہ مضامین انحصار کرتے ہیں وہ ان کے سنِ ولادت اپنے عنوانات میں 1880 چھاپتی ہیں، جبکہ دونوں مضامین اور وکی ڈیٹا 27 جولائی 1881 دیتے ہیں؛ یہ ریکارڈ 1881 کو اختیار کرتا ہے اور دوسری قراءت محفوظ رکھتا ہے۔ اور کوئی نصی روایت ان کے لیے کوئی مکتب نام نہیں لیتی: ترک مضمون کا معلوماتی خانہ ان کا مذہب عمومی طور پر «اسلام» دیتا ہے، اور وکی ڈیٹا کی «سنی اسلام» قیمت کا واحد حوالہ اسی ترک وکی پیڈیا سے درآمد ہے، اس لیے میوزیم کے دو مستقل مآخذ کے اصول کے تحت ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے۔ 2 3
مآخذ
- اوپر مذکور معرف مآخذ کے اندراجات،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام لے جس نے ہر حقیقت بدلی۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا
ماخذ
- Hüseyin Rauf Orbay — English Wikipedia
- Hüseyin Rauf Orbay — Turkish Wikipedia
- Hüseyin Rauf Orbay — Wikidata Q282179
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حسین رؤف اوربے”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/huseyin-rauf-orbay/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.