غلام رسول عالمپوری

غلام رسول عالم بوري

–

پنجابی شاعر (1849ء–1892ء) عالم پور، ضلع ہوشیارپور سے، گوجر خاندان سے تعلق۔ 1882ء تک دیہی اسکولوں میں پڑھایا؛ مشہور تصانیف «داستان امیر حمزہ» (1869ء) اور «احسن القصص» (1873ء) ہیں، جو یوسف زلیخا کے قصے کی منظوم صورت ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام (EI3) کے مطابق وہ اکثر پنجابی شعرا کے برعکس کسی صوفی سلسلے سے وابستہ نہ تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: ابائی قنان باولی · عبد الرحمن الكواكبي · عبد الرزاق البيطار · عبد اللہ الندیم · عبدل فراشری

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مولوی غلام رسول عالمپوری (29 جنوری 1849ء – 7 مارچ 1892ء) پنجابی کے بڑے شاعر تھے، جن کی شہرت ان کی منظوم داستان «احسن القصص» (1873ء)، قصہ یوسف زلیخا، پر ہے۔1 انگریزی مضمون انھیں پنجابی صوفی شاعر کہتا ہے، مگر انسائیکلوپیڈیا آف اسلام (EI3) کے مدخل کے حوالے سے لکھتا ہے کہ وہ اکثر پنجابی شعرا کے برعکس کسی صوفی سلسلے سے وابستہ نہ تھے۔2

    زندگی

    ان کی ولادت 1849ء میں بستی عالم پورکوٹلہ، تحصیل دسوہہ، ضلع ہوشیار پور میں ہوئی؛ والد کا نام مراد بخش تھا اور قوم گوجر تھی۔1 انگریزی مضمون کے مطابق وہ چھ ماہ کے تھے کہ والدہ اور بارہ برس کے تھے کہ والد کا انتقال ہوا، اور ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے مولوی حمید صاحب سے حاصل کی۔2 اردو مضمون کے مطابق انھوں نے قریبی قصبے میں مولوی محمد عثمان سے اردو، فارسی اور عربی سیکھی، خواجہ نظام الدین اولیا کے گدی نشین کے شاگرد ہوئے اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔1 وہ 1864ء سے 1878ء تک میرپور کے اسکول میں مدرس رہے اور 1882ء میں آخری اسکول سے استعفیٰ دے کر تدریس چھوڑ دی۔2

    تصانیف

    ان کی معروف تصانیف میں «احسن القصص» (قصہ یوسف زلیخا)، «داستان امیر حمزہ» (1869ء)، «بارہ ماہ مالی تے بلبل»، «چٹھی سید روشن علی دے ناں» اور «سی حرفی سسی پنوں» شامل ہیں، اور ان کی چھوٹی تصانیف «ست پھول» میں جمع ہوئیں۔12

    وفات و اثرات

    اردو مضمون کے مطابق ان کی وفات 5 مارچ 1892ء کو عالم پور میں ہوئی اور مزار بھی عالم پور میں ہے، جبکہ انگریزی مضمون اور وکی ڈیٹا 7 مارچ 1892 دیتے ہیں۔12 ان کی زندگی و فن پر پٹیالہ (انڈیا) اور پنجاب (پاکستان) میں ڈاکٹریٹ کی اسناد دی جا چکی ہیں اور دونوں پنجابوں میں ان کی برسیوں پر سیمینار ہوئے۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {3}

    ماخذ

    1. Ghulam Rasul Alampuri — Urdu Wikipedia
    2. Ghulam Rasul Alampuri — English Wikipedia
    3. Ghulam Rasul Alampuri — Wikidata Q20609264
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “غلام رسول عالمپوری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ghulam-rasul-alampuri/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔