ایک نظر میں
- کردار
- حکمران
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
فؤاد اول (26 مارچ 1868 – 28 اپریل 1936)، پیدائشی نام احمد فؤاد، 1917 سے 1936 تک مصر کے حکمران رہے: مصر کے آخری سلطان اور پھر 15 مارچ 1922 سے اس کے پہلے بادشاہ۔ خدیو اسماعیل کے سب سے چھوٹے بیٹے، وہ اپنے بھائی سلطان حسین کامل کے جانشین ہوئے، اور ان کے عہد میں 1923 کا آئین آیا اور پارلیمانیں بار بار تحلیل ہوتی رہیں۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ قاہرہ کے جیزہ محل میں پیدا ہوئے؛ ان کی والدہ فریال ہانم تھیں۔ بچپن اپنے جلاوطن والد کے ساتھ نیپلز میں گزرا اور انہوں نے اٹلی کے شہر ٹیورن کی فوجی اکیڈمی میں تعلیم پائی۔ تخت نشینی سے پہلے انہوں نے مصری یونیورسٹی (اب جامعہ قاہرہ) کے قیام میں اہم کردار ادا کیا اور 1908 سے 1913 تک اس کے پہلے ریکٹر رہے؛ ان کے بعد حسین رشدی پاشا اس منصب پر آئے۔ وہ 1915 سے 1918 تک مصری جغرافیائی سوسائٹی کے صدر بھی رہے۔ 1 2
1917 سے پہلے کی خواہشات
انگریزی مقالہ دو واقعات سیاسی سیاق میں بیان کرتا ہے۔ 1911 میں، اٹلی کے طرابلس اور برقہ پر حملے کے بعد، شہزادہ احمد فؤاد نے اطالوی تاج کے تحت لیبیا کا عرب مسلم حکمران بننے کی کوشش کی؛ اٹلی نے براہِ راست نوآبادیاتی حکومت کو ترجیح دی۔ 1913 میں عزام پاشا نے انہیں البانیا کے تخت کے لیے نامزد کرنے کی تجویز دی، جس کے مسلمان ایک مسلم بادشاہ چاہتے تھے؛ یورپی طاقتوں نے مارچ 1914 میں ایک جرمن شہزادے کو چنا۔ 2
دورِ حکومت
وہ 1917 میں اپنے بھائی حسین کامل کی وفات پر سلطنتِ مصر کے تخت پر بیٹھے۔ 1919 کے انقلاب کے بعد برطانیہ نے اپنا تحفظ ختم کیا اور 28 فروری 1922 کو مصر کو خودمختار ریاست تسلیم کیا؛ 15 مارچ 1922 کو فؤاد نے اپنا لقب سلطان سے بدل کر بادشاہ کر لیا۔ 1923 کے آئین نے انہیں وسیع اختیارات دیے اور انہوں نے پارلیمان تحلیل کرنے کے حق کا بکثرت استعمال کیا۔ 1930 میں انہوں نے 1923 کا آئین منسوخ کر کے محدود آئین نافذ کیا، لیکن وسیع عوامی ناراضی نے 1935 میں پرانا آئین بحال کرنے پر مجبور کر دیا۔ انہوں نے شاہی آرکائیو بھی قائم کیا، جس کے لیے ماہرین نے یورپی آرکائیو سے ان کے آبا سے متعلق خط و کتابت کی ستاسی جلدیں نقل و مرتب کیں۔ 1 2
ذاتی زندگی اور وفات
ان کی پہلی شادی اپنی چچا زاد شویکار ابراہیم سے ہوئی (1895، طلاق 1898)؛ 1898 میں ان کے بھائی نے ان کے حلق پر گولی چلائی جس کا نشان زندگی بھر رہا۔ 1919 میں انہوں نے نازلی صبری سے شادی کی، جن سے پانچ بچے ہوئے، جن میں مستقبل کے شاہ فاروق اور ایران کی ملکہ بننے والی فوزیہ شامل ہیں۔ وہ 28 اپریل 1936 کو قاہرہ کے قبہ محل میں وفات پا گئے، ان کے سولہ سالہ بیٹے فاروق جانشین ہوئے، اور انہیں قاہرہ کی مسجد الرفاعی کے خدیوی مقبرے میں دفن کیا گیا۔ 1 2
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
حسین کامل· القاهرة· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608
ماخذ
- Fuad I of Egypt — Arabic Wikipedia
- Fuad I of Egypt — English Wikipedia
- Fuad I of Egypt — French Wikipedia
- Fuad I of Egypt — Wikidata Q311839
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “شاہ فؤاد اول”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fuad-i-of-egypt/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.