فخرالدین علی احمد

فخر الدين علي أحمد

–

دلهي

ہندوستانی وکیل اور سیاست دان (1905ء–1977ء)، 1939ء میں اور پھر 1957ء سے 1966ء تک آسام کے وزیرِ خزانہ، 1946ء سے صوبے کے ایڈووکیٹ جنرل، اور 1966ء سے مرکزی کابینہ کے وزیر۔ ہندوستان کے پانچویں صدر (1974ء–1977ء) کی حیثیت سے انھوں نے جون 1975ء میں وزیرِ اعظم کے مشورے پر ایمرجنسی نافذ کی؛ 11 فروری 1977ء کو دل کے دورے سے عہدے میں وفات پائی، وہ صدارت سنبھالنے والے دوسرے مسلمان تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · فقیہ
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي · ابو الاعلیٰ مودودی · الأكوع محمد بن علي

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فخرالدین علی احمد (13 مئی 1905ء – 11 فروری 1977ء) ہندوستانی وکیل اور سیاست دان تھے، جو 1974ء سے 1977ء تک ہندوستان کے پانچویں صدر رہے۔ آسام میں کانگریس کے دیرینہ رہنما — دو بار اس کے وزیرِ خزانہ اور ایک بار ایڈووکیٹ جنرل — اور پھر مرکزی کابینہ کے وزیر کے طور پر وہ صدارت سنبھالنے والے دوسرے مسلمان بنے اور عہدے میں وفات پائی۔ 1 2

    آسام اور مرکزی کابینہ

    احمد دہلی میں پیدا ہوئے، دہلی اور کیمبرج میں تعلیم پائی، اور 1928ء میں اِنر ٹیمپل سے بار میں داخل ہوئے۔ انھوں نے لاہور اور پھر گوہاٹی میں وکالت کی، 1930ء کی دہائی میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے، اور 1939ء میں بوردولوئی وزارت میں آسام کے وزیرِ خزانہ بنے۔ 1946ء میں آسام کے ایڈووکیٹ جنرل ہوئے اور 1957ء سے 1966ء تک دوبارہ وزیرِ خزانہ رہے۔ اندرا گاندھی نے 1966ء میں انھیں مرکزی کابینہ میں شامل کیا جہاں بعد کے برسوں میں ان کے پاس بجلی، آبپاشی، صنعت اور زراعت سمیت قلمدان رہے۔ 3 4

    صدارت اور ایمرجنسی

    احمد نے 24 اگست 1974ء کو صدر کا حلف اٹھایا — یہ عہدہ سنبھالنے والے دوسرے مسلمان اور مرکزی کابینہ سے براہِ راست اس عہدے تک پہنچنے والے پہلے شخص۔ جون 1975ء میں وزیرِ اعظم کے مشورے پر انھوں نے ایمرجنسی نافذ کی، اور اس دور کے آرڈیننسوں اور آئینی ترامیم پر ان کی منظوری نے ان کی صدارت کو «ربڑ اسٹیمپ» کی شہرت دی۔ 11 فروری 1977ء کو دل کے دورے سے عہدے میں وفات پائی اور سرکاری جنازے کے بعد نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب ایک مسجد میں دفن ہوئے۔ اس سجل کے لیے پڑھے گئے مآخذ میں سے کوئی بھی ان کے لیے کوئی مذہبی مکتبِ فکر نامزد نہیں کرتا، لہٰذا کوئی درج نہیں۔ 3 1 2

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو، اور ہر حقیقت کو بدلنے والا ماخذ نامزد کرے۔

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • فقیہ · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دلهي
    Died in
    دلهي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي· حصار دلهي (١٨٥٧)

    ماخذ

    1. Fakhruddin Ali Ahmed — Urdu Wikipedia
    2. Fakhruddin Ali Ahmed (Q317778)
    3. Fakhruddin Ali Ahmed — English Wikipedia
    4. Fakhruddin Ali Ahmed — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فخرالدین علی احمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fakhruddin-ali-ahmed/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    تتويج أورنكزيب بدلهي

    اپنے بھائیوں کے خلاف جانشینی کی جنگ کے بعد اورنگزیب نے 1659ء میں دہلی میں خود کو مغل بادشاہ قرار دیا.