ایک نظر میں
- کردار
- شاعر
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
sufi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
زندگی اور تعلیم
عبد اللہ شاہ اوچ میں سادات علماء کے گھرانے میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد شاہ محمد درویش عربی، فارسی اور قرآن کے عالم تھے 1۔ بچپن میں خاندان ملکوال اور پھر قصور کے قریب پانڈو منتقل ہوا، جہاں انھوں نے والد سے پڑھا اور مویشی چرائے، پھر قصور میں حافظ غلام مرتضیٰ سے اعلیٰ تعلیم پائی اور لاہور جا کر شاہ عنایت قادری سے پڑھا جن کے مرید ہوئے 1 3۔ اردو مقالہ کہتا ہے کہ انھوں نے شاہ عنایت کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان کا تعلق صوفیاء کے قادریہ مکتب فکر سے تھا، جبکہ شطاری فکر نے بھی ان کی تربیت میں حصہ لیا 2۔
شاعری اور مخالفت
بلھے شاہ نے ڈیڑھ سو سے زائد کافیاں اور چورانوے کے قریب دیگر نظمیں عوامی پنجابی میں چھوڑیں جن کا موضوع وحدتِ الٰہی، عشقِ الٰہی اور انسانوں کی مساوات ہے 1۔ انھوں نے علماء کے اختیار اور دوہرے معیاروں پر تنقید کی تو قصور کے بعض علماء نے ان کی زندگی میں انھیں کافر قرار دیا اور ایک بار بنیاد پرستوں کے خطرے سے سکھ گردوارے میں پناہ لینی پڑی؛ وفات پر انہی لوگوں نے نمازِ جنازہ سے انکار کیا تو سید زاہد ہمدانی نے جنازہ پڑھایا اور قصور کے کنارے دفن ہوئے 1۔ ان کی کافیاں ضرب المثل بن گئیں اور آج تک گائی جاتی ہیں، نصرت فتح علی خان سے راک بینڈوں تک 1۔
مذہب
کسی صوفی سلسلے میں ان کا داخلہ خود ان کے لیے دو آزاد اشاعتوں میں ثابت ہے: انگریزی مقالہ لاہور میں شاہ عنایت قادری، ایک صوفی مرشد، کے ہاں ان کی تلمذ کا ذکر کرتا ہے 1، اور اردو مقالہ شاہ عنایت کے ہاتھ پر ان کی بیعت درج کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کا تعلق قادریہ سے تھا 2؛ یہ نسبت ان کے نام عبد اللہ شاہ قادری میں شامل ہے اور عربی مقالہ انھیں القادری الشطاری القصوری کہتا ہے 3۔ اس لیے وہ صوفی موثق درج ہیں اور قادریہ سے ان کا علاقہ سجل میں موجود ہے، ساتھ میں ان کی فکر کی شطاری رنگت بھی درج ہے۔ ہم عصروں کی تکفیر ان کے مصادر کی روایت کردہ واقعہ ہے، ان کے مذہب کی تسویہ نہیں۔
محققین کے لیے نوٹس
نہ ان کے اصل نام پر اتفاق ہے نہ سنین پر: انگریزی مقالہ ولادت تقریباً 1680ء اس تنبیہ کے ساتھ دیتا ہے، اردو مقالہ 3 مارچ 1680ء کو 1091ھ سے جوڑتا ہے، اور پنجابی مقالہ عمر 1680ء–1758ء دیتا ہے 1 2 4۔ وفات میں اردو مقالہ 22 اگست 1757ء قصور میں 77 سال کی عمر دیتا ہے اور ویکی ڈیٹا متفق ہے، جبکہ انگریزی معلوماتی خانہ 30 اگست، کرسٹوفر شیکل 1758ء، اور اردو مقالہ ”تذکرہ اولیائے پاکستان“ کی 1181ھ والی روایت بھی محفوظ رکھتا ہے 2 1 5۔ عربی مقالے کی جوڑی ”1061ھ بمطابق 1675ء“ اندرونی طور پر غیر متسق ہے اور نہیں لی گئی 3۔ اوچ اور قصور کے میوزیم میں مقام سجل ابھی نہیں، اس لیے کوئی مکانی علاقہ درج نہیں۔
تعلقات
- Member of
- قادریہ طریقہ
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
عبد العلیم صدیقی· حاجی شریعت اللہ· جہاں آرا بیگم· کونتا حاجی کیشیف· ماء العینین· میاں محمد بخش· مختار الکُنتی· نانا اسماء
ماخذ
- Bulleh Shah — English Wikipedia
- Bulleh Shah — Urdu Wikipedia
- Bulleh Shah — Arabic Wikipedia
- Bulleh Shah — Punjabi Wikipedia
- Bulleh Shah — Wikidata Q3351571
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “بلھے شاہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/bulleh-shah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.