ایک نظر میں
- کردار
- جرنیل
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
خلاصہ
طبری ذکر کرتے ہیں کہ معتصم نے بابک خرمی کو قتل کیا، اور افشین سنہ 223 ہجری میں اسے معتصم کے ساتھ لے کر آئے 2 3.
ابن ندیم نے واقد بن عمرو تمیمی سے ان کی ابتدا کے بارے میں ایک خبر نقل کی ہے۔ ان کے والد مدائن کے ایک تیل بیچنے والے تھے جو آذربائیجان کی سرحد کی طرف چلے گئے، وہاں انہوں نے بابک کی والدہ سے شادی کی، پھر جیلان کے ایک سفر میں قتل کر دیے گئے۔ بابک شبل بن منقذ ازدی کے ساتھ رہے، پھر تبریز میں محمد بن رواد ازدی کے ساتھ تقریباً دو سال رہے، پھر اٹھارہ سال کی عمر میں واپس لوٹ آئے 4.
اسی خبر کے مطابق جاویدان بن سہرک کی بیوہ نے ان کی موت کے بعد اس کی فوج کو بابک کی طرف جمع کیا، اور یہ مشہور کیا کہ جاویدان کی روح اس کے بدن میں داخل ہو گئی ہے۔ یہ ابن ندیم کی واقد سے نقل کردہ خبر ہے، اور ہمارے موجود ماخذوں میں کسی اور ذریعے سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی 4.
آغاز اور عروج
بابک خرمی تحریک کے سربراہ تھے، جو جزوی طور پر مزدکیت سے ماخوذ تھی اور خاص طور پر پرتشدد طریقے اختیار کرتی تھی۔ ان کا نام ایک ایرانی نام کی عربی شکل ہے۔ ابن الندیم کے مطابق ان کے والد مدائن کے ایک تیل فروش تھے، یا ایک اور روایت کے مطابق ابو مسلم کی نسل سے تھے، اور بابک آذربائیجان میں ایک گمنام پیشے سے وابستہ تھے۔ خرمیوں کے سربراہ جاوید بن سہرک نے انہیں دیکھا، اور وہ جلد ہی وفات پا گئے؛ پھر بابک نے دعویٰ کیا کہ جاوید کی روح ان میں حلول کر گئی ہے۔ انہوں نے البذ کے لوگوں کو بھڑکانا شروع کیا، جو اراّن کے پہاڑوں میں ارّس کے قریب ایک جگہ تھی جو اب موجود نہیں۔ ان کی سرگرمیوں کا آغاز تقریباً 201ھ/816-817ء بتایا جاتا ہے، اور انہیں آرمینیا کے گورنر حاتم بن ہرثمہ کی سازشوں اور مامون کی واپسی کے بعد صوبے کے بگڑے ہوئے حالات سے مدد ملی۔ 5
بغاوت اور انجام
مامون نے 204ھ/819-820ء میں یحییٰ بن معاذ کو ان کے خلاف بھیجا، اور بعد میں دوسرے سپہ سالار بھی ناکام رہے۔ مامون کی خلافت کے آخر تک بغاوت جبال تک پہنچ گئی تھی۔ معتصم نے سب سے پہلے اسے ختم کرنا اپنی ترجیح بنایا، اور 220ھ/835ء میں افشین کو مہم کا سربراہ مقرر کیا۔ افشین نے البذ کی سڑک کے وہ قلعے دوبارہ تعمیر کیے جو بابک نے مسمار کیے تھے، اور بغا الکبیر کی ہشتاد سر میں شکست کے باوجود باغی رہنما طرخان کو گرفتار کر لیا۔ جعفر الخیاط کے دستوں اور ابو دلف کے رضاکاروں کی مدد سے انہوں نے 222ھ/837ء میں ایک کیمپ قائم کیا، جہاں سے البذ کے قلعے کو مسلسل تنگ کیا گیا۔ 9 رمضان 222ھ (15 اگست 837ء) کو قلعہ فتح ہوا اور فرغانہ کے دستوں نے اسے لوٹا۔ بابک فرار ہوئے، اور جس آرمینی بزرگ سہل بن سنباط کے پاس انہوں نے پناہ لی تھی، اس نے انہیں افشین کے حوالے کر دیا۔ وہ 3 صفر 223ھ (4 جنوری 838ء) کو سامرہ پہنچے۔ معتصم نے انہیں ہاتھی پر پھرایا اور نہایت بے رحمی سے قتل کروایا، اور ان کی لاش پھانسی کے تختے پر لٹکی رہی۔ 1
بعد کے ادوار
گرفتاری اور قتل سے خرمی تحریک ختم نہ ہوئی، اور تیسری صدی ہجری/نویں صدی عیسوی تک اس کے آثار ملتے ہیں۔ سابق باغی کے پیروکار، جو خود کو بابکیہ کہتے تھے، پانچویں صدی ہجری/گیارہویں صدی عیسوی میں بھی البذ میں مہدی کے انتظار اور کچھ خاص رسومات کی ادائیگی میں لگے رہے۔ 6
ماخذ
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 901-902
- تاريخ الرسل والملوك — الطبري (تحقيق أبو الفضل إبراهيم) , j.9 p.670
- تاريخ الرسل والملوك — الطبري (تحقيق أبو الفضل إبراهيم) , j.9 p.57
- الفهرست لابن النديم , p.480-482
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 901
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 902
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “بابک خرمی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/babak-al-khurrami/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.