اصغر گونڈوی

أصغر غوندوي

–

اردو کے شاعر (1884ء–1936ء)، جو گورکھپور میں اصغر حسین کے نام سے پیدا ہوئے اور گونڈہ میں پروان چڑھے، اسی نسبت سے گونڈوی کہلائے۔ انھوں نے ذاتی محنت سے اردو، عربی اور فارسی میں مہارت حاصل کی، برسوں الہ آباد سے شائع ہونے والے رسالے «ہندوستانی» کی ادارت کی، اور ان کی صوفیانہ و فلسفیانہ غزلیں «نشاطِ روح» اور «سرودِ زندگی» میں جمع ہوئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer
خطہ
south-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي · عبد الرحمٰن الشہبندر

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    اصغر حسین 1884ء میں گورکھپور میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد منشی تفضل حسین قانون دان تھے اور ملازمت کے سلسلے میں گونڈہ مستقل سکونت اختیار کر چکے تھے، چنانچہ شاعر کی پرورش گونڈہ میں ہوئی اور اسی نسبت سے انھیں گونڈوی کہا گیا۔12 ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی اور باقاعدہ تعلیم کم ہی حاصل ہو سکی، مگر ذاتی مطالعے سے انھوں نے اردو، عربی اور فارسی میں مہارت حاصل کی اور انگریزی سے بھی واقفیت پائی۔2 ابتداء میں وہ اپنا کلام منشی جلیل اللہ وجد بلگرامی اور منشی امیر اللہ تسلیم کو اصلاح کے لیے دکھاتے رہے، یہاں تک کہ طبیعت میں توازن اور روانی پیدا ہو گئی۔1

    عملی زندگی

    انھوں نے مختلف پیشے اختیار کیے، پھر الہ آباد میں تیج بہادر سپرو کے ہندوستانی پریس سے وابستہ ہو کر برسوں رسالہ «ہندوستانی» کے مدیر رہے۔32 وہ شاعر جگر مراد آبادی کے قریبی ساتھی تھے؛ دیوان کی تفصیل ان دونوں کو عبد الغنی کے حلقے میں پیر بھائی قرار دیتی ہے۔4

    شاعری

    ان کے مجموعے «نشاطِ روح» اور «سرودِ زندگی» ہیں اور مکمل کلام «کلیاتِ اصغر گونڈوی» کی صورت میں دستیاب ہے؛ ان کے منتخب کلام کا مجموعہ «انتخابِ کلام: اصغر گونڈوی» 2016ء میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوا۔32 ریختا کے مطابق وہ کثیر گو شاعر نہ تھے؛ غزل کو نکھارنے کو انھوں نے بے دریغ لکھنے پر ترجیح دی، اور ان کے کلام میں مابعد الطبیعیاتی فکر نرم و ملول آواز میں جلوہ گر ہے۔2

    روحانی زندگی

    اردو مضمون کے مطابق انھوں نے باقاعدہ طور پر شاہ عبد الغنی کے ہاتھ پر بیعت کی اور تصوف سے سرشار رہے، اور مطبوعہ دیوان کی تفصیل انھیں حضرت عبد الغنی منگلوری کا مرید بتاتی ہے۔14 ان کا ابتدائی کلام صوفی شعراء کے اثر میں لکھا گیا، بعد میں ان کا اپنا لہجہ بن گیا۔2

    وفات

    1936ء میں فالج سے ان کا انتقال ہوا؛ انگریزی مضمون وفات کا مقام الہ آباد بتاتا ہے جبکہ اردو مضمون کا معلوماتی خانہ گونڈہ درج کرتا ہے۔31

    مآخذ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Related to
    جگر مراد آبادی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جگر مراد آبادی

    ماخذ

    1. Asghar Gondvi — Urdu Wikipedia
    2. Asghar Gondvi — Rekhta profile
    3. Asghar Gondvi — English Wikipedia
    4. Asghar Gondvi — Diwan (Internet Archive)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اصغر گونڈوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/asghar-gondvi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جگر مراد آبادی

    ہندوستانی اردو غزل گو شاعر (1890ء–1960ء)، جو مراد آباد میں علی سکندر کے نام سے پیدا ہوئے۔ وہ مجروح سلطانپوری کے استاد تھے اور انہیں اپنے مجموعے «آتش گل» پر 1958ء میں ساہتیہ اکادمی انعام ملا۔