علی فارکا تورے

علي فاركا توري

–

مالی کے گلوکار اور گٹار نواز، جو 1939 میں ٹمبکٹو کے علاقے کے گاؤں کاناؤ میں پیدا ہوئے اور 2006 میں بماکو میں وفات پائی۔ انہوں نے روایتی مالی موسیقی کو بلوز کے ساتھ جوڑا، رائی کوڈر، تاج محل اور تومانی دیاباتے کے ساتھ ریکارڈنگ کی، تین گریمی ایوارڈز جیتے جن میں سے ایک ان کی وفات کے بعد ملا، اور 2004 میں اپنے قصبے نیافنکے کے میئر بنے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
singer · musician
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عبد العزیز بوتفلیقہ · عبدالرحمن یوسفی · عبد الحميد خان سواتي · عبد اللطيف تشودري الفلتالي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    علی ابراہیم «فارکا» تورے (31 اکتوبر 1939 – 7 مارچ 2006) مالی کے گلوکار اور گٹار نواز تھے، جو ٹمبکٹو کے علاقے کے گاؤں کاناؤ میں پیدا ہوئے اور بماکو میں وفات پائی۔ 1 2 انہوں نے روایتی مالی موسیقی کو امریکی بلوز سے جوڑ کر «صحرا بلوز» کی بنیاد رکھی، رائی کوڈر، تاج محل اور تومانی دیاباتے کے ساتھ ریکارڈنگ کی، زندگی میں دو گریمی ایوارڈز اور وفات کے بعد تیسرا جیتا، اور 2004 میں اپنے قصبے نیافنکے کے میئر بنے۔ 1 2 اردو مضمون انہیں مالی کا کسان و گلوکار بتاتا ہے جنہوں نے پیشہ ورانہ آغاز 1976 میں کیا۔ 3

    زندگی و کیریئر

    وہ دریائے نائجر کے کنارے کاناؤ گاؤں میں سونگھائی خاندان میں پیدا ہوئے؛ خاندان ان کی شیرخوارگی میں نیافنکے منتقل ہو گیا اور والد، جو فرانسیسی فوج کے سپاہی تھے، 1940 میں وفات پا گئے۔ 1 «فارکا» یعنی گدھا ان کا لقب اس لیے پڑا کہ وہ ماں کے دس بیٹوں میں اکیلے زندہ بچے، اور گدھا اپنی ثابت قدمی کے لیے پسند کیا جاتا ہے؛ ان کے اپنے الفاظ میں: «میں وہ گدھا ہوں جس پر کوئی سوار نہیں ہوتا۔» 1

    ان کے معاشرے میں موسیقی گریو ذات کا کام تھی اور «اشراف» کے لیے ممنوع، چنانچہ انہوں نے چھپ کر ٹین کے ڈبے سے ایک تار والا ساز بنایا۔ 1 ڈرائیور اور ایمبولینس کشتی کے ملاح کے طور پر کام کیا؛ 1956 میں گنی کے قومی بیلے کی پرفارمنس نے انہیں گٹار کی طرف مائل کیا، اور ستر کی دہائی میں وہ بماکو میں ریڈیو مالی کے ساؤنڈ انجینئر رہے جہاں انہوں نے اپنے پہلے البم ریکارڈ کیے۔ 1 2

    2004 میں وہ نیافنکے کے میئر بنے اور اپنے خرچ پر سڑکیں، نالے اور بجلی کا جنریٹر فراہم کیا۔ 1 وہ بماکو میں ہڈیوں کے کینسر سے وفات پا گئے؛ انگریزی مضمون تاریخِ وفات 6 مارچ 2006 دیتا ہے جبکہ فرانسیسی و عربی مضامین 7 مارچ دیتے ہیں اور وکی ڈیٹا دونوں دعوے رکھتا ہے — یہ سجل 7 مارچ اختیار کرتا ہے اور اختلاف درج کرتا ہے۔ 1 2 4

    کام

    مشہور ترین البم «ٹاکنگ ٹمبکٹو» (1994) رائی کوڈر کے ساتھ تھا، جس نے بہترین عالمی موسیقی البم کا گریمی جیتا۔ 1 «ان دی ہارٹ آف دی مون» (2005) تومانی دیاباتے کے ساتھ دوسرا گریمی لایا، اور بعد از مرگ البم «ساوانے» (2006) کو یورپی عالمی موسیقی چارٹ کے ماہرین نے 2006 کا بہترین البم چنا؛ «علی اینڈ تومانی» نے 2011 میں تیسرا گریمی جیتا۔ 1 2 رولنگ اسٹون نے انہیں عظیم ترین گٹار نوازوں میں 76واں درجہ دیا۔ 1

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    ویو فارکا تورے

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ویو فارکا تورے

    ماخذ

    1. Ali Farka Touré — English Wikipedia
    2. Ali Farka Touré — French Wikipedia
    3. علی فارکا تورے — Urdu Wikipedia
    4. Ali Farka Touré — Wikidata Q334947
    • علي فاركا توري — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علی فارکا تورے”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-farka-toure/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ویو فارکا تورے

    مالی کے گلوکار، گٹار نواز و موسیقی ساز، جو 1981 میں نیافنکے میں پیدا ہوئے اور علی فارکا تورے کے بیٹے ہیں۔ والد کی حوصلہ شکنی کے باوجود چھپ کر گٹار سیکھا اور «فوندو» (2009)، «مون پے» (2013) اور «لے راسین» (2022) جیسے البموں سے والد کے «صحرا بلوز» کو آگے بڑھایا، اور خرنگبن کے ساتھ «علی» (2022) والد کی موسیقی کو خراجِ تحسین کے طور پر ریکارڈ کیا۔