ایک نظر میں
- کردار
- political leader
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
جائزہ
علی دینار (محمد علی دینار) دارفور کے کیرا خاندان کے آخری سلطان تھے۔{cite:source/wikipedia-ali-dinar-en}{cite:source/wikipedia-ali-dinar-fr} وہ 1891ء میں تخت پر بیٹھے، مہدی دور کے بیچ میں، اور برسوں اومدورمان کی مہدی ریاست کے تابع — کبھی قیدی — رہے، پھر 1898ء میں وطن فرار ہو کر اپنے آباء کی سلطنت آزادانہ بحال کر لی۔{cite:source/wikipedia-ali-dinar-en} انھوں نے اٹھارہ برس حکومت کی اور کارگر انتظامیہ و قضا قائم کی، حتیٰ کہ پہلی عالمی جنگ میں سلطنتِ عثمانیہ کی حمایت کے اعلان پر برطانوی حملہ ہوا جس میں وہ 6 نومبر 1916ء کو میدانِ جنگ میں شہید ہوئے اور سلطنت اینگلو-مصری سوڈان میں ضم ہو گئی۔{cite:source/wikipedia-ali-dinar-en}
زندگی اور خدمات
وہ 1856ء میں نیالا کے مغرب میں الشاوایا گاؤں میں پیدا ہوئے (انگریزی مضمون تقریباً 1865ء اور ویکی ڈیٹا صرف 1860 کی دہائی بتاتا ہے؛ یہ اختلافات ان کے ریکارڈ میں درج ہیں) اور ان کے والد زکریا بن محمد فضل خود سلاطین کے سلسلے سے تھے۔{cite:source/wikipedia-ali-dinar-ar}{cite:source/wikipedia-ali-dinar-en} 1891ء میں انھوں نے الفاشر میں مہدی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالے، قید ہوئے — انگریزی مضمون کے مطابق شراب نوشی پر — اور امیر محمود ود احمد کی سفارش سے بچے، اومدورمان میں خلیفہ عبداللہ کو بیعت دی اور ابرہیم الخلیل کے ماتحت خدمات انجام دیں (عربی مضمون کے مطابق انھوں نے دارفور میں مہدی دعوت پھیلائی بھی)۔{cite:source/wikipedia-ali-dinar-en}{cite:source/wikipedia-ali-dinar-ar} 1898ء میں ام درمان کی جنگ سے قدرے پہلے یا اسی اثنا میں وہ فرار ہوئے اور سلطنت بحال کی؛ انگریزی مضمون کے مطابق انھوں نے مہدی اثر و رسوخ ختم کیا اور فعال قضا بنائی، جبکہ عربی مضمون ان کے عہد کی نیکیاں شمار کرتا ہے: الفاشر میں کعبہ کی غلاف سازی کا کارخانہ جس سے وہ تقریباً بیس سال ہر سال کسوت بھیجتے رہے، ذوالحلیفہ کے میقات پر ابیارِ علی کے کنویں اور اس کی مسجد کی تزئین، اور الفاشر کا محل جو آج سوڈان کا دوسرا عجائب گھر ہے۔{cite:source/wikipedia-ali-dinar-en}{cite:source/wikipedia-ali-dinar-ar} 1915ء میں انھوں نے سلطنتِ عثمانیہ کی حمایت کا اعلان کیا؛ فرانسیسی مضمون کے مطابق انھوں نے ودائی کی جنگ میں فرانسیسیوں کے خلاف بھی حصہ لیا، اور ان کی تلوار آج برٹش میوزیم میں نمائش پر ہے۔{cite:source/wikipedia-ali-dinar-en}{cite:source/wikipedia-ali-dinar-fr}
مؤقف اور تنقید
یہ حصہ وہ باتیں نقل کرتا ہے جو ذرائع ان سے منسوب کرتے ہیں؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔
مطالعہ کیے گئے کسی ماخذ نے علی دینار کے لیے کوئی فقہی یا عقیدتی مکتب نہیں بتایا؛ اس لیے ان کا عقیدہ ان کے ریکارڈ میں «نامعلوم» درج ہے۔{cite:source/wikipedia-ali-dinar-en}{cite:source/wikipedia-ali-dinar-ar} 1891ء میں ان کے چچا زاد کے قتل کی تحریک کا الزام، جیسا انگریزی مضمون پیش کرتا ہے، ایک الزام ہی رہا جس کی انھوں نے تردید کی۔{cite:source/wikipedia-ali-dinar-en}
حوالہ جات
- ویکیپیڈیا (انگریزی)، "Ali Dinar"، نظرثانی 1372694403 (1 ستمبر 2026ء) — source/wikipedia-ali-dinar-en.
- ویکیپیڈیا (عربی)، «علي دينار»، نظرثانی 73707761 (6 مارچ 2026ء) — source/wikipedia-ali-dinar-ar.
- ویکیپیڈیا (فرانسیسی)، "Ali Dinar"، نظرثانی 234313702 (22 مارچ 2026ء) — source/wikipedia-ali-dinar-fr.
- ویکی ڈیٹا، Q3818737 — source/wikidata-ali-dinar.
ماخذ
- Ali Dinar — English Wikipedia
- Ali Dinar — Arabic Wikipedia
- Ali Dinar — French Wikipedia
- Ali Dinar — Wikidata Q3818737
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “علی دینار”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-dinar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.