العاضد لدين الله آخر خلفاء بني عبيد

العاضد لدين الله آخر خلفاء بني عبيد

تقریباً 1151 عیسوی · 546 ھ – تقریباً ستمبر 1171 عیسوی · محرم 567 ھ

Fourteenth and last Ubaydid caliph; Shirkuh then Salah al-Din viziered under him till the Abbasid khutba was raised in Muharram 567 while he lay dying — he passed on Ashura, his palace's hoards selling for ten years 1.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك
شناختیں
Wikidata
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1075عیسوی1100عیسوی1125عیسوی1150عیسوی1175عیسوی1200عیسوی1225عیسوی1250عیسوی تقریباً تقریباً تقریباً تقریباً تقریباً تقریباً
عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة · الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · العصر المغولي وما بعده ہم عصر: عبد المغيث الحربي · عبد القادر الرهاوي · عبد الرزاق ابن عبد القادر الجيلي · عبد الوهاب الشيرازي · عبد الوهاب ابن عبد القادر الجيلي

خلاصہ

العاضد فاطمی خلافت کے آخری خلیفہ تھے، جسے ماخذ "العبیدیہ" کہتا ہے۔ وہ الفائز کے بعد خلیفہ بنے، اور 567ھ میں مصر میں عباسی خطبہ جاری ہونے کے بعد یومِ عاشورہ کو فوت ہوئے۔ 2

وزارت اور دولت کا خاتمہ

اسد الدین شیرکوہ کو 564ھ میں وزارت ملی، ان کے بعد صلاح الدین وزیر بنے۔ 567ھ میں صلاح الدین نے فاطمی خطبہ ترک کیا اور عباسی خلیفہ المستضیء کے نام کا خطبہ پڑھا، جبکہ العاضد سخت بیمار تھے۔ صلاح الدین نے محل اور اس کے خزانوں پر قبضہ کیا، اور اس میں فروخت کا سلسلہ دس برس جاری رہا۔ 2

شذرات الذہب بتاتی ہے کہ وہ 546ھ کے آغاز میں پیدا ہوئے اور اکیس برس زندہ رہے، اور صلاح الدین نے ان کی وفات پر غم کا اظہار کیا اور تعزیت کی مجلس قائم کی۔ ان کی موت کے سبب میں اقوال ہیں: کہا گیا کہ وہ غم سے فوت ہوئے، کہا گیا کہ شدید اسہال سے، اور کہا گیا کہ ان کے پاس زہر آلود انگوٹھی بھیجی گئی۔ 3

ابن الاثیر کی روایت

ابن الاثیر بیان کرتے ہیں کہ ان کے اہل خانہ نے خطبہ بند ہونے کی خبر ان سے چھپائی یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے۔ شدید بیماری میں انہوں نے صلاح الدین کو بلایا، مگر انہوں نے اسے دھوکا سمجھا اور نہ گئے، اور جب وہ فوت ہوئے تو صلاح الدین کو اس پر پچھتاوا ہوا۔ ابن الاثیر انہیں سخاوت اور نرم مزاجی سے موصوف کرتے ہیں۔ 4

موسوعہ کا بیان

موسوعۃ الاسلامیہ (طبع دوم، بغیر دستخط) العاضد لدین اللہ کو مصر کے فاطمی خلفاء میں گیارہواں اور آخری خلیفہ قرار دیتی ہے۔ ان کا نام ابو محمد عبداللہ بن یوسف تھا، اور وہ حافظ کے پوتے تھے۔ ان کے والد کو وزیر عباس نے اسی دن قتل کیا جس دن ان کے چچازاد فائز کی تخت نشینی ہوئی۔ فائز، جو بیمار بچہ تھا، ساڑھے گیارہ سال کی عمر میں فوت ہوا، تو وزیر صالح طلائع نے، جو مصر پر چھ سال سے زیادہ حکومت کر چکے تھے، کم سنی کی وجہ سے العاضد کو منتخب کیا۔ وہ رجب 555 ھ (23 جولائی 1160 ء) میں تخت نشین ہوئے، اور ان کی پیدائش 20 محرم 546 ھ (9 مئی 1151 ء) کو ہوئی۔ ان کے عہد میں ان کا اپنا کوئی عملی کردار نہیں تھا، اور مصنفین ان کی طرف چھٹ پٹ بغاوت کے خیالات منسوب کرتے ہیں جو کامیاب نہ ہو سکے۔ 5

طلائع نے انہیں اپنا داماد بنایا، مگر 19 رمضان 556 ھ (11 ستمبر 1161 ء) کو طلائع قتل ہو گیا، اور خلیفہ کو مجبوراً اس کے بیٹے رزیک کو وزیر بنانا پڑا۔ رزیک اپنے اختیارات چھوڑنے پر تیار نہ ہوا، تو خلیفہ نے بالائی مصر کے والی شاور کو بلایا کہ رزیک سے نجات دلائے۔ شاور نے ربیع الاول 558 ھ (فروری 1163 ء) میں قاہرہ لے لیا، لیکن نئے وزیر نے خلیفہ کو اسی طرح قید میں رکھا جیسے پہلے وزیر رکھتے تھے۔ رمضان 558 ھ (اگست 1163 ء) میں دِرغام نے شاور سے غداری کی، اور شاور حلب میں نور الدین کے پاس پناہ لینے گیا، جس نے شیرکوہ اور اس کے بھتیجے صلاح الدین کو بھیجا۔ شیرکوہ کا تیسرا حملہ فیصلہ کن ثابت ہوا: اس نے 17 ربیع الاول 564 ھ (18 جنوری 1169 ء) کو شاور کو قتل کرایا، وزارت سنبھالی، اور دو ماہ بعد ہی وفات پا گیا۔ 5

صلاح الدین نے اندرونی انتشار سختی سے دبایا، جن میں قاہرہ کی گلیوں میں لڑائی بھی شامل تھی، جس میں فاطمی فوج کے باقی ماندہ دستے ختم کیے گئے۔ پھر بغداد کے عباسی خلیفہ کے نام کا خطبہ قاہرہ میں بے دلی کے ماحول میں پڑھا گیا، فارسی الاصل عالم الخبوشانی کے ہاتھوں؛ صلاح الدین نے تین سال بعد انہیں ایک مدرسہ دے کر نوازا، جس کے بنیادی کتبے میں شافعیت کی تعریف ہے۔ العاضد 10 محرم 567 ھ (13 ستمبر 1171 ء) کو وفات پا گئے، عباسی خطبے کے چند دن بعد، اور ابھی اکیس برس کے نہیں ہوئے تھے۔ مقالہ شاور کی قیادت میں ایک فرنگی سفارت کا ذکر بھی کرتا ہے، جو ایک ایسے ہال میں ملی جسے ریشم و زر کے پردے نے دو حصوں میں تقسیم کیا تھا، اور جہاں خلیفہ جواہرات سے مرصع تخت پر، چہرہ ڈھکے ہوئے، ظاہر ہوئے۔ 6

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Participated in
قطع الخطبة العبيدية وإقامة الخطبة العباسية بمصر· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· حريق الفسطاط ووزارة شيركوه ثم صلاح الدين· دخول شيركوه مصر وقتل شاور وولايته الوزارة

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

صلاح الدین ایوبی· أسد الدين شيركوه· نور الدین محمود زنگی· الفسطاط· القاهرة· المستضيء بأمر الله الحسن بن المستنجد· شاور صاحب مصر· مصر

ماخذ

  1. تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , p. 679-683
  2. تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , p.679-683
  3. شذرات الذهب في أخبار من ذهب — ابن العماد , p.702-703
  4. الكامل في التاريخ لابن الأثير , p.34
  5. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 215
  6. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 216
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “العاضد لدين الله آخر خلفاء بني عبيد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/al-adid-fatimid/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

صلاح الدین ایوبی

مصر و شام کے سلطان اور ایوبی خاندان کے بانی، جو 1137 یا 1138ء میں تکریت میں پیدا ہوئے اور 4 مارچ 1193ء کو دمشق میں وفات پائی۔ وہ 1169ء میں مصر کے وزیر بنے، 1171ء میں فاطمی خلافت ختم کی، 1174 سے 1186ء تک شام، شمالی عراق، فلسطین اور مصر کو متحد کیا، اور 2 اکتوبر 1187ء کو بیت المقدس واپس لیا۔