احمد سیکو تورے

أحمد سيكو توري

–

گنی سیاست دان (1922ء–1984ء)، فرانا سے؛ مزدور رہنما جنھوں نے ڈیموکریٹک پارٹی آف گنی کو 1958ء میں فرانس سے آزادی تک لے جا کر گنی کے پہلے صدر (1958ء–1984ء) بنے اور یک جماعتی آمرانہ حکمرانی کی، حتیٰ کہ 26 مارچ 1984ء کو کلیو لینڈ، امریکہ میں علاجِ قلب کے دوران انتقال ہوا۔ وہ ماندینکا مسلم خاندان میں پیدا ہوئے، قرآنی مدرسے میں پڑھے، اور ساموری تورے کے پرپوتے تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · activist
خطہ
west-africa-sahel
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي · عبد الرزاق نوفل · عبد الله بن الصديق الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور مزدور تحریک

    تورے فرانا، فرانسیسی گنی میں ایک ماندینکا مسلم خاندان میں پیدا ہوئے؛ وہ ساموری تورے کے پرپوتے تھے، وہ مسلم حکمران جس نے واصولو سلطنت قائم کی اور 1898ء میں گرفتاری تک فرانسیسی استعمار کی مزاحمت کی۔ 1 2 انھوں نے اپنے قصبے کے قرآنی مدرسے اور پھر کانکان کے فرانسیسی اسکول میں تعلیم پائی، اور 1936ء میں طلبہ احتجاج کی قیادت پر انھیں کوناکری کے تکنیکی کالج سے نکال دیا گیا۔ 1 ڈاک خانے کے کلرک کی حیثیت سے انھوں نے 1945ء میں فرانسیسی گنی کی پہلی مزدور یونین بنائی اور 1953ء کی 71 روزہ عام ہڑتال کی قیادت کی۔ 1

    آزادی اور حکمرانی

    تورے نے ڈیموکریٹک پارٹی آف گنی کی قیادت کی، اور ستمبر 1958ء کے ریفرنڈم میں گنی نے تنہا ڈی گال کے آئین کو مسترد کیا تو 2 اکتوبر 1958ء کو ملک آزاد ہوا اور تورے اس کے پہلے صدر بنے۔ 1 2 1960ء میں انھوں نے اپنی جماعت کو واحد قانونی جماعت قرار دیا اور آمرانہ حکمرانی کی؛ ان کا دور خصوصاً کیمپ بویرو کے حراستی مرکز سے وابستہ ہے جہاں بہت سے لوگ مارے گئے۔ 1

    وفات

    تورے 26 مارچ 1984ء کو کلیو لینڈ، اوہائیو کے کلیو لینڈ کلینک میں علاجِ قلب کے دوران دل کے دورے سے انتقال کر گئے؛ انھیں سعودی عرب میں تکلیف کے بعد امریکہ لے جایا گیا تھا۔ 1 3

    ریکارڈ پر نوٹ

    دو متن تورے کی ذاتی مسلم شناخت کی گواہی دیتے ہیں: انگریزی مضمون انھیں «پابند مسلمان» کہتا ہے، اور فرانسیسی مضمون کہتا ہے کہ وہ مسلم العقیدہ تھے اور پہلے قرآنی مدرسے میں پڑھے؛ عربی مضمون ان کی مسلم خاندان میں پیدائش اور قرآنی تعلیم درج کرتا ہے۔ 1 4 2 کوئی ماخذ ان کے کسی مسلک کا نام نہیں لیتا، اس لیے متحف ان کا دین «نامعلوم» درج کرتا ہے۔

    مصادر

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Predecessor of
    لانسانا کونتے

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    لانسانا کونتے

    ماخذ

    1. Ahmed Sékou Touré — English Wikipedia
    2. Ahmed Sékou Touré — Arabic Wikipedia
    3. Ahmed Sékou Touré — Wikidata Q155402
    4. Ahmed Sékou Touré — French Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد سیکو تورے”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-sekou-toure/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    لانسانا کونتے

    گنی جنرل و سیاست دان (1934ء–2008ء)، دوبریکا کے قریب موسایا لومبایا سے، سوسو قوم سے؛ فرانسیسی اور گنی افواج میں خدمت کی اور صدر احمد سیکو تورے کی وفات کے بعد اپریل 1984ء کی بغاوت کی قیادت کر کے گنی کے دوسرے صدر (1984ء–2008ء) بنے، حتیٰ کہ 22 دسمبر 2008ء کو کوناکری میں انتقال ہوا۔