السلطان أحمد الثاني

السلطان أحمد الثاني

1694 عیسوی · 1106 ھ

Sultan Ahmed II (r. 1691–1694): a four-year reign of skirmishes in which the great Köprülü vizier Mustafa fell in battle and Venice seized Aegean islands 1.

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
دور
إمبراطوريات البارود
خطہ
anatolia-balkans
شناختیں
Wikidata
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: أحمد بن مصطفى بن الخوجة · السلطان أحمد الثالث · البليدي أبو عبد الله محمد بن محمد · الحفناوي أبو المكارم نجم الدين محمد بن سالم · علي بن محمد المساكني

خلاصہ

سلطان احمد خان ثانی بن ابراہیم عثمانی سلطان تھے۔ انہوں نے 1102ھ سے 1106ھ (تقریباً 1691–1694ء) تک حکومت کی۔ 2

وہ اپنے بھائی سلیمان ثانی کے بعد 1102ھ میں تخت نشین ہوئے۔ صلابی بیان کرتے ہیں کہ ان کے زمانے میں صدر اعظم مصطفیٰ کوبریللی شہید ہوئے، جو ریاست کے لیے بہت نفع بخش تھے، اور ان کے بعد علی پاشا اوریجی منصب پر آئے جو کمزور تھے۔ 2

بحیرہ ایجیئن کے کچھ جزیروں پر وینس نے قبضہ کر لیا۔ ان کے مختصر دور میں جنگ طویل نہ ہوئی، وہ زیادہ تر جھڑپیں تھیں۔ 2

1106ھ (1694ء) میں ان کی وفات ہوئی، تو ان کے بعد ان کے بھتیجے مصطفیٰ ثانی بن محمد چہارم تخت نشین ہوئے۔ 2

انسائیکلوپیڈیا آف اسلام کا بیان

انسائیکلوپیڈیا آف اسلام (ایڈیشن دوم) کا مقالہ، جس پر آر۔ مانتران کا نام ہے، احمد ثانی کو اکیسواں عثمانی سلطان، ابراہیم کا بیٹا، بتاتا ہے۔ وہ 26 رمضان 1102 ہجری/23 جون 1691 عیسوی کو اپنے بھائی سلیمان ثانی کے بعد تخت پر بیٹھے۔ انہوں نے صدر اعظم کوپرولو زادہ فاضل مصطفیٰ پاشا کو برقرار رکھا، جنہوں نے جنگ دوبارہ شروع کی مگر 1691 عیسوی میں سلانکامن کی لڑائی میں شکست کھا کر مارے گئے۔ ان کے بعد عرابجی علی پاشا آئے، پھر حاجی علی پاشا، جنہوں نے احتیاط سے مہم چلائی۔ بوزوقلو مصطفیٰ پاشا نے 1693 عیسوی میں آسٹریا والوں کو بلغراد کا محاصرہ ختم کرنے پر مجبور کیا، اور سورمیلی علی پاشا 1694 عیسوی میں پیٹروارڈین فتح کرنے میں ناکام رہے، جبکہ وینس والوں نے دالماشیا میں گابیلا اور جزیرہ خیوس لے لیا۔ عراق اور حجاز میں بدامنی رہی، اور مغرب میں طرابلس اور الجزائر نے حملے کیے۔ 3

مقالے کے مطابق احمد ثانی کمزور شخصیت کے حامل تھے، جو اپنی حاشیہ نشینوں کے زیرِ اثر رہتے، اور شراب کے عادی تھے۔ مقالہ ان کی وفات 22 جمادی الثانی 1106 ہجری/6 فروری 1695 عیسوی ادرنہ میں بتاتا ہے، اور ان کی تدفین قانونی سلیمان کی تربت میں استنبول میں۔ یہ عیسوی تاریخ اوپر دیے گئے سال 1694 سے مختلف ہے، وہ سال جو صلابی ہجری سال کے ساتھ درج کرتے ہیں؛ اسی ہجری دن کی موسوی تاریخ فروری 1695 عیسوی ہے۔ 3

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Child of
إبراهيم الأول
Successor of
سليمان الثاني

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

محمد الرابع· حرب كريت ضد البنادقة· إبراهيم الأول· سليمان الثاني

ماخذ

  1. الدولة العثمانية — علي محمد الصلابي (2001) , p. 309
  2. الدولة العثمانية — علي محمد الصلابي (2001) , p.309
  3. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 290
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “السلطان أحمد الثاني”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmad-ii-uthmani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
متعلقہ

محمد الرابع

Mehmed IV (r. 1058–1099/1648–1687) — enthroned at seven after his father's killing; Europe formed the Holy League against him, and the Köprülü viziers answered it until defeats after Fazıl Ahmed's death forced the ulema and statesmen to depose him in 1099.