أحمد بن عبد الملك بن شهيد

أحمد بن عبد الملك بن شهيد

Al-Nasir's wazir whose gift of Jumada I 327 — half a million mithqals of coined gold, ambergris, musk, camphor and Khalifal silks — was the greatest present ever made to an Andalusi king, earning him the doubled stipend and the title Dhu'l-Wizaratayn, first so called in al-Andalus 1.

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
وزیر
دور
عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة
خطہ
andalus-europe
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

خلاصہ

احمد بن عبدالملک بن شہید عبدالرحمن الناصر کے وزیر تھے، اور ان کا لقب ذو الوزارتین تھا۔ 2

ناصر نے انہیں وزیر بنایا، پھر 327ھ میں جمادی الاولیٰ کی آٹھویں تاریخ کو ایک مشہور تحفہ بھیجا۔ مقری بیان کرتے ہیں کہ اس میں سونا، چاندی، مشک، عنبر، ریشم اور فنک کی کھالیں شامل تھیں۔ وہ نقل کرتے ہیں کہ اندلس کے کسی بادشاہ کو اس جیسا تحفہ کبھی نہیں دیا گیا، اور یہ ابن خلدون کی کتاب میں ثابت شدہ امر ہے۔ 2

ناصر نے ان کا وزارت کا وظیفہ بڑھا کر اسی ہزار دینار تک پہنچا دیا، اور انہیں ذو الوزارتین کا لقب دیا۔ ماخذ کے مطابق اندلس میں یہ لقب سب سے پہلے انہی نے اختیار کیا، بنو عباس کے بغداد کے وزیر صاعد بن مخلد کی پیروی میں۔ 2

ماخذ

  1. نفح الطيب من غصن الأندلس الرطيب — المقري , p. 392-393
  2. نفح الطيب من غصن الأندلس الرطيب — المقري , p.392-393
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “أحمد بن عبد الملك بن شهيد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmad-ibn-shuhayd/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔