آدم ملک

آدم مالك

–

انڈونیشی سیاست دان، سفارت کار اور صحافی، جو 1917ء میں شمالی سماٹرا کے پیماتانگسیانتار میں پیدا ہوئے۔ انتارا خبر رساں ایجنسی کے شریک بانی؛ انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ ⁦(1966ء–1977ء)⁩ رہے، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کی ⁦(1971ء–1972ء)⁩، آسیان کے قیام میں حصہ لیا، اور انڈونیشیا کے تیسرے نائب صدر ⁦(1978ء–1983ء)⁩ بنے؛ 1984ء میں بانڈونگ میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · سفارت کار · صحافی
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي · عبد الرزاق نوفل · عبد الله بن الصديق الغماري · عبد العزيز ملازاده

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات1984

    خلاصہ

    آدم ملک (1917ء–1984ء) انڈونیشی سیاست دان، سفارت کار اور صحافی تھے: انتارا خبر رساں ایجنسی کے شریک بانی، 1966ء سے 1977ء تک انڈونیشیا کے وزیرِ خارجہ، 1971ء–1972ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر، آسیان کے بانیوں میں سے ایک، اور 1978ء سے 1983ء تک انڈونیشیا کے تیسرے نائب صدر۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    آدم ملک باتوبارا 22 جولائی 1917ء کو شمالی سماٹرا کے پیماتانگسیانتار میں باتوبارا قبیلے کے ایک مسلم ماندائلینگ باتاک خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والدین تاجر تھے اور اتنے خوشحال کہ قصبے کی واحد بوئک گاڑی انہی کی تھی۔ انہوں نے ہالینڈش انلینڈش اسکول میں پڑھا اور بوکیتنگی کے قریب پارابیک کے سماٹرا ثوالب اسلامی مدرسے میں ڈیڑھ سال گزارا، پھر والدین کی مدد کے لیے واپس آ گئے۔ ان کے خاندان کا ایمان یہاں ان کے پس منظر کے طور پر درج ہے؛ مآخذ خود ملک کے لیے کوئی مکتبِ فکر نہیں بتاتے۔ 1

    صحافت اور جدوجہدِ آزادی

    سترہ برس کی عمر میں وہ پیماتانگسیانتار میں پارٹینڈو کی شاخ کے صدر بنے اور نوآبادیاتی اجتماعات پر پابندی کی خلاف ورزی پر قید ہوئے۔ بیس برس کی عمر میں، جکارتا میں، وہ 1937ء میں انتارا خبر رساں ایجنسی کے بانیوں میں شامل تھے، اس کے مدیر اور نائب ڈائریکٹر کی حیثیت سے۔ 16 اگست 1945ء کو وہ ان نوجوانوں میں تھے جو سوکارنو اور حتا کو رینگاسڈینگکلوک لے گئے تاکہ انہیں آزادی کے اعلان پر مجبور کریں؛ اگلے دن اعلان ہو گیا۔ 1 3

    سفارت کاری اور نیا نظام

    پارلیمنٹ اور وزارتِ تجارت کے بعد 1959ء میں وہ سوویت یونین اور پولینڈ میں سفیر بنے اور مغربی ایریان کی گفت و شنید میں انڈونیشیا کے وفد کی قیادت کی۔ کمیونسٹ مخالف ہونے کی حیثیت سے وہ 1965ء–1966ء کی منتقلی میں سوہارتو کے ساتھ کھڑے ہوئے — اس دور میں امریکی دستاویزات بتاتی ہیں کہ ان کے حلقے نے خفیہ امریکی رقوم وصول کیں اور کمیونسٹ کارکنوں کی فہرستیں فوج تک پہنچائیں — اور 1966ء میں وزیرِ خارجہ بن گئے، سوہارتو اور ہامینگ کوبوونو نہم کے ساتھ وہ سہ رکنی قیادت بنا کر جس نے سوکارنو کی پالیسیاں الٹ دیں۔ 1

    وزیرِ خارجہ اور نائب صدر

    وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے انہوں نے مغرب میں انڈونیشیا کے قرضے دوبارہ طے کیے، اس بات پر اصرار کیا کہ آسیان معاشی رہے فوجی نہیں، 1967ء میں اس کے قیام میں حصہ لیا، اور 1971ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر منتخب ہوئے۔ 1977ء میں اسمبلیوں کے اسپیکر بنے، 1978ء میں ہامینگ کوبوونو نہم کے جانشین کے طور پر نائب صدر بنے اور اس عہدے سے نظام کی بدعنوانی کو «وبا» کہا۔ وہ 5 ستمبر 1984ء کو بانڈونگ میں جگر کے سرطان سے وفات پا گئے، کالیباتا ہیروز قبرستان میں دفن ہوئے، اور 1998ء میں قومی ہیرو قرار دیے گئے۔ 1 4

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام لینا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Adam Malik — English Wikipedia
    2. Adam Malik — Wikidata Q76297
    3. Adam Malik — Indonesian Wikipedia
    4. Adam Malik — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “آدم ملک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/adam-malik/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-06.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔