ایک نظر میں
- کردار
- حکمران
- خطہ
- persia-central-asia
- جائزہ
وقت میں زندگی
خلاصہ
ابو الخیر خان ازبکوں کے حکمران اور شیبانی خاندان کی اس شاخ کی طاقت کے بانی تھے۔ موسوعہ کے غیر دستخط شدہ مدخل کے مطابق وہ اژدہا کے سال (1412ء) میں پیدا ہوئے، اور دوسری جگہ مذکور ہجری سال 816ھ/1413-14ء کو موسوعہ غلط بتاتی ہے۔ 1
اقتدار تک سفر
پہلے وہ شیبان کی نسل کے ایک اور فرد جمادوق خان کی خدمت میں تھے۔ جمادوق ایک بغاوت میں مارے گئے تو ابو الخیر قید ہوئے، پھر رہا ہوئے اور جلد ہی توران (سائبیریا) میں سترہ سال کی عمر میں خان کا اعلان ہوا، بندر کے سال (1428ء) میں۔ جوچی کی نسل کے ایک اور خان پر فتح کے بعد قپچاق کا بڑا حصہ ان کے تابع ہو گیا۔ 834ھ/1430-31ء میں انہوں نے خوارزم اور اس کے دارالحکومت اورگنج پر قبضہ کیا، اسے لوٹا، اور پھر واپس کر دیا۔ 1
سیحون کے شہر
ان کے سوانح نگاروں کے مطابق بعد میں انہوں نے محمود خان اور احمد خان نامی دو اور شہزادوں کو شکست دی، اوردو بازار لیا، اور تھوڑی دیر کے لیے صاین خان (باتو) کے تخت پر بھی بیٹھے۔ شاہ رخ کی وفات (850ھ/1447ء) سے کچھ پہلے انہوں نے سیر دریا پر سیغناق، ارکوک، سوزاک، اک قرغان اور اوزکند کے قلعے لے کر اپنی حکومت پکی کی، جسے موسوعہ ازبکوں کی بعد کی تاریخ کے لیے ان کے دور کا سب سے اہم واقعہ کہتی ہے۔ اس کے بعد سیغناق ان کا دارالحکومت بنا۔ 1
ماخذ
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 154
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ابوالخیر خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abu-al-khayr-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.