ایک نظر میں
- دور
- العصر الأموي
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
فتنے کے بعد خراسان دو گروہوں میں بٹ گیا، تو وہاں کے بڑے لوگوں نے عبدالملک کو لکھا کہ معاملہ قریش کے کسی شخص کے بغیر درست نہیں ہو گا۔ چنانچہ امیہ بن عبداللہ بن خالد کو خراسان کا والی بنایا گیا، اور یہ اختلاف بکیر بن وشاح کے قتل پر ختم ہوا۔ 1
ولایت
ایک گروہ بکیر کے ساتھ تھا اور ایک گروہ بجیر کے ساتھ۔ امیہ نے بکیر کو طخارستان کا عامل بنایا، پھر انہیں ماوراء النہر کی جنگ کی ذمہ داری دی۔ 1
اختلاف
امیہ نے بخارا پر حملے کا ارادہ کیا، پھر ترمذ میں موسیٰ بن عبداللہ بن خازم کی طرف جانے کا۔ بکیر مرو واپس آئے اور امیہ کے بیٹے کو پکڑ کر قید کر دیا، اور لوگوں کو امیہ کو معزول کرنے کی دعوت دی تو وہ مان گئے۔ 1
امیہ نے اہل بخارا سے تھوڑے فدیے پر صلح کی، اور کشتیاں بنوائیں جنہیں بکیر پہلے جلا چکے تھے۔ پھر وہ واپس آ کر بکیر سے لڑے اور پھر ان سے صلح کر لی۔ 1
بکیر کا قتل
امیہ کو خبر ملی کہ بکیر اب بھی انہیں معزول کرنے کی کوشش میں ہے، تو انہوں نے حکم دیا کہ وہ گھر میں داخل ہوں تو انہیں پکڑ لیا جائے۔ انہیں پکڑ کر قید کرنے کا حکم دیا گیا، تو بجیر بن ورقاء نے ان پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا۔ پھر امیہ نے ختل پر حملہ کیا، کیونکہ وہ صلح توڑ چکے تھے، اور اسے فتح کر لیا۔ 1
دنوں اور سالوں کا ذکر صفحے کے ڈیٹا میں نہیں ہے، اس کے لیے کسی اضافی ماخذ کی ضرورت ہے۔
تعلقات
- Had participant
- أمية بن عبد الله بن خالد بن أسيد· بكير بن وشاح· بجير بن ورقاء الصرعي
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
مقتل عبد الله بن خازم· الموطأ 389 — ابن عمر في صلاة السفر: إنما نفعل كما رأيناه يفعل· بجير بن ورقاء الصرعي· بكير بن وشاح· أمية بن عبد الله بن خالد بن أسيد
ماخذ
- فتوح البلدان — البلاذري (طبعة مؤسسة المعارف)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ولاية أمية بن عبد الله خراسان وقتل بكير”. islam.museum، https://islam.museum/ur/event/umayya-khurasan-rule/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-19.