حصار القسطنطينية في عهد سليمان بن عبد الملك

حصار القسطنطينية في عهد سليمان بن عبد الملك

99 ھ

Campaign launched under Sulayman ibn Abd al-Malik against Constantinople, led by Maslama ibn Abd al-Malik, which ended in withdrawal in 99 AH after a treaty; the book attributes its failure to a reported betrayal, a harsh winter and Maslama's limited experience 1.

گہرائی

ایک نظر میں

شناختیں
Wikidata
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

فریق

خلاصہ

سلیمان بن عبدالملک نے مسلمہ بن عبدالملک کی قیادت میں قسطنطنیہ کی طرف بحری اور بری مہم بھیجی۔ کتاب کے مطابق بری لشکر تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار اور بحری بیڑا تقریباً ایک ہزار کشتیوں پر مشتمل تھا۔ 2

تیاری

اس مہم کی تیاری ولید بن عبدالملک کے زمانے میں شروع ہوئی، اور ان کی وفات 96 ہجری کے بعد سلیمان نے اسے جاری رکھا۔ 2

پیش قدمی کا منصوبہ

قائدین کی رائے اس منصوبے پر مختلف تھی۔ موسیٰ بن نصیر نے مشورہ دیا کہ پہلے قسطنطنیہ کے علاوہ شہروں اور قلعوں پر قبضہ کیا جائے۔ مسلمہ نے رائے دی کہ براہ راست قسطنطنیہ کا رخ کیا جائے، اور خلیفہ نے انہی کی رائے قبول کی۔ 3

واپسی

سلیمان کی وفات پر عمر بن عبدالعزیز نے مسلمہ کو واپس لوٹنے کا حکم دیا۔ چنانچہ بیزنطینیوں کے ساتھ صلح کے بعد لشکر واپس ہو گیا۔ 4

مصنف کے نزدیک ناکامی کے اسباب

کتاب اس ناکامی کو ان خیانتوں اور اکسانے والی سازشوں کی طرف منسوب کرتی ہے جن کا وہ ذکر کرتی ہے، نیز 99 ہجری کی سخت سردی اور مسلمہ کی جنگی تجربے کی کمی کو بھی اس کا سبب بتاتی ہے۔ 5

کتاب عیسوی تاریخ بیان نہیں کرتی؛ اس کے لیے کسی اضافی ماخذ کی ضرورت ہے۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Had participant
مسلمة بن عبد الملك

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

استخراج السيبين وضياع مسلمة· فتح حصن كَمْخ· غزوة مسلمة بن عبد الملك للخزر وفتح الباب· ثورة يزيد بن المهلب ويوم العقر· ولاية سعيد حذيفة خراسان وهزيمة سورة· بنو أمية بن عبد شمس· عبد الملک بن مروان· مسلمة بن عبد الملك

ماخذ

  1. الدولة الأموية: عوامل الازدهار وتداعيات الانهيار — علي محمد الصلابي (الجزء الثاني، 2005) , pp.47-52
  2. الدولة الأموية: عوامل الازدهار وتداعيات الانهيار — علي محمد الصلابي (الجزء الثاني، 2005) , p.47
  3. الدولة الأموية: عوامل الازدهار وتداعيات الانهيار — علي محمد الصلابي (الجزء الثاني، 2005) , p.48
  4. الدولة الأموية: عوامل الازدهار وتداعيات الانهيار — علي محمد الصلابي (الجزء الثاني، 2005) , p.49
  5. الدولة الأموية: عوامل الازدهار وتداعيات الانهيار — علي محمد الصلابي (الجزء الثاني، 2005) , pp.50-52
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “حصار القسطنطينية في عهد سليمان بن عبد الملك”. islam.museum، https://islam.museum/ur/event/siege-of-constantinople-717/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-22.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

متعلقہ

استخراج السيبين وضياع مسلمة

In al-Baladhuri: when breaches burst in al-Hajjaj's days he wrote al-Walid ibn Abd al-Malik that he had costed their damming at three million dirhams; al-Walid found it excessive. Maslama ibn Abd al-Malik said 'I will pay, if you grant me the lowlands that still hold water after the three million is spent by your trusted adviser al-Hajjaj.' Granted, Maslama acquired adjoining tasasij lands, dug al-Sibayn, drew peasants and cultivators, brought the lands under tillage and annexed many estates to fortify himself. When the blessed dawla came and Umayyad wealth was seized, all al-Sibayn was granted to Dawud ibn Ali ibn Abdallah ibn al-Abbas, then bought from his heirs with its rights and bounds — becoming caliphal estates.