ایک نظر میں
- دور
- العصر الأموي
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
البلاذری بیان کرتے ہیں کہ قتیبہ سلیمان بن عبد الملک سے ناخوش تھے، کیونکہ انھوں نے عبد العزیز بن ولید کی بیعت کے لیے کوشش کی تھی تاکہ اسے سلیمان سے دور رکھا جا سکے۔ جب سلیمان ولید کے بعد خلیفہ بنے تو قتیبہ نے لوگوں کو ان کے خلاف بغاوت پر ابھارا، مگر کسی نے ان کی بات نہ مانی۔ 1
خطبہ
ماخذ بتاتا ہے کہ قتیبہ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ہبنقہ العائشی کی مثال دی، اور سلیمان کو معزول کرنے کی دعوت دی مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر انھوں نے بنی تمیم، بنو بکر بن وائل اور ازد کے بارے میں سخت باتیں کہیں جو البلاذری نے نقل کی ہیں۔ 1
سلیمان کا خط
سلیمان نے قتیبہ کو ان کے عہدے پر برقرار رکھنے کا خط لکھا، اور حکم دیا کہ جو لوگ قید میں ہیں انھیں رہا کیا جائے، لوگوں کو ان کے وظائف دیے جائیں، اور جو واپس جانا چاہے اسے اجازت دی جائے۔ انھوں نے اپنے قاصد کو حکم دیا کہ یہ خط لوگوں کو پڑھ کر سنائے۔ قتیبہ نے کہا کہ یہ علی کی تدبیر ہے، اور انھوں نے لوگوں سے خطاب کیا، حالانکہ لوگ ان سے ناراض تھے کیونکہ انھوں نے انھیں برا بھلا کہا تھا۔ 1
نوٹ
اس خبر کے لیے ایک اضافی ماخذ درکار ہے: یہ روایت صرف ایک ماخذ سے آئی ہے، اور ابھی دوسرے ماخذ یا علمی رائے شامل نہیں کی گئی۔
تعلقات
- Had participant
- قتيبة بن مسلم الباهلي· سليمان بن عبد الملك· يزيد بن تزوان هبنقة العائشي
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
قصة ابن الأهثم أبي طينة· تأسيس الرملة· ولاية الجرّاح بن عبد الله على أرمينية· استدعاء ملك خوارزم قتيبة على أخيه· تدبير قتيبة أمر خوارزم· فتح قتيبة مدينة الفيل· فتوح قتيبة بيكند وبخارا وقتل نيزك· مقتل قتيبة بن مسلم
ماخذ
- فتوح البلدان — البلاذري (طبعة مؤسسة المعارف)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “استيحاش قتيبة من سليمان بن عبد الملك”. islam.museum، https://islam.museum/ur/event/qutayba-sulayman-estrangement/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-19.