ایک نظر میں
- دور
- العصر النبوي
- خطہ
- global
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
خلاصہ
شعراوی سلطانِ قہر، یعنی کسی کو اس کی مرضی کے خلاف کام پر مجبور کرنا، اور سلطانِ حجت، یعنی قائل کرنا، میں فرق کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک شیطان کے پاس دونوں نہیں؛ وہ نفس میں خواہش پا کر اس کی پیروی کراتا ہے۔ 3
اطاعت اور آزمائش
شعراوی کے مطابق وہ اطاعت جس پر کوئی ترغیب پیش نہ کی جائے ایمان کی قوت ظاہر نہیں کرتی، جیسے امانتدار کی امانت تب تک نہیں جانچی جاتی جب تک اسے رشوت نہ دی جائے۔ 4
گمراہی کی سمتیں
شعراوی کہتے ہیں کہ ابلیس چاروں اطراف سے آیا، اوپر یا نیچے سے نہیں، کیونکہ اللہ کی بلندی اور سجدے میں بندگی کی حد اس کی پہنچ سے باہر ہے۔ 1
ابلیس کی نافرمانی اور آدم کی
شعراوی ابلیس کی نافرمانی، جس نے حکم کو رد کیا، اور آدم کی نافرمانی، جس نے کمزوری کا اعتراف کر کے معافی مانگی، میں فرق کرتے ہیں۔ 2
مصنف کی رائے
یہ شعراوی کی تفسیر ہے اور ان کی طرف منسوب ہے۔ اسکین میں شیطان کے سلطان پر علم کلام یا تفسیر کی کوئی رائے نہیں، اور یہاں جانچ نہیں ہوئی۔ ایڈیشن کی توثیق نہیں ہوئی۔
سوال پر آراء
سوال: شیطان کس سلطان سے انسان کو وسوسہ ڈالتا ہے، اور کیا وہ اسے مجبور کر سکتا ہے؟
پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunniبنیادی حوالہ
شیطان کے پاس وسوسہ ہے، جبر نہیں؛ انسانی ارادہ ہی انتخاب کی جگہ ہے
قائل: محمد متولی الشعراوی
مزید آراء (2)
academic نقطۂ نظرثانوی رائے
اس دفعے میں ابھی جانچا نہیں گیا
other نقطۂ نظردیگر رائے
کوئی دوسری رائے پیش نہیں کی گئی
ماخذ
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.33
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.35
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.36
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.37
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سلطانِ حجت اور سلطانِ قہر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/sultan-al-hujja-wal-qahr/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.