رام باغ (آرام باغ)، آگرہ

نوادرات مقام

رام باغ (آرام باغ) في آكره

آغرا

Babur's garden on the left bank of the Yamuna at Agra, probably the earliest Mughal garden to survive in recognisable form, later renovated by Nur Jahan and renamed Bagh-i Nur Afshan 1 2.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
إمبراطوريات البارود
خطہ
south-asia

وقت میں

1510عیسوی1520عیسوی1530عیسوی1540عیسوی
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · إمبراطوريات البارود

مکان میں

آغرا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

architecturewater-and-animals

خلاصہ

رام باغ، اصل میں «آرام باغ»، آگرہ میں لال قلعے کے مقابل جمنا کے دوسرے کنارے پر ہے۔ بروکس کی ایک تصویر کا عنوان اسے 1526ء کا بتاتا ہے، اور ان کے خیال میں یہ تقریباً یقیناً سب سے قدیم مغل باغ ہے جو پہچانی جانے والی صورت میں باقی ہے، اگرچہ بہت بدل گیا ہے۔ 1 3

آگرہ میں بابر کا پہلا باغ

بابر نے لکھا کہ ہندوستان کا ایک بڑا عیب بہتے پانی کی کمی ہے، اور وہ چاہتا تھا کہ جہاں ٹھہرے وہاں رہٹوں سے پانی بہایا جائے اور زمین ترتیب و تناسب سے بنائی جائے۔ آگرہ میں اس کے پہلے باغ کی جگہ یقینی نہیں: روایت دریا کے موڑ کی ایک جگہ کو «چہار باغ» کہتی ہے، مگر بروکس کے نزدیک زیادہ امکان رام باغ کا ہے۔ اس کا خاکہ ہندسی روشوں اور باغ دیکھنے کے لیے اونچے چبوتروں پر مشتمل ہے، اور ممکن ہے کہ بابر نے 1528ء میں تیمور اور چنگیز خان کی اولاد کا استقبال یہیں کیا ہو۔ 1 3 جہانگیر کے عہد میں اس کی اچھی دیکھ بھال تھی اور اس نے اس کی تعریف لکھی۔ 4

نام

رضوی بتاتے ہیں کہ اسے باغِ گل افشاں بھی کہتے ہیں، اور نورجہاں نے اس کی مرمت کرائی تو یہ باغِ نور افشاں کہلایا۔ 2

ناتھ کے ہاں باغِ گل افشاں

آر ناتھ رام باغ کو «باغِ گل افشاں» قرار دیتے ہیں، جو بابر کا رکھا ہوا نام تھا؛ یہ آگرہ میں ان کے بہت سے باغوں میں واحد بچا ہوا باغ ہے، جمنا کے مشرقی کنارے بلند باغ اور چینی کا روضہ کے درمیان؛ بعد میں اسے «آرام باغ» کہا گیا جو بگڑ کر «رام باغ» ہو گیا۔ 5 6 یہ چار الگ چبوتروں پر ہے، مرکزی چبوترے پر «ہشت بہشت» کی تقلید میں آٹھ بلند چوکیاں ہیں۔ 5 پانی جنوب میں دریا کے کنارے بلندی پر ایک کنویں سے رہٹ کے ذریعے اٹھایا جاتا، ایک حوض میں گرتا، آبشار سے ایک تالاب میں اترتا، چوکور چوکیوں کے گرد چوڑی نالیوں میں گردش کرتا، اور دونوں طرف سیڑھیوں والی آٹھ چوڑی آبشاروں سے دوسرے چبوترے پر اترتا۔ 6 7 شمال مغربی ربع میں دریا کنارے ایک وسیع سنگی چبوترے کے نیچے حماموں، حوضوں، آبشاروں اور نالیوں کی زیرِ زمین منزل ہے جسے ناتھ بابر کا «ٹھنڈا حمام» سمجھتے ہیں، جس کے بارے میں بابر نے کہا کہ گرمی میں وہ اتنا خنک ہوتا ہے کہ آدمی کو تقریباً سردی لگتی ہے؛ وہ کیسے کام کرتا تھا، یہ راز ہی ہے۔ 7 8 9 ناتھ کے نزدیک بابر ہندوستان میں منظر آرائی کے پیش رو تھے اور انہوں نے وہ روایت ڈالی جس پر ان کی اولاد نے اپنے محلوں اور مقبروں میں عمل کیا۔ 10

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Located in
آغرا
Exemplifies
چہار باغ
Mentioned in
مغل فنِ تعمیر کی تاریخ (آر ناتھ)

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

مقبرۂ اکبر، سکندرہ· چہار باغ· اچھبل باغ (کشمیر)· باغِ وفا (کابل)· چشمہ شاہی (سری نگر)· نشاط باغ (سری نگر)· شالامار باغ (سری نگر)· ویری ناگ باغ (کشمیر)

ماخذ

  1. جون بروكس، «جنان الفردوس: تاريخ البساتين الإسلامية الكبرى وتصميمها» (لندن، 1987) , p.128
  2. سيد علي نديم رضوي، «الأثر الإيراني في العمارة الهندية الوسيطة»، في «تراث مشترك» بتحرير عرفان حبيب (2002) , p.130
  3. جون بروكس، «جنان الفردوس: تاريخ البساتين الإسلامية الكبرى وتصميمها» (لندن، 1987) , p.129
  4. جون بروكس، «جنان الفردوس: تاريخ البساتين الإسلامية الكبرى وتصميمها» (لندن، 1987) , p.130
  5. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 90
  6. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 91
  7. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 92
  8. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 94
  9. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 95
  10. ر. ناث، «تاريخ العمارة المغولية»، المجلد الأول (نيودلهي: أبهيناف، 1982) , p. 93
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “رام باغ (آرام باغ)، آگرہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/building/ram-bagh-agra/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

نوادرات

مخطوطات، فن، فن تعمیر اور دنیا بھر کے مجموعوں کے تبرکات۔
متعلقہ

مقبرۂ اکبر، سکندرہ

The tomb of the emperor Akbar at Sikandra near Agra, begun in his lifetime after Timurid custom and finished by his son: a massive red sandstone building inlaid with marble in a quartered garden.