حکایت ابو القاسم البغدادی

حكاية أبي القاسم البغدادي

محمد بن احمد ابو المطہر الازدی کی حکایت ابو القاسم البغدادی، جو بغداد کے ایک طفیلی کی تصویر ہے، جو ایک دعوت میں پورا دن گزارتا ہے، وعظ کرتا ہے، بغداد اور اصفہان کا موازنہ کرتا ہے، شراب پی کر فحش ہو جاتا ہے، اور پھر دیندار بن جاتا ہے؛ موسوعہ اسے پانچویں/گیارہویں صدی کی نصف اول کی تصنیف بتاتی ہے۔ 1

گہرائی

ایک نظر میں

جائزہ

خلاصہ

حکایت ابو القاسم البغدادی محمد بن احمد ابو المطہر الازدی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے بغداد کے ایک طفیلی کی تصویر کشی کی ہے۔ مدخل (دستخط جے ہوروِچ) اس کتاب کو پانچویں صدی ہجری کے پہلے نصف میں لکھی گئی بتاتا ہے، اور کہتا ہے کہ مصنف دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اپنے ہیرو کی زندگی کا ایک دن امانت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ 1

بناوٹ اور اسلوب

ہیرو ایک دعوت میں مہمانوں کے درمیان سنا جاتا ہے، دینداری کے انداز میں وعظ کرتا ہے، مہمانوں اور میزبان کا مذاق اڑاتا ہے، اور بغداد اور اصفہان کے فضائل کے طویل موازنے میں اپنی لسانی مہارت دکھاتا ہے۔ کھانوں کے درمیان اس کی باتیں جاری رہتی ہیں۔ شراب چڑھتی ہے تو وہ اصرار اور فحش گوئی کرتا ہے، اور زیادہ پی کر گرنے کے بعد نشہ اترتا ہے تو پھر دیندار بن جاتا ہے۔ مصنف لغوی دلچسپی سے اس ڈھانچے میں ادب، پیشوں کی اصطلاحات اور شہوانی شاعری بھی شامل کرتا ہے، اور ابن الحجاج کے بہت سے اشعار نقل کرتا ہے۔ موسوعہ کے مطابق اس سے بیان کی حقیقت پسندی اور کہانی کی وحدت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ 1

ماخذ

  1. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 152
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “حکایت ابو القاسم البغدادی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/work/hikayat-abi-l-qasim-al-baghdadi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON