طالبِ علم

زکوٰت

زکوٰۃ: اسلام کا تیسرا رکن — امیروں کے مال میں فقیروں کا حق: اضافی مال کا ڈھائی فیصد جب وہ نصاب تک پہنچے اور اس پر ہجری سال گزرے۔ یہ فقیروں، مسکینوں، مقروضوں، راہِ خدا اور تین دوسرے طبقوں کو دی جاتی ہے جنہیں قرآن نے گنایا۔ یہ وہ صدقہ نہیں جس پر شکریہ ادا کیا جائے بلکہ مالی عبادت ہے جس پر برادری قائم ہے: مدینہ کی ریاست اسے بیت المال میں جمع کرتی تھی اور آج دنیا بھر میں اسی شرح سے ادا ہوتی ہے۔ اس کے نام کا مطلب پاکیزگی اور بڑھوتری ہے — یہ مال کو برے سے صاف کرتی، اس میں برکت بڑھاتی اور دل کو معاشرے سے جوڑتی ہے۔ یہ مساوات کا عملی سبق بھی ہے: کہ مال مطلق ملکیت نہیں بلکہ امانت ہے، اور معاشرے میں باہمی حقوق خود وحی کی لکھی ہوئی ہیں۔

فرہنگ مشقی سوالات