طالبِ علم

صلیبی جنگیں

1095 اور 1291 کے درمیان مغربی یورپ کی فوجوں نے شام اور مصر پر ایک سلسلے میں مہمات چلائیں جو صلیبی جنگوں کے نام سے یاد کی جاتیں ہیں۔ مسلم مورخین نے انہیں غیر ملکی حملہ لکھا؛ یورپی مصنفین نے مسلح زیارت کہا۔ فرنگی شروع میں اس لیے کامیاب ہوئے کہ شام باہم جھگڑتے حکمرانوں میں بٹا تھا، اس لیے انہوں نے چار ساحلی ریاستیں بنا لیں جن میں رها اور بیت المقدس شامل تھے۔ ان کی طاقت دیہات سے زیادہ مضبوط شہروں میں رہی۔ جنگ کبھی محض مذہبی نہ رہی: دونوں فریق معاہدے کرتے، تجارت اور علم کا تبادلہ کرتے اور کبھی ساتھ ساتھ لڑتے۔ پھر صلاح الدین نے مصر اور شام متحد کیے، حطین میں شکست دی اور 1187 میں بیت المقدس واپس لیا۔ مملوکوں نے 1291 میں عکہ کے سقوط پر دور ختم کیا، مگر فرنگی قلعے، سڑکیں اور مشترک یادیں صدیوں زندہ رہیں۔ اس دور سے اب بھی ایک مستقل سبق پڑھا جاتا ہے: تقسیم حملہ آوروں کو بلاتی ہے، اتحاد سرزمین واپس دلاتا ہے، اور مخالفوں کا بقائے باہمی جنگ میں بھی ممکن ہے۔

فرہنگ مشقی سوالات