محقّقین

قرطہ

قرطہ اندلس کا دارالحکومت اور عظیم مسجد کا شہر ہے، دسویں صدی کے یورپ کا سب سے بڑا شہری مرکز۔ دمشق سے بچ نکلنے والے امویوں نے اس پر حکومت کی، پہلے امارت پھر خلافت قائم کر کے، اور عبدالرحمن ثالث نے اسے اسلامی مغرب کا جواہر بنایا: حکم دوم کی لاکھوں جلدوں کی لائبریری، خلافت کے لیے بنایا گیا شہر مدینۃ الزہرا، اور طب، فلکیات اور فقہ کے مکاتب۔ اس کی خلافت 1031 کی فتنے میں ٹوٹ کر طائفہ بادشاہیوں، پھر مرابطین اور موحدین میں بٹ گئی، جب تک کہ 1236 میں مسیحیوں کے ہاتھ گری۔ قرطہ اندلس کی علامت ہے: وہ بلندی جہاں تہذیبیں وادی الکبیر کے کنارے ملی تھیں۔ قرطہ سے اسلامی مغرب کے نام نکلے — فلسفی ابن رشد، صوفی ابن عربی، ادیب ابن حزم — اور وہ ترجمے جو یورپ کے جامعوں تک پہنچے۔ یہ 1236 میں فرنانڈو سوم کے ہاتھ گرا، مگر اس کی عظیم مسجد آج گرجا بن کر کھڑی بتاتی ہے کہ قرطہ کبھی پورے مغرب کا ذہن تھا، اور تہذیب اپنا دارالحکومت کھو سکتی ہے مگر اپنے اسباق نہیں۔

فرہنگ مشقی سوالات