دولة بني عبد الواد

دولة بني عبد الواد

1236 عیسوی · 635 ھ – 1337 عیسوی · 737 ھ

The Abd al-Wadid kingdom of Zanata at Tlemcen, founded by Yaghmurasen ibn Zayyan who took the city after an eight-year siege — who answered, when an Idrisid pedigree was offered him, in their tongue: 'if true it profits us with God, but this world we won with our swords'; they held the central Maghreb between the Marinids and the Hafsids until the Marinids entered Tlemcen and ended their state.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر المغولي وما بعده
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں

1200عیسوی1225عیسوی1250عیسوی1275عیسوی1300عیسوی1325عیسوی1350عیسوی1375عیسوی
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · العصر المغولي وما بعده

خلاصہ

تلمسان میں زناتہ کے بنو عبد الواد کی حکومت تھی، جسے یغمراسن بن زیان نے شہر پر قبضے کے بعد قائم کیا۔ انہوں نے بنو مرین اور حفصیوں کے درمیان مغرب اوسط پر حکومت کی، یہاں تک کہ مرینی تلمسان میں داخل ہوئے اور ان کی ریاست ختم ہو گئی۔ 1

بنیاد

یغمراسن نے آٹھ سال تلمسان کا محاصرہ کیا، پھر اس پر قبضہ کر لیا۔ ڈیٹا اس واقعے کا سال 635ھ (1236ء) بتاتا ہے، اور یہ اخذ شدہ سال ہے۔ 1

ابنِ خلدون بیان کرتے ہیں کہ ایک نسب ادریس تک پہنچایا گیا اور یغمراسن کو بتایا گیا۔ انہوں نے اپنی زبان میں کہا کہ اگر یہ درست ہے تو اللہ کے ہاں ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا، مگر دنیا تو ہم نے اپنی تلواروں سے حاصل کی ہے۔ 1

اختتام

بنو مرین نے تلمسان پر غلبہ پا لیا اور بنو عبد الواد کا بادشاہ شکست کھا گیا۔ ڈیٹا اس واقعے کا سال 737ھ (1337ء) بتاتا ہے۔ یہ سال اخذ شدہ ہے اور اس میں اختلاف بھی ہے، اس لیے اس کے لیے ایک اضافی ماخذ درکار ہے۔ 1

موسوعہ کا بیان

موسوعہ الاسلامیہ (دوسرا ایڈیشن) کی مادہ «زیانی» (بنو زیان، جنہیں بنو عبدالواد بھی کہا جاتا ہے) ایک بربر زناتہ خاندان کی ریاست بیان کرتی ہے، جو ساتویں/تیرہویں صدی کے نصف اول سے دسویں/سولہویں صدی کے وسط تک تلمسان سے حکمران رہی۔ بانی یغمراسن بن زیان نے 633ھ/1236ء سے تقریباً اڑتالیس سال حکومت کی۔ مرینیوں نے آٹھ سال (698-706ھ) تلمسان کا محاصرہ کیا اور المنصورہ بسایا۔ 737ھ/1337ء میں تلمسان مرینیوں کے قبضے میں گیا، 749ھ/1348ء میں آزاد ہوا، 753ھ/1352ء میں دوبارہ کھو گیا اور 760ھ/1359ء میں واپس ملا۔ 923ھ/1517ء میں ترکوں نے تلمسان لے لیا، اور 957ھ/1550ء تک ترکوں اور سعدیوں کے درمیان کشمکش رہی۔ 2

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Ruled by
أبو حمو موسى بن عثمان· السلطان أبو حمو موسى الثاني· أبو سعيد عثمان بن عبد الرحمن· أبو تاشفين عبد الرحمن بن موسى· أبو ثابت عامر بن عبد الرحمن· أبو زيان محمد بن عثمان· عثمان بن يغمراسن بن زيان

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

أبو حمو موسى بن عثمان· أبو زيان محمد بن عثمان· أبو تاشفين عبد الرحمن بن موسى· عثمان بن يغمراسن بن زيان· استرداد أبي حمو تلمسان· يغمراسن بن زيان بن ثابت· السلطان أبو حمو موسى الثاني· أبو سعيد عثمان بن عبد الرحمن

ماخذ

  1. كتاب العبر لابن خلدون , p.1842
  2. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 111
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “دولة بني عبد الواد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/polity/zayyanid-tlemcen/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

متعلقہ

أبو حمو موسى بن عثمان

Abu Hammu Musa ibn Uthman ibn Yaghmurasan, sultan of Tlemcen; he singled out his cousin Mas'ud ibn Abi Amir for his privy councils while heaping scorn on his son Abd al-Rahman Abu Tashfin, comparing him unfavourably to that cousin — until the son's M'aluji companions, stoking his envy, rushed the palace at the siesta hour as the council broke up, cut the sultan down with their swords, killed Mas'ud and Abu Sarhan, and massacred the Banu al-Mallah viziers, the Cordoban house of the hijaba — the town-crier going through Tlemcen's streets that Abu Sarhan had betrayed the sultan and his son Abu Tashfin had risen for him.