ایک نظر میں
- خطہ
- anatolia-balkans
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
نام اور محلِ وقوع
آینا باختی یونان میں لیپانٹو، یا ناوپاکتوس، کا ترکی نام ہے۔ یہ قصبہ خلیجِ کورنتھ پر واقع ہے اور اس کا محلِ وقوع دلکش ہے، مگر اب یہ ایک غریب چھوٹا قصبہ ہے۔ یہاں کے لوگ اسے ایپاکتوس اور اطالوی لیپانٹو کہتے ہیں۔ اس کے گرد وینس کے دورِ حکمرانی کی بوسیدہ فصیلیں ہیں اور اوپر ایک قلعہ ہے۔ 1
خلیج پر اقتدار
قرونِ وسطیٰ میں آینا باختی خلیجِ کورنتھ پر حکمران رہا۔ 1407ء میں یہ وینس کے قبضے میں آیا۔ عثمانیوں نے 1483ء میں اسے ناکام محاصرہ کیا اور 1499ء میں اس پر قبضہ کیا، جیسا کہ الگ مضمون 1499 کے محاصرے میں درج ہے۔ 1
1571ء کی جنگ
آسٹریا کے ڈان جوآن نے، جو اس وقت 26 برس کے تھے، 7 اکتوبر 1571ء کو اوکسیا جزائر کے قریب ایک خونریز سمندری جنگ جیتی۔ انہوں نے پوپ کی حمایت سے 250 جہازوں کی کمان کی، جو کچھ وینس اور کچھ ہسپانوی تھے، اور مساوی طاقت کے ترک بیڑے کا مقابلہ کیا، جس کے بارے میں مقالہ کہتا ہے کہ انہوں نے اس کے 200 جہاز ڈبو دیے۔ یہی لیپانٹو کی جنگ ہے۔ 1
بعد کی تاریخ
یہ قصبہ 1687ء میں وینس کے دوبارہ قبضے تک ایک ترک سنجق بیگ کا مرکز رہا، اور صلحِ کارلووِٹز (26 جنوری 1699ء) تک وینس کے پاس رہا۔ پھر یہ دوبارہ ترکوں کے ہاتھ میں گیا، اور 12 مارچ 1829ء کو یونانی ہو گیا۔ آینا باختی کے مقابل خلیجِ کورنتھ تقریباً دو کلومیٹر چوڑی تنگ گزرگاہ بن جاتی ہے۔ وہاں وینس کے بنائے قلعے، جنہیں جنوب میں کاسترو مورئاس اور شمال میں کاسترو رومیلیاس کہا جاتا تھا، چھوٹے دردانیال کے نام سے مشہور تھے۔ آج قصبے کی آبادی تقریباً 2,000 ہے اور یہ ایک بشپ کا مقام ہے۔ 1
مقالے کی کتابیات میں اولیا چلبی کا سیاحت نامہ، ہیمر کی عثمانی تاریخ، اور اس جنگ پر کریچمیئر، مانفرونی، ہارٹلاوب اور اینڈرسن کے جدید مطالعات شامل ہیں۔ 1
ماخذ
- دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 839
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “آيناباختي”. islam.museum، https://islam.museum/ur/place/aynabakhti/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.