ایک نظر میں
- کردار
- writer · teacher · activist
- خطہ
- southeast-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سید شیخ بن احمد الہادی (22 نومبر 1867ء – 20 فروری 1934ء) حضرمی عرب نژاد ملائی مصنف اور مصلح تھے، جو ملاکا میں پیدا ہوئے اور برطانوی ملایا میں «کاوم مودا» تحریک کے بانیوں میں سے تھے۔ انہوں نے مجلہ «الامام» کی تاسیس میں حصہ لیا، سنگاپور، ملاکا اور پینانگ میں اصلاحی مدارس چلائے، پینانگ میں جلوتونگ پریس قائم کیا اور «حکایت فریدہ ہانم» لکھی جو پہلا ملائی ناول سمجھا جاتا ہے۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ ملاکا کے کیمپونگ ہولو میں پیدا ہوئے، پانچ بہن بھائیوں میں چوتھے، جن میں سے صرف وہی بچپن سے بچے؛ انگریزی مضمون ان کی پیدائش کو 25 رجب 1284ھ اور ملائی مضمون 22 رجب سے جوڑتا ہے۔ ان کے والد باعلوی سادات کے الہادی خاندان کے حضرمی عرب تھے اور والدہ ملائی تھیں۔ سات برس کی عمر میں وہ والد اور چچا کے ساتھ جزیرہ پینینگٹ گئے، جہاں ریاو-لنگا کے ولی عہد راجا علی کیلانا نے انہیں گود لیا اور جزوی طور پر خود انہیں ملائی زبان و ثقافت اور فقہ پڑھائی؛ تعلیم تیرنگانو میں بھی جاری رہی۔ 1894ء/95ء میں وہ طاہر جلال الدین کے ساتھ مکہ، بیروت اور قاہرہ کے ملائی طلبہ کو بلانے گئے اور الازہر میں محمد عبدہ اور مکہ میں رشید رضا کے لیکچر سنے، جن سے ان کی اصلاحی سمت متعین ہوئی۔ کوئی مضمون انہیں احمد خطیب المنانگکباوی کا شاگرد نہیں بتاتا، اس لیے ایسا تعلق درج نہیں ہے۔ 1 2
«الامام» اور مدارس
انہوں نے طاہر جلال الدین، محمد سلیم الکلیلی اور عباس محمد طاہر کے ساتھ 23 جولائی 1906ء کو سنگاپور میں «الامام» جاری کیا، جو «المنار» کی طرز پر تھا اور دسمبر 1908ء تک 31 شمارے نکلے۔ 1908ء میں انہوں نے سنگاپور میں مدرسہ الاقبال الاسلامیہ کھولا، 1909ء سے 1915ء تک جوہر بارو کی شرعی عدالت میں وکیل رہے، پھر ملاکا واپس آ کر مدرسہ الہادی کھولا، جس کی تعلیم مقامی برادری کو بہت انقلابی لگی۔ 1916ء میں وہ پینانگ منتقل ہوئے اور مدرسہ المشہور کھولا، جہاں طاہر جلال الدین اساتذہ میں شامل تھے۔ 2 1
جلوتونگ پریس اور رسائل
1927ء میں انہوں نے تدریس چھوڑ کر جلوتونگ میں جلوتونگ پریس قائم کیا، جو اپنے دور کی سب سے بڑی ملائی اشاعتی دار اور ملایا میں اصلاحی اشاعت کا مرکز بنا۔ اس نے ان کا ماہنامہ «الاخوان» (1926ء سے) اور روزنامہ «سعودارا» (1928ء سے)، عبدہ کی تفسیر کے ان کے تراجم، زعبا اور طاہر جلال الدین کی کتابیں اور ان کے ناولوں کا سلسلہ «انگان-انگان کہیدوپان» شائع کیا، جس میں عربی سے ترجمہ شدہ روکامبول جاسوسی کہانیاں شامل تھیں جنہوں نے ملائی ادب میں جاسوسی صنف متعارف کرائی۔ 1929ء کے مالی بحران نے کاروبار توڑ دیا؛ «الاخوان» دسمبر 1931ء میں بند ہوا اور «سعودارا» دوسرے ہاتھوں میں چلا گیا۔ 1 2
فکر اور ناول
انہوں نے قدامت پسند علماء کو «کاوم توا» اور جدیدیت پسندوں کو «کاوم مودا» کہا۔ ان کی کتاب «اوگاما اسلام دان عقل» (اسلام کا دین اور عقل، 1931ء) پانچ ارکان کے ذریعے اسلام کو عقلی دین ثابت کرتی ہے؛ ان کی تحریریں دین کے نام پر استحصال کرنے والے «لالچی دینی رہنماؤں» پر تنقید کرتی ہیں اور عبدہ اور قاسم امین سے متاثر ہو کر خواتین کی تعلیم اور جبری شادی کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ ان کا ناول «حکایت فریدہ ہانم» (1925ء/26ء) محبت کی کہانی کو خواتین کی آزادی کے پروگرام سے جوڑتا ہے اور پہلا ملائی ناول شمار ہوتا ہے۔ 1 2
مذہب
کسی ماخذ نے ان کا مذہب نہیں بتایا۔ مضامین انہیں کاوم مودا مصلح بتاتے ہیں، جو تحریک ہے مذہب نہیں؛ انگریزی مضمون کا واحد شافعی ذکر یہ ہے کہ 1914ء میں اپنی بیٹی کا خود نکاح پڑھانا شافعی مکتب کے مطابق جائز تھا — یہ جوہر کے سرکاری قانونی مکتب کے اندر اس فعل کے جواز کی بات ہے، ان کی ذاتی وابستگی کی نہیں۔ ان کا حضرمی پس منظر خاندانی ہے۔ ویکی ڈیٹا صرف «اسلام» بتاتا ہے۔ اس لیے ریکارڈ میں مذہب نامعلوم درج ہے، بانی کے لیے نشاندہی کے ساتھ۔ 1 3
وفات
ان کا انتقال 20 فروری 1934ء کو پینانگ کے جلوتونگ میں اپنے گھر ہوا اور جمعہ کی نماز کے بعد جلوتونگ قبرستان میں ان کی سادگی کی وصیت کے مطابق دفن کیے گئے، جہاں طاہر جلال الدین نے نماز جنازہ پڑھائی۔ ان کے بیٹے علوی نے موت کی وجہ دماغی انفیکشن بتائی؛ پوتے نے علامات سے اسے دل کا دورہ سمجھا — یہاں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی گئی۔ زعبا نے «سعودارا» میں لکھا کہ ان کی وفات جزیرہ نما کی اصلاحی تحریک کا بڑا نقصان ہے۔ 2 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ ادارے،
data/source/میں درج ہیں۔ - ان کی کوئی عربی یا اردو ویکیپیڈیا مضمون نہیں ہے؛ یہ صفحہ اور عربی صفحہ اوپر مذکور انگریزی و ملائی مضامین اور ویکی ڈیٹا آئٹم سے لکھے گئے ہیں۔
- اس مضمون کی ہر ترمیم کی تاریخ درج ہونی چاہیے اور ہر حقیقت بدلنے والے ماخذ کا نام آنا چاہیے۔
تعلقات
- Born in
- ملقا
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Syed Sheikh al-Hadi — English Wikipedia
- Syed Sheikh al-Hadi — Malay Wikipedia
- Syed Sheikh al-Hadi — Wikidata Q7444630
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سید شیخ بن احمد الہادی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/syed-sheikh-al-hadi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.