ثریا طرزی

ثريا طرزي

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

دمشق

افغانستان کی ملکہ، بادشاہ امان اللہ خان کی اہلیہ اور مفکر و سیاست دان محمود طرزی کی بیٹی۔ دمشق میں پیدا ہوئیں اور وہیں پلی بڑھیں؛ 1913ء میں امان اللہ سے شادی ہوئی اور شاہی تعددِ ازواج کی صدیوں پرانی روایت توڑ کر ان کی واحد بیوی رہیں۔ شوہر کے ساتھ خواتین کی آزادی کی اصلاحات کی قیادت کی: خواتین کا پہلا افغان رسالہ «ارشاد النسوان» اور کابل میں لڑکیوں کا پہلا اسکول قائم کیا، عوامی خطبات دیے اور 1927ء–1928ء میں ان کے ساتھ یورپ کا دورہ کیا۔ 1929ء کے بعد روم میں جلاوطنی میں رہیں، 1968ء میں وفات پائی اور جلال آباد میں دفن ہوئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عہدیدار
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي

مکان میں

دمشق

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ثریا طرزی (24 نومبر 1899ء – 20 اپریل 1968ء) بادشاہ امان اللہ خان کی اہلیہ کی حیثیت سے افغانستان کی ملکہ تھیں اور اپنے زمانے میں دنیا کی سب سے بااثر خواتین میں شمار ہوتی تھیں۔ امان اللہ خان کی جدیدیت کی اصلاحات، خصوصاً خواتین کی آزادی میں ان کا بڑا کردار تھا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    ثریا طرزی دمشق، شام میں پیدا ہوئیں جو اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا؛ افغان سیاست دان سردار محمود بیگ طرزی کی بیٹی اور محمدزئی پشتون قبیلے سے تھیں۔ انگریزی مضمون کا متن ان کی پیدائش 24 نومبر 1899ء دیتا ہے جبکہ اس کی تمہید اور معلوماتی خانہ 1897ء دیتے ہیں؛ عربی مضمون اور ویکی ڈیٹا 1899ء دیتے ہیں، اور یہ عجائب گھر اسی کی پیروی کرتا ہے۔ 1 2 3

    سوریہ میں تعلیم حاصل کی؛ ان کی والدہ سوری نسوانیت پسند اسما رسمیہ تھیں، جو حلب کے شیخ محمد صالح الفتال، جامع اموی کے مؤذن، کی بیٹی تھیں۔ 1

    شادی اور ملکہ کا دور

    طرزی خاندان کی افغانستان واپسی پر دربار میں ان کی ملاقات شہزادے امان اللہ سے ہوئی اور 30 اگست 1913ء کو کابل میں شادی ہوئی۔ وہ مستقبل کے بادشاہ کی واحد بیوی تھیں، جس نے صدیوں کی روایت توڑ دی، اور دونوں نے تعددِ ازواج کی کھلے عام مخالفت کی۔ 1

    1926ء میں شوہر کی تاجپوشی پر وہ بھی تاج پوش ہوئیں اور شوہر کے ساتھ عوام میں ظاہر ہونے والی پہلی مسلم ملکہ بنیں۔ 1921ء میں خواتین کا پہلا رسالہ «ارشاد النسوان» اور پہلی خواتین تنظیم قائم کی، کابل میں لڑکیوں کا پہلا اسکول کھولا اور 1924ء میں خواتین کا پہلا اسپتال قائم کیا۔ 1926ء کے عوامی خطاب میں کہا کہ خواتین کو اوائل اسلام کی خواتین کی طرح قوم کی خدمت میں حصہ لینا چاہیے اور اس کے لیے علم ضروری ہے؛ اگست 1928ء میں لویا جرگے میں خطاب کے دوران علی الاعلان نقاب اتارا، جس پر قدامت پسند اعتراض بھڑک اٹھا۔ 1

    جلاوطنی اور وفات

    1927ء–1928ء میں شوہر کے ساتھ یورپ کا دورہ کیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعزازی ڈگریاں پائیں۔ 1929ء میں بادشاہ کے تخت چھوڑنے پر خاندان پہلے ہندوستان اور پھر روم جلاوطن ہوا۔ نیو یارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ شاہی جوڑے نے کیتھولک مذہب قبول کر لیا، لیکن بعد میں یہ خبر جھوٹی نکلی۔ 1

    ثریا طرزی 20 اپریل 1968ء کو روم میں وفات پا گئیں اور جلال آباد میں خاندانی مقبرے میں شوہر کے پہلو میں دفن ہوئیں۔ 1

    مذہبی ریکارڈ

    تمام ماخذ ان کا مذہب عموماً «اسلام» دیتے ہیں اور کوئی مسلک کے نام نہیں لیتا، اس لیے ریکارڈ «نامعلوم» رہتا ہے، جیسا کہ ڈیٹا نوٹس میں واضح ہے۔ 1 3

    ماخذ

    • اوپر جن متعین ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہوگی اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے گی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    محمود طرزی
    Born in
    دمشق
    Spouse of
    امان اللہ خان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    غلام محمد طرزی· الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق· فتنة الحافظ عبد الغني بدمشق سنة 595· حصر الأفضل دمشق وعوده عنها· استيلاء العادل على دمشق· قدوم الغزالي دمشق متزهداً سنة 488

    ماخذ

    1. Soraya Tarzi — English Wikipedia
    2. Soraya Tarzi — Arabic Wikipedia
    3. Soraya Tarzi — Wikidata Q2976698
    • Soraya Tarzi — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ثریا طرزی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/soraya-tarzi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    غلام محمد طرزی

    قندھار کے محمدزئی گھرانے کے افغان سردار اور شاعر (1830ء–1900ء)، سردار رحیم دل خان کے بیٹے۔ جوانی میں سپاہی، پھر درباری شاعر؛ دوسری اینگلو افغان جنگ میں شریک ہوئے اور امیر عبدالرحمن نے 1881ء میں انہیں جلاوطن کر دیا، جس کے بعد وہ کراچی، ہندوستان، بغداد، استنبول اور دمشق کے درمیان رہے اور اپنے قلمی نام «طرزی» سے دینی، صوفیانہ اور دنیوی شاعری کی، جو نام بعد میں ان کے خاندان کا نام بن گیا۔ وہ مفکر و صحافی محمود طرزی کے والد اور ملکہ ثریا کے دادا تھے۔