ایک نظر میں
- کردار
- خلیفہ · عالم
- خطہ
- west-africa-sahel
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلافت اور کارنامے
عبد الاحد 6 اگست 1968ء کو اپنے بڑے بھائی فالو مباکی کی وفات پر مریدیہ کے خلیفہ عام بنے اور طریقے کی قیادت میں ان کے جانشین ہوئے۔ ان کے عہد میں طوبیٰ نے تیز وسعت پائی: وہاں ہسپتال، ژاندارمری، بس اڈا اور بازار بنے، جامع مسجد کو وسعت دی گئی اور ڈیڑھ ارب فرانک کی لاگت سے مراکشی طرز پر سجایا گیا، اور ایک لائبریری قائم ہوئی جس میں ایک لاکھ ستر ہزار کتابیں تھیں۔ انہوں نے اسمگلنگ کے خاتمے اور طالب علموں کے لیے ضابطۂ اخلاق کی بحالی کی خاطر اوکاس بازار کی تنظیم نو کی، اور اپنے پیروکاروں کو کہا کہ ہر ایک طوبیٰ میں اپنی رہائش رکھے۔12
دونوں مقالے ان کا ذکر عہدے اور نسب سے کرتے ہیں: انگریزی مقالہ انہیں مریدیہ کے تیسرے خلیفہ اور احمد بمبا کے فرزند کہتا ہے، اس کا اطلاع خانہ عہدے کا خانہ ہے جس میں مذہب کا کوئی خانہ نہیں، اور وکی ڈیٹا میں ان کے لیے مذہب کی کوئی قیمت نہیں؛ کوئی ماخذ ان کی اپنی بیعت یا سلسلے سے وابستگی بیان نہیں کرتا۔23
وفات
تعلقات
- Child of
- احمد بمبا
- Successor of
- شیخ محمدو فالو مباکی
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
احمد بمبا· شیخ محمدو فالو مباکی· سرين محمد المصطفى امباكي· سیرین سالیو مباکی
ماخذ
- Abdou Ahad Mbacké — French Wikipedia
- Abdou Ahad Mbacké — English Wikipedia
- Abdou Ahad Mbacké — Wikidata Q73672013
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “سیرین عبد الاحد مباکی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/serigne-abdou-ahad-mbacke/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.