عمر مختار

عمر المختار

–

لیبیا کے قرآن کے استاد اور سنوسی سلسلے کے شیخ، جو 1858 میں پیدا ہوئے اور 1911 سے اطالوی قبضے کے خلاف برقة کی مزاحمت کی قیادت کی، یہاں تک کہ 16 ستمبر 1931 کو سلوک کیمپ میں گرفتار کر کے پھانسی دی گئی؛ وہ اسد الصحراء اور شیخ الشہداء کے لقب سے مشہور ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
teacher · جرنیل
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرشید ابراہیم · أحمد الحملاوي · اللہ دیا خان · بدرالدین الحسنی · جماعت علی شاہ

کہانی میں مقام

    سنی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عمر المختار محمد بن فرحات المنفی (20 اگست 1858 – 16 ستمبر 1931) لیبیا کے قرآن کے استاد اور برقة میں سنوسی سلسلے کے شیخ تھے، جنہوں نے اکتوبر 1911 سے اپنی گرفتاری اور سزائے موت تک اطالوی قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت کی قیادت کی۔ وہ «اسد الصحراء» اور «شیخ الشہداء» کے لقب سے مشہور ہیں۔ 1 2

    سوانح

    وہ 20 اگست 1858 کو پیدا ہوئے؛ انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ ان کی جائے پیدائش بنغازی بتاتا ہے جبکہ اس کا متن طبرق کے قریب زنزور (جنزور) کا قصبہ بتاتا ہے، اور عربی مضمون اس تاریخ کو 10 محرم 1275ھ کے ساتھ جوڑتا ہے۔ 1 2

    ان کا تعلق منفہ قبیلے سے تھا؛ کم سنی میں یتیم ہوئے تو ایک شیخ نے انہیں گود لیا۔ انہوں نے جغبوب کی سنوسی درسگاہ میں آٹھ سال تعلیم پائی، اس زمانے میں جب محمد المہدی السنوسی سلسلے کے سربراہ تھے، اور 1895 میں المہدی کے ہمراہ کفرہ گئے۔ 1

    سنوسی سلسلے نے انہیں 1896 سے 1902 تک چاڈ میں زاویہ عین کلک کا شیخ مقرر کیا، جہاں انہوں نے 1899 میں فرانسیسی پیش قدمی کا مقابلہ کیا، پھر 1902 سے 1911 تک برقة میں زاویہ القصور کے شیخ رہے۔ 1

    اطالیہ کے خلاف مزاحمت

    اکتوبر 1911 میں اطالیہ کے لیبیا پر حملے کے ساتھ ہی انہوں نے برقة کی مزاحمت کی قیادت سنبھالی اور الجبل الاخضر میں گوریلا جنگ لڑی۔ 1929 میں انہوں نے اطالوی کماندار بادولیو سے مفاہمتی مذاکرات کیے، پھر اکتوبر 1929 میں اس سمجھوتے کو مسترد کر کے جنگ دوبارہ شروع کر دی۔ 1

    1930–1931 میں گراتسیانی کی مہم نے برقة کے لوگوں کے لیے بڑے حراستی کیمپ قائم کیے اور مصر کی سرحد پر خاردار باڑ لگائی۔ 11 ستمبر 1931 کو وہ سلونطہ کے قریب زخمی ہو کر گرفتار ہوئے، فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی، اور 16 ستمبر 1931 کو سلوک کے حراستی کیمپ میں اپنے قیدی ساتھیوں کے سامنے پھانسی دی گئی؛ اس وقت ان کی عمر تہتر برس تھی۔ 1

    مصادر

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرفہ مصادر کے ادارے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کا مصدر نامزد کرے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    محمد المهدي السنوسي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد ادریس سنوسی· محمد بن علي السنوسي· محمد المهدي السنوسي

    ماخذ

    1. Omar al-Mukhtar — English Wikipedia
    2. Omar Mukhtar — Arabic Wikipedia
    • Omar al-Mukhtar — Wikidata Q212388
    • Ali Muhammad as-Sallabi, Omar al-Mokhtar (Al-Firdous, 2011)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عمر مختار”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/omar-mukhtar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد ادریس سنوسی

    لیبیا کے بادشاہ (1889–1983)؛ جغبوب میں پیدا ہوئے، 1916 میں اپنے چچا زاد احمد الشریف کے بعد سنوسی سلسلے کے سربراہ بنے، برقہ اور پھر طرابلس کے امیر ہوئے، اطالوی دور میں مصر میں جلاوطنی گزاری، اور 24 دسمبر 1951 کو متحدہ مملکتِ لیبیا کے بادشاہ قرار پائے؛ یکم ستمبر 1969 کی بغاوت میں معزول ہو کر قاہرہ میں جلاوطنی میں وفات پائی اور مدینہ کے جنت البقیع میں دفن ہوئے۔