ایک نظر میں
- کردار
- جرنیل · سیاست دان · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
تعارف
مصطفى عبد القادر طلاس (11 مئی 1932 – 27 جون 2017) شامی افسر اور سیاست دان تھے جنہوں نے 1972 سے 2004 تک وزیر دفاع کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ حافظ الاسد کے قریب ترین وفاداروں میں سے تھے اور بشار الاسد کے دور کے ابتدائی برسوں تک اپنے عہدے پر رہے۔ وہ مصنف اور ایک اشاعتی ادارے کے بانی بھی تھے، اور منحرف جنرل مناف طلاس کے والد تھے۔ 1
ابتدائی زندگی اور کیریئر
بعد از اسد
2000 میں حافظ الاسد کی وفات کے بعد وہ عبوری کمیٹی کے رکن تھے اور بشار الاسد کی جانشینی کی راہ ہموار کرنے والی آئینی ترمیم کی نگرانی کی۔ 2004 میں حسن ترکمانی ان کے جانشین بنے۔ 2011 کی بغاوت کے آغاز کے بعد وہ علاج کی غرض سے فرانس چلے گئے اور 27 جون 2017 کو 85 برس کی عمر میں وفات پائی۔ 1
تحریریں اور تنازعات
طلاس نے شامی فوجی و سیاسی تاریخ، شاعری اور یادداشتوں پر کتابیں لکھیں، جن میں «زنوبیا» (1985) اور پانچ جلدوں پر مبنی یادداشتیں «مرآة حیاتی» شامل ہیں؛ ان کی یادداشتوں پر عرب دنیا میں تنقید اور تمسخر ہوا، جیسا کہ مضمون میں درج ہے۔ 1 مضمون میں درج ہے کہ وزیر دفاع کی حیثیت سے وہ ہر قسم کی مخالفت کو دبانے میں شریک رہے، اور نیویارک ٹائمز کے مطابق 1982 کی حماہ بغاوت کے حکومتی ردعمل سے ان کا گہرا تعلق تھا؛ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے بے شمار سزائے موت کی منظوری دی تھی۔ 1 ان کی کتاب «فطیر صہیون» (1983) نے 1840 کے دمشق واقعے سے منسوب فرية الدم (blood libel) کو دوبارہ زندہ کیا؛ مضمون اس الزام کو قدیم فرية اور جھوٹ قرار دیتا ہے اور ریکارڈ کرتا ہے کہ طلاس نے بارہا اس کتاب کا دفاع کیا۔ 1
حوالہ جات
تعلقات
- Parent of
- مناف طلاس
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Mustafa Tlass — English Wikipedia
- مصطفى طلاس — ويكيبيديا العربية
- Mustafa Tlass — Wikidata Q403707
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “مصطفى طلاس”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mustafa-tlass/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.