محمد صالح کمبوہ لاہوری

محمد صالح كمبة

1675 عیسوی · 1086 ھ† †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

محمد صالح کمبوہ لاہوری (وفات 1675ء، ایک غیر یقینی روایت کے مطابق) پنجابی خطاط اور شہنشاہ شاہ جہاں کے سرکاری سوانح نگار تھے، اور «اعمالِ صالح» (شاہ جہاں نامہ) کے مصنف، جو 1659ء–1660ء میں مکمل ہوئی اور شاہ جہاں کے عہد کے اہم ترین اصل مآخذ میں سے ہے۔ وہ خطاط میر عبد اللہ مشکین قلم کے بیٹے اور عنایت اللہ کمبوہ کے چھوٹے بھائی تھے؛ لاہور کے گورنر کے ہاں دیوان رہے، سپہ سالار کا رتبہ پایا، اور بعد میں شہنشاہ اورنگزیب کے استاد ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
مؤرخ · calligrapher · teacher
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی تقریباً
إمبراطوريات البارود ہم عصر: عبد القادر البغدادي · عبدالرؤف سنکیلی · أبو سالم العياشي · أحمد بن مصطفى بن الخوجة · السلطان أحمد الثالث

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد صالح کمبوہ لاہوری پنجابی خطاط اور شہنشاہ شاہ جہاں کے سرکاری سوانح نگار تھے 1 2۔ ان کی «اعمالِ صالح» یا «شاہ جہاں نامہ»، جو 1659ء–1660ء میں مکمل ہوئی، شاہ جہاں کے عہد کے اہم ترین اصل مآخذ میں سے ہے 1۔ ان کی وفات کی تاریخ یقینی نہیں؛ س۔ م۔ لطیف غیر علانیہ اختیار سے لکھتے ہیں کہ وہ 1085ھ (1675ء) میں فوت ہوئے 1.

    شاہ جہاں کے سوانح نگار

    وہ مشہور خطاط میر عبد اللہ مشکین قلم کے بیٹے تھے اور خیال کیا جاتا ہے کہ عنایت اللہ کمبوہ کے چھوٹے بھائی تھے 1۔ انھوں نے لاہور کے گورنر کے ہاں شاہی دیوان کے طور پر کام کیا اور سپہ سالار کا رتبہ پایا 1۔ «اعمالِ صالح» میں صرف شاہ جہاں کی زندگی اور دور حکومت نہیں بلکہ ان کے پیشروؤں اکبر و جہانگیر اور دور کے شیوخ، شعرا اور نامور شخصیات کی سوانح کا مجموعہ بھی ہے 1 2۔ وہ فارسی تخلص «کشفی» اور عربی «سبحان» سے شاعر کے طور پر جانے جاتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ ہندی گلوکار بھی تھے 1.

    عہدے اور آخری سال

    1646ء میں انھوں نے عبد الرشید دیلمی کی جگہ شاہی کتب خانے کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا، پھر 1651ء–1652ء میں خود اس عہدے سے بدلے گئے 2۔ اورنگزیب کے دور میں وہ شہنشاہ کے روحانی استاد رہے — بچپن سے ہی ان کے اساتذہ میں شامل تھے — اور صدر الصدور کے پیشدست (نائب) مقرر ہوئے؛ منصب داروں کی فہرست میں وہ پانچ سو فوجیوں کے کمانڈر درج ہیں 1 2۔ یہ روایت کہ وہ 1636ء میں پانڈو کے مقام پر اہوموں سے لڑتے ہوئے ایڈمرل کی حیثیت سے مارے گئے، مضامین خود رد کرتے ہیں، کیونکہ انھوں نے اپنی تاریخ 1659ء–1660ء میں مکمل کی 1۔ وہ لاہور میں مدفون ہیں، جہاں اندرونِ شہر موچی دروازے میں صالح کمبوہ مسجد ہے، اگرچہ ان کی قبر کا مقام متنازع ہے 1 2.

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • خطاط · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ
    • مدرس · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ

    ماخذ

    1. Muhammad Saleh Kamboh — Urdu Wikipedia
    2. Muhammad Saleh Kamboh — English Wikipedia
    • Muhammad Saleh Kamboh — Arabic Wikipedia
    • Muhammad Saleh Kamboh (Q6932703)
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد صالح کمبوہ لاہوری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-saleh-kamboh/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔