محمد الفاید

محمد الفايد

–

الإسكندرية

محمد عبد المنعم الفاید (27 جنوری 1929 – 30 اگست 2023) مصری کاروباری شخصیت تھے جو 1960 کی دہائی کے وسط سے برطانیہ میں مقیم رہے۔ وہ لندن کے ہیرڈز (1985–2010)، پیرس کے رٹز ہوٹل اور فلہم فٹ بال کلب کے مالک تھے، اور ان کی وفات پر ان کی دولت کا تخمینہ دو ارب ڈالر لگایا گیا۔ ان کے بیٹے دودی 1997 میں پیرس کے کار حادثے میں شہزادی ڈیانا کے ساتھ جاں بحق ہوئے؛ الفاید کی وفات کے بعد دو سو سے زائد خواتین نے ان پر جنسی زیادتی کے الزامات لگائے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
businessman
خطہ
egypt-nile · andalus-europe
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: علی حسن موینی · علي يافعي · طاہر عثمان باؤچی · ایم ایس سوامی ناتھن · معزز علمیے چغ

مکان میں

الإسكندرية

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد الفاید مصری کاروباری شخصیت تھے، جو 27 جنوری 1929 کو اسکندریہ میں پیدا ہوئے اور 30 اگست 2023 کو لندن میں وفات پائی۔ ان کے کاروباری مفادات میں ہیرڈز ڈپارٹمنٹ اسٹور، پیرس کا رٹز ہوٹل اور فلہم فٹ بال کلب شامل تھے۔ فوربس نے ان کی وفات پر ان کی دولت کا تخمینہ دو ارب ڈالر لگایا۔ 1

    زندگی

    الفاید اسکندریہ کے علاقے رشدی میں پیدا ہوئے؛ وہ اسیوط سے تعلق رکھنے والے ایک پرائمری اسکول استاد کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ ان کے سنِ پیدائش پر ان کی زندگی ہی میں اختلاف رہا، اور 1988 میں برطانوی محکمہ تجارت و صنعت کی تحقیقات نے اسے 1929 قرار دیا۔ 1 انہوں نے اسکندریہ میں گلی فروش کے طور پر آغاز کیا، 1950 کی دہائی میں خاشقجی خاندان کے تجارتی کاروبار میں کام کیا، اور مصر میں شپنگ کے مفادات قائم کیے؛ ناصر حکومت کی ضبطیوں کے بعد وہ اپنا کاروبار بیرونِ ملک لے گئے اور 1964 میں ہیٹی کے ایک مختصر و متنازع دور کے بعد لندن میں آباد ہو گئے۔ 1 انہوں نے 1954 میں سمیرا خاشقجی سے شادی کی؛ ان کے بیٹے دودی 1997 میں پیرس کے کار حادثے میں شہزادی ڈیانا کے ساتھ جاں بحق ہوئے، اور الفاید برسوں یہ دعویٰ کرتے رہے کہ حادثہ منصوبہ بندی سے کرایا گیا تھا، جسے سرکاری تحقیقات نے مسترد کر دیا۔ 1 1985 سے ان کی شادی ہینی واتھن سے تھی۔ 1 2023 میں ان کی وفات کے بعد لندن سینٹرل مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی اور انہیں بیرو گرین کورٹ میں دودی کے پہلو میں دفن کیا گیا؛ کوئی ماخذ ان کے لیے کسی مکتب یا سلسلے کا نام نہیں لیتا۔ 1

    کام

    1960 کی دہائی کے آخر سے الفاید نے دبئی میں شیخ راشد بن سعید آل مکتوم کے مشیر کے طور پر کام کیا اور 1968 میں انٹرنیشنل میرین سروسز قائم کی، جس نے امارت کی بندرگاہوں کی تعمیر میں حصہ لیا۔ 1 برطانیہ میں انہوں نے اپنے بھائیوں کے ساتھ 1985 میں ایک سخت مقابلے کے بعد «ہاؤس آف فریزر» گروپ، بشمول ہیرڈز، خریدا؛ 2010 میں انہوں نے ہیرڈز قطر ہولڈنگز کو فروخت کر دیا۔ 1 وہ 1979 سے پیرس کے رٹز ہوٹل اور 1997 سے 2013 تک فلہم فٹ بال کلب کے مالک رہے۔ 1 برطانوی شہریت کے لیے ان کی بار بار درخواستیں مسترد ہوئیں اور 1997 کے بعد برطانوی اسٹیبلشمنٹ سے ان کی کشمکش گہری ہوتی گئی۔ 1 1995 سے انہیں ہیرڈز میں جنسی ہراسانی کے الزامات پر میڈیا کی جانچ پڑتال کا سامنا رہا؛ ان کی وفات کے بعد 2024 میں دو سو سے زائد خواتین نے ان پر عصمت دری اور جنسی زیادتی کے الزامات لگائے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر مذکور ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • تاجر · اصل پیشہ · بغیر تاریخ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    الإسكندرية

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء· قرطبی نے اسکندریہ میں مؤلف سے «المفھم» کا حصہ سنا، 656ھ/1258ء· خلاف أهل الإسكندرية واستردادها· فتح الإسكندرية· الزلزلة العظمى سنة 180· ابن جبير يصل الإسكندرية· ابن تیمیہ کا اسکندریہ کے برج میں جلاوطنی، 709ھ/1309ء· خروج نزار بن المستنصر بالإسكندرية وقمعه سنة 495

    ماخذ

    1. Mohamed Al-Fayed — English Wikipedia
    • Mohamed Al-Fayed — Arabic Wikipedia
    • Mohamed Al-Fayed — Urdu Wikipedia
    • Mohamed Al-Fayed — Wikidata
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد الفاید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohamed-al-fayed/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء

    ذہبی نے طلبِ حدیث میں سفر کیا: بعلبک میں ابن خلیک بن علوان اور زینب بنت عمر بن الکندی سے، مکہ میں توزری سے، حلب میں شوکر زینی سے، نابلوس میں عماد بن بدران سے، اسکندریہ میں ابو الحسن عراقی اور یحیی صواف سے سنا، اور قاہرہ میں سب سے زیادہ قیام کیا جہاں ابن منصور افریقی اور خصوصاً تقی الدین ابن دقیق العید سے پڑھا — یہاں تک کہ ان کے شیوخ تیرہ سو سے تجاوز کر گئے جن کی تراجم انہوں نے اپنے «معجم» میں جمع کیں ۔ ابن حجر کے مطابق انہوں نے اپنے لیے تقریباً تیس سفری جزوے مرتب کیے ۔