ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · activist · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
ابتدائی زندگی
وہ ہشٹنگر کے اتمانزئی میں ایک خوشحال محمد زئی پشتون زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے — انگریزی مقالہ اس خاندان کو سنی مسلمان بتاتا ہے 1 — اور عبد بہرام خان کے صاحبزادے تھے 1۔ مشنری اسکول ایڈورڈز میں ان کے استاد ریورنڈ وگرام نے خدمتِ خلق میں تعلیم کے کردار کا احساس دلایا؛ گائیڈز رجمنٹ کی پیشکش اس لیے ٹھکرا دی کہ ہندوستانی افسر تب بھی درجہ دوم کے شہری تھے، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم پائی 1۔ 1912ء میں مہر قندہ سے شادی ہوئی — ان کے بیٹوں میں شاعر عبد الغنی خان اور سیاست دان عبد الولی خان تھے — اور 1918ء کے فلو وبا میں ان کی وفات کے بعد ان کی کزن نامبتہ سے شادی کی جو 1926ء میں یروشلم میں وفات پا گئیں 1۔
خدائی خدمتگار
1929ء میں انھوں نے خدائی خدمتگار تحریک قائم کی؛ اس کے ارکان — سرخ پوش — نے عدم تشدد کا حلف لیا تھا 1۔ 23 اپریل 1930ء کو نمک ستیہ گرہ کے احتجاج کے دوران ان کی گرفتاری پر پشاور کے قصہ خوانی بازار میں جمع خدائی خدمتگاروں کے نہتے ہجوم پر فوج نے گولیاں چلائیں، اندازاً 200 سے 250 افراد شہید ہوئے، مگر ارکان گولیوں کے سامنے بھی عدم تشدد کے نظم پر قائم رہے 1۔ وہ اپنی جدوجہد کو وہ جہاد مانتے تھے جس میں تلوار صرف دشمن کے پاس ہو، اور اسلام اور عدم تشدد کی مطابقت پر ان کا ایمان کبھی متزلزل نہیں ہوا 1۔ اردو سوانح ان کی اس کوشش کا بھی ذکر کرتی ہے کہ انھوں نے ’انجمنِ اصلاح‘ کے ذریعے مسلمانوں میں خلاف اسلام رسوم کے خاتمے کی مہم چلائی 2۔
تقسیم اور پاکستان
انھوں نے تقسیم ہند کی شدید مخالفت کی، مسلم لیگ کے مقابلے میں کانگریس اور آل انڈیا آزاد مسلم کانفرنس کا ساتھ دیا، اور جب کانگریس قیادت نے خدائی خدمتگاروں سے مشورہ کیے بغیر منصوبہ قبول کیا تو کہا: ”تم نے ہمیں بھیڑیوں کے حوالے کر دیا“ 1۔ جون 1947ء میں بانو اعلامیے نے پشتونوں کے لیے آزاد پشتونستان کے انتخاب کا مطالبہ کیا؛ برطانیہ نے انکار کیا اور انھوں نے اور ان کے بڑے بھائی عبد الجبار خان نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا 1۔ نئی مملکت پاکستان میں وہ بار بار قید اور نظر بند رہے — وزیرستان بغاوت کے برسوں میں، اور پھر اپنے حامیوں کے بابرہ قتل عام کی مذمت پر — اور زندگی بھر میں دہائیوں جیل اور جلاوطنی میں گزاریں 1۔ ہندوستان نے 1987ء میں انھیں بھارت رتن دیا، اور ان کی آپ بیتی پشتو میں شائع ہوئی 1۔
دین جیسا کہ ذرائع ثابت کرتے ہیں
انگریزی مقالہ خود انھیں ایک پابند مسلمان ثابت کرتا ہے جن کا عدم تشدد اسلام میں جڑا تھا 1؛ لفظ ’سنی‘ اس میں صرف اس خاندان کے بیان میں آتا ہے جس میں وہ پیدا ہوئے 1۔ عربی مقالے کا معلوماتی خانہ ان کا مذہب ’اسلام‘ دیتا ہے 3، اردو مقالہ کوئی مکتب بیان نہیں کرتا 2، اور ویکی ڈیٹا صرف اسلام درج کرتا ہے 4۔ چونکہ خاندانی پس منظر خود اس شخص کی شہادت نہیں ہوتی، عجائب گھر کا ریکارڈ ان کا مکتب نامعلوم رکھتا ہے، بانی کے فیصلے کے لیے موسوم، اور قراءات جوں کی توں محفوظ رکھتا ہے۔
وہ 20 جنوری 1988ء کو پشاور میں نظر بندی کے دوران وفات پا گئے اور وصیت کے مطابق افغانستان کے جلال آباد میں اپنے گھر پر دفن ہوئے؛ افغان جنگ کے دونوں فریقوں نے ان کے جنازے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا اور افغان صدر نے اس میں شرکت کی 1۔
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذی ادارے،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر تبدیل شدہ واقعے کا ماخذ نام لے۔
ماخذ
- Khan Abdul Ghaffar Khan — English Wikipedia
- Khan Abdul Ghaffar Khan — Urdu Wikipedia
- Khan Abdul Ghaffar Khan — Arabic Wikipedia
- Khan Abdul Ghaffar Khan — Wikidata Q312966
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “خان عبد الغفار خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khan-abdul-ghaffar-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.