آقا جمال خوانساری

آقا جمال خوانساري

†

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

جمال الدین محمد بن حسین خوانساری، معروف بہ آقا جمال (وفات 1125ھ/1713ء، ایک روایت میں 1122ھ)، صفوی اصفہان کے اثنا عشری شیعہ فقیہ، محدث اور حکیم تھے، علامہ آقا حسین خوانساری کے فرزند اور شاگرد۔ اصفہان کے حوزے میں تدریس کرتے ہوئے وہاں کی ریاستِ تدریس ان تک پہنچی، اور انہوں نے تصانیف، تعلیقات اور فارسی تراجم کا بڑا ذخیرہ چھوڑا، جن میں مشہور ترین ان کی طنزیہ کتاب «عقائد النساء» ہے جو اپنے عہد کی خرافات پر نقد ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · فقیہ · theologian · فلسفی
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1625عیسوی1650عیسوی1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: أحمد بن حمى الله التيشيتي · احمد بن مبارک اللمطی · أحمد بن مصطفى بن الخوجة · السلطان أحمد الثالث · أحمد رسمي أفندي

کہانی میں مقام

    shia-twelver (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    جمال الدین محمد بن حسین خوانساری، معروف بہ آقا جمال اور «جمال المحققین»، صفوی اصفہان کے فقیہ، محدث، اصولی اور حکیم تھے، علامہ آقا حسین خوانساری کے فرزند اور شاگرد۔ ان کی وفات ویکی فقہ کے مطابق 1125ھ/1713ء میں ہوئی، جبکہ فارسی ویکیپیڈیا 1122ھ یا ایک روایت میں 1125ھ لکھتا ہے؛ دونوں روایتیں ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔12 فارسی مضمون انہیں بارہویں صدی ہجری کے شیعہ علما میں اور ویکی فقہ انہیں فقہائے امامیہ میں شمار کرتا ہے؛ انہی دو آزاد متنوں کی بنیاد پر ان کا مذہب اس عجائب گھر میں شیعہ اثنا عشری درج ہے۔12

    زندگی اور تدریس

    ان کی تاریخ و جائے ولادت دونوں ماخذوں میں نامعلوم ہے؛ ثابت صرف یہ ہے کہ پرورش اصفہان میں ہوئی اور اصل خوانسار سے تھا۔12 انہوں نے والد آقا حسین خوانساری اور ماموں محقق سبزواری سے تعلیم پائی، پھر اصفہان کے حوزے میں فقہ، اصول، فلسفہ، تفسیر، ریاضیات، شعر و ادب اور کلام کی تدریس کی یہاں تک کہ اپنے عہد میں ریاستِ تدریس انہی کو ملی اور ممتاز شاگرد تیار کیے۔1

    تصانیف

    ان کی تصانیف میں «مبدأ و معاد»، نمازِ جمعہ پر رسالہ، «اثبات الرجعہ» اور زیارتِ جامعہ کی شرح شامل ہیں؛ تہذیب الاحکام، شرائع الاسلام اور شفا کی طبیعات پر حاشیے لکھے؛ اور قرآن مجید، صحیفہ سجادیہ، آمدی کی «غرر الحکم» اور شیخ بہائی کی «مفتاح الفلاح» کے فارسی ترجمے کیے۔1 ان کی مشہور ترین کتاب «عقائد النساء» (کلثوم ننہ) ہے، صفوی عہد کی عام خواتین کے عقائد و خرافات پر طنزیہ نقد، جو آج عام ایرانی خواتین کے اخلاق و عادات کی قدیم ترین تحریری دستاویز سمجھی جاتی ہے۔1

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • فقیہ · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    آغا حسين الخنساري

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    آغا حسين الخنساري

    ماخذ

    1. Aqa Jamal Khwansari — Persian Wikipedia
    2. Aqa Jamal Khwansari — WikiFeqh (Persian)
    • Aqa Jamal Khwansari — Wikidata Q23893959
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “آقا جمال خوانساری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/jamal-al-din-khwansari/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    آغا حسين الخنساري

    Draft card for Aqa Husayn al-Khwansari, the seventeenth-century philosopher, d. 1687; the biographical entry is not yet checked on the page.