اسماعیل کمال

إسماعيل كمال

–

البانوی سیاست دان اور مدبر (1844-1919)، جدید البانیہ کے بانی، ’’قوم کا باپ‘‘ کہلاتے ہیں۔ عثمانی ملازمت میں مدحت پاشا کے معتمد ساتھی رہے، آٹھ سال جلاوطنی میں آئینی اپوزیشن کی قیادت کی، پھر 28 نومبر 1912 کو ولورہ میں البانیہ کی آزادی کا اعلان کیا اور اس کے پہلے وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ بنے (1912-1914)؛ وفات اٹلی میں جلاوطنی کے دوران ہوئی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: دلی فواد پاشا · حسن رامی پاشا · جماعت علی شاہ · محمد خليل البنكلاني · عمر رشدی پاشا

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    اسماعیل کمال بے ولورہ (1844-1919) البانوی سیاست دان اور مدبر تھے، جدید البانیہ کے بانی سمجھے جاتے ہیں اور ’’بابائے قوم‘‘ (باباي كومبيت) کہلاتے ہیں۔ وہ اعلامیۂ آزادی کے اہم مصنف تھے؛ نومبر 1912 میں کُل البانوی کانگریس نے انہیں عبوری حکومت کا سربراہ منتخب کیا اور وہ دسمبر 1912 سے جنوری 1914 میں استعفے تک البانیہ کے پہلے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور عثمانی خدمات

    اسماعیل کمال ولورہ میں 16 جنوری 1844 کو پیدا ہوئے — البانوی اور ترک مضامین 24 جنوری بتاتے ہیں — ایک معزز البانوی خاندان میں، جسے انگریزی مضمون البانوی مسلم خاندان کہتا ہے۔ یوانینا کی زوسیمایا اسکول میں انہوں نے عثمانی ترکی، یونانی، اطالوی اور فرانسیسی پر عبور حاصل کیا اور استنبول میں قانون کی تعلیم مکمل کی۔ 1 2 3

    1860 میں وہ عثمانی سول سروس میں داخل ہوئے، مدحت پاشا کے اصلاحی دھڑے کے قریبی ساتھی بنے اور بلقان کے کئی شہروں کے گورنر رہے۔ 1877 میں مدحت کی معزولی پر انہیں مغربی اناطولیہ جلاوطن کیا گیا، پھر واپس بلا کر بیروت کا گورنر بنایا گیا۔ 1892 میں انہوں نے سلطان کو بلقان کنفیڈریشن کا منصوبہ پیش کیا؛ بعد میں ان کی آزاد خیال تجاویز نے انہیں پھر سلطان کی ناراضی میں ڈال دیا اور انہیں طرابلس کا گورنر بنا کر بھیجا گیا، جسے وہ جلاوطنی سمجھتے تھے۔ 2

    جلاوطنی، اپوزیشن اور آزادی

    مئی 1900 میں وہ برطانوی سفیر کی کشتی کے ذریعے سلطنت سے نکل گئے اور آٹھ سال جلاوطنی میں رہے؛ پیرس میں 1902 کی عثمانی اپوزیشن کانگریس میں شریک ہوئے اور اس کی نئی مرکزی کمیٹی کے صدر بنے، اور 1902-1903 میں عبد الحمید دوم کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی میں حصہ لیا جو جہازوں کی خریداری ناکام ہونے پر ادھوری رہ گئی۔ 1908 کے انقلاب کے بعد وہ بیرات کے نائب بن کر پارلیمنٹ لوٹے، پھر ان کی توجہ مکمل طور پر البانوی قوم پرستی پر مرکوز ہو گئی؛ 1911 میں گریچہ یادداشت کے مصنفین میں شامل رہے اور 1912 کی بغاوت کی تیاری کی۔ 2

    28 نومبر 1912 کو انہوں نے ولورہ میں البانیہ کی آزادی کا اعلان کیا اور عبوری حکومت کے سربراہ بنے۔ جنوری 1914 میں، بکیر فکری سازش کے انکشاف کے بعد، انہوں نے اور ان کی کابینہ نے استعفیٰ دے دیا۔ جنگِ عظیم کے دوران وہ پیرس میں جلاوطن رہے اور اپنی یادداشتیں لکھیں؛ 1918 میں اٹلی گئے جہاں حکومت نے انہیں روک لیا، اور 26 جنوری 1919 کو پیروجا میں دل کے دورے سے وفات پائی — ویکی ڈیٹا 24 جنوری بتاتا ہے — بعد از وفات ان کی میت ولورہ لائی گئی اور وہاں کی بکتاشی تکیہ میں دفن کی گئی۔ 2 4 5

    دین و نسبت

    ان کے لیے کوئی دینی قدر درج نہیں کی گئی، کیونکہ کوئی دو آزاد ماخذ ان کا کوئی مکتب بیان نہیں کرتے: انگریزی مضمون انہیں «ایک البانوی مسلم خاندان» میں پیدا ہونا بتاتا ہے جو خاندانی پس منظر ہے، جرمن مضمون انہیں عمومی طور پر مسلم سیاست دان کہتا ہے، اور ویکی ڈیٹا کے ایک ہی بیان میں تین قدریں — اسلام، شیعہ اسلام اور بکتاشی سلسلہ — ایک ساتھ درج ہیں، جو ایک ہی ماخذ ہے اور اندرونی طور پر متضاد بھی۔ ولورہ کی بکتاشی تکیہ میں ان کی تدفین ان کی وفات کے بعد دوسروں کا انتظام تھا؛ وہ یہاں واقعے کے طور پر درج ہے، ان کی نسبت کی شہادت کے طور پر نہیں۔ البانیہ میں وہ «قوم کے باپ» کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں اور ان کی تصویر البانوی کرنسی نوٹوں پر چھپتی رہی ہے۔ 2 6 5 7

    حوالہ جات

    • انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 1379237897)؛ عربی ویکیپیڈیا «إسماعيل كمال» (نظرثانی 77005081)؛ اردو ویکیپیڈیا (نظرثانی 12094001)؛ البانوی ویکیپیڈیا (نظرثانی 3044799)؛ ترک ویکیپیڈیا (نظرثانی 37851181)؛ جرمن ویکیپیڈیا (نظرثانی 247236792)؛ ویکی ڈیٹا Q46932۔
    • درج شدہ اختلافات: یومِ پیدائش (16 جنوری / 24 جنوری)؛ یومِ وفات (26 جنوری / 24 جنوری)۔

    ماخذ

    1. Ismail Qemali — Urdu Wikipedia
    2. Ismail Qemali — English Wikipedia
    3. Ismail Qemali — Albanian Wikipedia
    4. Ismail Qemali — Turkish Wikipedia
    5. Ismail Qemali — Wikidata Q46932
    6. Ismail Qemali — German Wikipedia
    7. Ismail Qemali — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اسماعیل کمال”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ismail-qemali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔